پاکستان, پرامن سیاحتی سرزمین
تحریر: کنول زہرا
سیاحت کا عالمی دن ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن کی ایگزیکٹو کونسل کی سفارشات پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کے بعد سے 1970 سے ہر سال 27 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد سیاحت کے فروغ، نئے سیاحتی مقامات کی تلاش، آثار قدیمہ کو محفوظ بنانے، سیاحوں کے لیے زیادہ سے زیادہ اور جدید سہولیات پیدا کرنے، سیاحوں کے تحفظ ، نئے سیاحتی مقامات تک آسان رسائی سمیت دیگر متعلقہ امور کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان کا شمار اپنے جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے دنیا کے ان خوش قسمت ممالک میں ہوتا ہے جہاں ایک جانب بلند و بالا پہاڑ ہیں تو دوسری جانب وسیع وعریض زرخیز میدان بھی موجود ہیں, پاکستان کی سیاحت کی صنعت نے حالیہ برسوں میں ہر طرف سے وسیع تر پذیرائی اور دلچسپی کے ساتھ بہت ترقی کی ہے۔ دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح پاک فوج کا پاکستان کی سیاحت میں بہتری کے لئے بھی بہترین کردار ادا کیا ہے, پاک فوج نے متنازعہ علاقوں میں کامیاب آپریشنز کرکے نہ صرف ملک کو دہشتگردی سے پاک کیا ہے بلکہ وطن عزیز کی سیاحت کی صنعت کو بھی فعال کیا ہے.
پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی)
نے ملک بھر میں 480 سیاحتی مقامات کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں سے 106 تاریخی لحاظ سے اہم ہیں، 120 مذہبی اور 26 مذہبی اور تاریخی ہیں۔ جن میں سے ایک کرتارپور کوریڈور ہے، جو 9 نومبر 2019 کو سکھ برادری کی مذہبی رسومات پابندی کے لیے کھولا گیا ہے, مذہبی سیاحتی مقام میں ننکانہ صاحب کا گوردوارہ سکھوں کے لیے ایک اور مقدس جگہ ہے, حکومت پاکستان نے 2019 میں وہاں سکھوں کی آسان تعلیم کے لیے یونیورسٹی کا قیام بھی یقینی بنایا, بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے صوبہ پنجاب کے شہر ٹیکسلا میں شہر خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وہاں کثیر تعداد میں بدھ مت آباد ہیں۔ سادھ بیلو, ایک مندر ہے جو صوبہ سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر میں دریائے سندھ پر واقع ہے۔ مقامی اور سرحد پار ہندو برادری اس مندر میں باقاعدگی سے اپنے مذہبی تہوار بناتے ہیں۔
2020
میں پاکستان دس بہترین سیاحتی مقامات کی فہرست نمایاں ہوا جبکہ اسی سال پاکستان کو تعطیلات گزارنے کے لئے نمبر ون ملک قرار دیا گیا.
جہاں پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی دنیا میں دھوم ہے وہیں پاکستان کے تاریخی ورثے بھی کسی سے کم نہیں ہیں, ہڑپہ اور موہنجوداڑو سے لے کر لاہور کے شاہی قلعے تک قدیم تہذیب کا منہ بولتا ثبوت ہیں,اس کے علاوہ صوبہ سندھ کی قدیم تہذیب ، مکلی قبرستان اور ٹھٹھہ کے تاریخی مقامات بھی کسی شاہکار سے کم نہیں ہیں, کہا جاتا ہے کہ صدیاں قبل پاکستان کی سر زمین پر مشہور محقق و سائنسدان ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی نے زمین کی پیمائش کی تھی,کھیل اور ایڈونچر ٹورازم بھی سیاحت کی بہترین عکاسی ہیں, پاکستان میں کرکٹ اور چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی کھیلوں کی سیاحت کا ایک اور بڑھتا ہوا شعبہ ہے جسے مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خصوصی کوششوں کی وجہ سے 2015 کے بعد سے بین الاقوامی کرکٹ ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کرنا شروع کر دیا، کھیلوں کی سیاحت کے فروغ کے لئے گلگت بلتستان میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں 23 سے 25 ستمبر 2022 تک ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہونے والی ہے۔
پاکستان کوہ پیمائی کے لیے سب سے اوپر کا مقام ہے کیونکہ دنیا کے 8,000 میٹر سے اونچے 14 پہاڑوں میں سے پانچ پاکستان میں ہیں, جس میں دنیا کا دوسرا بلند ترین چوٹی یعنی کے ٹو بھی شامل ہے، جنوری 2021 میں، نیپالی کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم نے کامیابی کے ساتھ کے ٹو سر کیا, بعد ازاں انہوں نے پاکستان کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا،
23 جنوری 2022 سے 5 روز تک بالائی ہنزہ میں آئس سپورٹس مقابلے منعقد ہوئے، جن میں آئس ہاکی، آئس کلائمبنگ، ماؤنٹین سائیکلنگ اور دیگر موسم سرما کے کھیل شامل تھے۔ جنوری 2022 میں وادی ہنزہ میں سالانہ قراقرم ونٹرلوڈز اسپورٹس فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا جس میں ہاکی، آئس کلائمبنگ، ماؤنٹین سائیکلنگ اور گلیشیئر واک سمیت مختلف کھیلوں کے مقابلے شامل تھے,آئی ایس پی آر اور افینیٹی کے مشترکہ تعاون سے وادی شوگراں اور ناران میں 16 سے 22 فروری 2020کے دوران ہیلی سکئی کا ایونٹ کامیابی سے منعقد کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایونٹ کا مقصد ملکی سیاحت کا فروغ اور وطن کی خوبصورتی کا اجاگر کرنا تھا، مقابلوں میں دنیا بھر سے 60 سے زائد غیر ملکی سکیئرز نے حصہ لیا، غیرملکی مہمانوں کی بہت بڑی تعداد بھی سکیئنگ سے محظوظ ہونے کیلئے وادی پہنچی جن میں امریکہ، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، سپین، جرمنی، فرانس، آسٹریلیا اور اٹلی کے شائقین شامل تھے ، ان شرکاء میں سابق آسٹریلوی وزیر خارجہ جولی عزابیل بشپ،سپین کے سابق وزیراعظم جوز ماریہ الفریڈو،اٹلی کے سابق وزیراعظم میٹئو رنزی اور انگلش کرکٹر ڈیوڈ گاور نمایاں تھے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی سکیئنگ کیلئے آنے والے گروپ کی ملاقات ہوئی جبکہ شرکاء نے آئی ایس پی آرکے ہیڈ کوارٹرز کا بھی دورہ کیا، جہاں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے شرکاء کو پاکستان میں انسداد دہشتگردی کے کامیاب آپریشنز کے بعد کھیلوں اور سیاحت کے فروغ کے حوالے سے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔
شندور پولو میلہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کا مشترکہ میلہ ہے جو ہر سال 7 سے 9 جولائی تک منایا جاتا ہے۔ یہ میلہ دنیا کے بلند ترین پولو گراونڈ شندور میں منایا جاتا ہے۔ اس میلے میں چترال اور گلگت بلتستان سے پولو کے مایہ ناز کھلاڑی شرکت کرتے ہیں, یہ فسٹیول 3,700 میٹر کی بلندی پر پولو گراؤنڈ میں منایا جاتا ہے۔
ویزہ کے عمل میں آسانی کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی سیاحت میں کافی اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں بین الاقوامی بلاگرز کی آمد ہوئی ہے۔ پاکستان کی سیاحت کی صنعت کے لیے سب سے اہم بات اکتوبر 2019 میں برطانوی شاہی جوڑے کا دورہ تھا جس نے دیگر علاقوں کے علاوہ وادی کالاش کا بھی دورہ کیا۔ اکتوبر 2019 میں، ایک مشہور پولش ٹریول بلاگر، ایوا زو بیک نے کہا کہ پاکستان دنیا کا نمبر 1 سیاحتی مقام بن سکتا ہے۔” 2020 میں، اردن سے تعلق رکھنے والے ایک ورلڈ ٹریول بلاگر ابن حطوطہ نے پاکستان میں اپنے تجربے کے بارے میں یہ کہتے ہوئے بات کی کہ میں نے پاکستان دنیا کی بہترین مہمان نواز ملک ہے, ماضی میں دہشت گردی اور سیکورٹی خدشات نے پاکستان میں سیاحت پر شدید اثر ڈالا تھا ، لیکن اب وطن عزیز سیاحت کے لیے ایک پرامن اور محفوظ مقام بن گیا ہے۔
[…] آباد (مسائل نیوز)جرمنی سے ورلڈ ٹور پر نکل کر پاکستان پہنچنے والی سیاح پاکستان کی خوبصورتی […]