MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

رب العزت واحد لاشریک کے بندے اور بندیاں ۔۔۔۔!!

0 236

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: جاوید صدیقی

- Advertisement -

اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوقات میں انسان کو سب سے زیادہ خوب صورت و خوب سیرت اور اشرف المخلوقات بنایا ھے۔ عالم ارواح میں ہر انسان کی روح پیدا کی گئی یہاں تک کہ روز محشر سے چند لمحے روئے زمین پر پیدا ھونے والے انسان کی لیکن جب محشر بپا ھوگا اس وقت عورتوں کے خوف و خشیت اور بھیانک منظر کے سبب رحم گر جائیں گے کیونکہ ان کی ارواحیں زمین کیلئے نہیں پیدا کی گئیں ھونگی۔ جب انسان اس روئے زمین میں آتا ھے تو وہ تمام کا تمام مسلمان پیدا ھوتا ھے اس کی روح عالم برزغ میں اللہ واحد لاشریک سے عہد و پیماں کرکے اترتی ھیں کہ اے رب ھم دنیا میں تیری ہی عبادت کریں گے تو ہی واحد لاشریک ھے اور تیرے محبوب ﷺ کے دین کو پھیلانے اور محبوب ﷺ کی اطاعت گزاری میں صرف کردیں گے اور پھر وہ روح ماں کے رحم میں بننے والے بچے کے جسم میں داخل کردی جاتی ھے قدرتی مراحل مکمل کرنے کے بعد رحم میں نو نارمل طور پر ماہ رہنے کے بعد دنیا میں آجاتی ھے۔ اللہ کی ہر نسل ہر قبیلہ ہر زبان ہر مذہب گوکہ جہاں کہیں بھی بندیاں ھوتی ھیں انہیں اس نعمت سے نوازتا ھے۔ نو ماہ کا جب بچہ بچی بولنا شروع کرتے ھیں تو اس کے ماں باپ اس کے منہ میں اپنے الفاظ داخل کرنا شروع کردیتے ھیں مسلمان اللہ اللہ کہلواتے ھیں ہندو کرشنا اور بھگوان عیسائی گاڈ یسوع مسیح اور اسی طرح دیگر گوکہ بچہ جب ایک دو سال میں چلنا پھرنا شروع کرتا ھے تو اسے اپنے اپنے مذہب کی جانب متوجہ کرایا جاتا ھے اس طرح بچہ بچی چار پانچ سال میں ہی مذہبی اعتبار سے اپنی شناخت بنا بیٹھتا ھے۔ یہ رب العزت کا کرشمہ ھے کہ دنیا بھر میں پھیلے ھوئے انسانوں اور انسانوں کے بچے بچیوں میں اپنے محبوب ﷺ دین محمدی کا پیغام پہنچادیتا ھے۔ آج دورِ جدید میں انسان تو انسان دیگر مخلوقات بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی و آرٹیفیشل ٹیکنالوجی سے علم سے آراستہ ھیں۔ میں اپنے اس بات کو کچھ اس طرح سمجھاتا چلوں کہ ھمارے بچپن میں ھمارے مدرسے میں ھمارے ساتھ جنات کے بچے بھی ناظرہ اور حفظ و قرآت پڑھنے آتے تھے اور ھم نے یہ بھی دیکھا دنیاوی اسکولز و کالجز میں بھی پڑھتے تھے۔ بات یہیں ختم نہیں ھوتی میں جس الیکٹرونک چینل میں عرصہ انیس سال کام کیا وہاں پر جنات کا بسیرا تھا اور ھے کئی فیمیلز رہائش پزیر ھیں انہیں مخصوص جگہ فراھم کردی گئیں ھیں لیکن ان کے بچے اور نوجوان کبھی کبھار رات کے دوسرے پہر کمروں راہداریوں میں آجاتے تھے اور کبھی کبھار مشینیں کھول کر استعمال کرتے رھیں ھیں یہ سب کچھ جیسے سیکھا گیا ھو اسے طرح کرتے ھیں کیونکہ حضرت انسان کو دیگر مخلوق بآسانی دیکھتے ھیں جبکہ انسان نگاھوں سے غائب کو نہیں دیکھ سکتے جبتکہ اللہ کی مرضی شامل نہ ھو۔ یہاں اللہ کے ان بندوں کو عقل و شعور سے اپنی زندگی دین محمدی ﷺ کے اصول و ضوابط پر استوار کرنی چاہئے جو مسلمان ھیں اور خاص طور پر جو صاحبِ اختیار و صاحبِ حکمران ھیں۔ افسوس صد افسوس اگر اس بابت ملکِ پاکستان پر نظر دوڑائیں تو ھمیں بھٹکے گمراہ بد کردار و مغرور ھیں جو دنیا پرستی میں ایک جانب اوندھے تو دوسری جانب ظلم و بربریت کو پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اللہ نے انہیں آزاد چھوڑ دیا کیونکہ انھوں نے دجال اور ابلیس کی راہ کو پسند کرلیا ھے ان بااختیار افسران یا حکمران کے شر و فساد سے بچنے کا ایک ہی راستہ ھے کہ پوری قوم صدقِ نیت سے توبہ کرتے ھوئے اپنے اعمال کو دینِ محمدی ﷺ پر عمل پیرا ھوجائیں اور منافقت و ریاکاری کو جڑ سے ختم کردیں اس یقین اور ایمان کیساتھ کہ اللہ قادر مطلق ھے وہی حالات بلٹنے والا اور بہتر کرنے والا ھے اور شفارش پیش کریں اللہ کے دربار میں حضور کائنات محمد مصطفیٰ ﷺ کے توسط و وسیلے سے تو یقینِ کامل ھے اللہ شفارش و درخواست کو قطعی رد نہیں کریگا کیونکہ وہ دعائیں قبولیت کی منازل پر پہنچتی ہی نہیں جن دعاؤں میں درود شریف اور وسیلہ رسول ﷺ شامل نہ ھوں ھم پاکستانی مسلمانوں کو بیدار ھونا پڑیگا اپنے ایمان کی بقاء کیلئے اور ملک کی سلامتی و بقاء کیلئے دعا ھے کہ اللہ مجھے ایمان اور تحفظ رسالت کے محافظ و سپاہی کی حیثیت سے شہادت نصیب فرمائے آمین یا رب اللعالمین ۔۔۔!!

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.