اسلام آباد (مسائل نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سینیٹر اعظم سواتی کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے سائبر برانچ اسلام آباد اور رانا ثناء اللہ نے مجھ پر تشدد نہیں کیا،رانا ثناء اللہ چھوٹے اداکار ہیں۔مجھ پر تشدد کی ذمہ دار حکومت نہیں۔ اعظم سواتی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میرے واقعہ پر پردہ نہیں ڈالنا چاہیے،عالمی فورم مجھ پر ہوئے تشدد سے پردہ اٹھائیں گے،سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ پمز ہسپتال کے ڈاکٹرز سے پوچھا جائے گا کہ تشدد کے نشانات کس کے کہنے پر مٹائے گئے،آئین سے انحراف کرنے والا قانون کا مجرم ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایف آئی اے نے کس کے کہنے پر میرے گھر پر چھاپہ مارا؟کس کے کہنے پر میرے اوپر ایف آئی آر کاٹی گئی؟ اپنا مقدمہ سپریم کورٹ کے سامنے رکھا،انصاف کا منتظر ہوں۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی نے دوران گرفتاری تشدد کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ سینیٹر اعظم سواتی نے ایف آئی اے کی گرفتاری کے دوران تشدد کئے جانے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور عدالت میں درخواست دائر کی ۔
- Advertisement -
درخواست میں کہا گیا کہ اعظم سواتی کو دورانِ گرفتاری تشدد کا نشانہ بنایا گیا،ریمانڈ کے دوران جج کے سامنے پیش ہونے پر تشدد سے آگاہ بھی کیا۔ جبکہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اعظم سواتی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ اعظم سواتی کو دوران حراست تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مجھے افسوس ہے عدلیہ نے اس پر ایکشن نہیں لیا۔اگر شہبازگل پر تشدد کا نوٹس لیا جاتا تو سواتی کے ساتھ ایسے نہ ہوتا۔
لوگوں کو اٹھا کر کہتے ہیں عمران خان کے خلاف بیان دیں، یہ ملک کو فائدہ نہیں پہنچا رہے بلکہ یہ ملک کے دشمن ہیں۔تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کو گزشتہ ہفتے اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا،اعظم سواتی کو ضمانت ملنے پر جیل سے رہا کیا گیا۔اسیشل جج سینٹرل راجہ آصف محمود نے 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض اعظم سواتی کی ضمانت منظور کی تھی۔