سیلاب زدگان کی آہ و بقا اور ارباب اختیار کی بے حسی
اس وقت سیلاب کو آئے مہینہ ہو چکا ہے ، اور میں بہت سے احباب کو جانتا ہوں کہ مہینے سے ہی مصروف ہیں ، اور پچھلے دو ہفتوں سے تو ہر طرف ہنگامہ برپا ہے اور اندرون سندھ سے جنوبی پنجاب سب ڈوب گیا ، بلوچستان اسی فیصد پانی میں ہے اور آج خیبرپختونخوا سے تباہی کی خبریں مسلسل آ رہی ہیں ۔
معاملہ یہ ہوا کہ پچھلے چار چھے دن سے ہر زبان پر ان سیاسی پارٹیوں کے لیے صاف طور پر لعنتیں تھیں ۔۔
کہ منحوسو!
خون پینے والی ڈائنوں!
ملک کی رگوں سے خون تو کیا گودا بھی نکال کر کھا گئے ہو۔۔۔۔۔۔
اس عذاب الیم میں اگر تم کو کچھ فلاحی کام کی توفیق نہیں ہے تو کم از کم یہ جانوروں کی طرح لڑنا ہی کچھ دن کے لیے روک دو ۔۔۔۔لیکن یقین کیجیے تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کا ضمیر واقعی مر چکا تھا ۔۔۔۔ کل جب ہر طرف لعنت ملامت کا شور بلند ہوا ۔۔۔تو مجبورا ۔۔۔۔۔۔یہ نکلے ہیں اور چندوں کی اپیلیں شروع کی ہیں ۔۔۔
جی ہاں !
میں کھل کر کہتا ہوں کہ یہ ڈریکولا مجبوراً نکلے ہیں ۔۔۔
ان ڈائنوں کو پریشانی لاحق ہو گئی ہو گی کہ الیکشن میں لاشوں سے ووٹ کہاں ملیں گے ۔۔۔۔
اور ممکن ہے کوئی کہے کہ آپ تلخ ہو رہے ہیں ۔۔تو بھائی صاف بات ہے میں تلخ ہوں اور اگر میری بات جھوٹ ہے تو ٹوک دیجیے ۔۔۔۔۔
کیا مہینہ بھر سے لوگ ڈوب نہیں رہے تھے ، اور کیا ہم مسلسل لکھ اور منتیں نہیں کر رہے تھے کہ خدا کے لیے کچھ دم لے لو ۔۔۔۔۔۔۔
دو دن سے میں دیکھ رہا تھا کہ تحریک انصاف کے کچھ ہمدرد قلم کار دوست بھی خان کو کہنے لگے تھے کہ جناب سیلاب زدگان کے لئے نکلیں ۔۔۔۔اور حکومت کو تو مسلسل لعنت ملامت ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔
احباب !
چاہے کسی کو بری لگے اور چاہے اچھی ۔۔۔۔۔میں صاف طور پر کہتا ہوں کہ یہ سیاسی پارٹیاں فنڈ جمع کر کے بھی دیانت سے کام نہ لیں گی۔ ۔۔۔۔جو پچھلے تیس برس سے ایک دوسرے کو مسلسل چور چور کہہ رہے ہیں ، جو مسلسل ایک دوسرے کے گھروں کے باہر کھڑے ہو کر چور اور ڈاکو کا شور کرتے ہیں وہ ۔۔۔۔۔۔کیونکر ایمانداری سے یہ چندہ مظلوموں کو پہنچائیں گے ؟
یہ تو وہ ہیں جو زلزلے کی امداد کھا گئے اور اب یہ آکٹوپس ان سیلاب زدگان کی باہری منڈی میں قیمت لگوائیں گے اور مال کھائیں گے ۔۔۔
ان بے حس ارباب اختیار کی بے حسی کا اندازہ لگا لیں 26 اگست 2022 بروز جمعہ کو خیبرپختونخوا کے ضلع لوئر کوہستان ڈوبیر سناگئی میں سیلاب کے دوران پانچ نوجوان خوبصورت بھائی پھنس گئے وہ پانچ گھنٹے تک ایک چٹان پر کھڑے روتے اور بے بس رہے مقامی لوگ رسیاں اور شہتیر لانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن ندی میں اس قدر سیلاب آیا کہ نہ کوئی امداد ان تک پہنچ سکی اور نہ ہی وہ رسی کو پکڑ سکے۔ وہ چیخ چیخ کر مدد کے لیے پکار رہے تھے۔ آس پاس کے مقامی لوگ بے بس تھے اور کسی معجزے کی دعا مانگ رہے تھے! تاہم مقامی لوگوں نے سوشل میڈیا پر یہ خبر پھیلائی لیکن مین اسٹریم پاکستان اور صوبہ مسٹر عمران خان کو کور کرنے میں مصروف تھے جنہیں جج کے سامنے پیش ہونا تھا محمود خان اپنے باس کے دفاع میں مصروف تھے۔ پانچ گھنٹے میں پشاور سے ایک ہیلی کاپٹر ایک بار اس علاقے میں نہیں آیا لیکن کیوں، یہ بڑے لوگوں کے لیے جو خدا کے بندے ہیں اور کوئی بھی نہیں۔ اور کوئی بھی نہیں کیا بیکار شہری تھے کیا وہ پہاڑیوں میں رہتے ہیں! کیا آپ ان پانچ گھنٹوں کے درد کو محسوس کر سکتے ہیں جو چٹان پر پھسلنے کے انتظار میں گزرے؟ کیا آپ خاندان کے دکھ سمجھ سکتے ہیں، کیا آپ ان بے بس لوگوں کے ساتھ صرف ہمدردی کا ڈرامہ رچائیں گے ! میں کہوں گا کہ ریاست ان کی موت کی ذمہ دار ہے جس کے وہ شہری تھے
ان بے حس اور بے مروت حکمرانوں سے ہمیں اس سے زیادہ توقع رکھنی بھی نہیں چاہیے۔ قیامت کی اس گھڑی میں مجھے کچھ اور لوگوں کی بھی تلاش ہے۔
ایسے میں مجھے تلاش ہے کچھ خانقاہوں، درباروں اور آستانوں کے گدی نشینوں کی جو سسکتی امت کے لیے امدادی لنگر خانے لیکر امت کو بچانے پہنچ جائیں،
مجھے تلاش ہے ایسے نبی کے غلاموں کی حسین متوالوں کی جو دودھ و پانی کی سبیلیں لگا کر اس سسکتی ڈوبتی امت کو بچانے پہنچ سکیں،
مجھے تلاش ہے حقوق نسواں اور آزادی مارچ کی آنٹیوں کی جو اپنے میک اپ کے خرچے سے ان بہتی ڈوبتی پاکستانی بیٹیوں کو کھانا اور چھت فراہم کرسکیں،
مجھے تلاش ہے حقوق کے چمپیئن کچھ موبتی مافیا کی شاید وہ کفن لیکر بے گور کفن پڑے لاشوں کو ڈھونڈ کر ان کو دفنانے نکل سکیں،
مجھے تلاش ہے پاکستان کے تمام صوبائی اسمبلیوں کے ممبران سمیت نیشنل اسمبلی اور سینیٹ کے تمام ممبران کی جو ووٹر کو خریدنے کی بجائے ووٹرز کو بچا سکیں،
مجھے تلاش ہے انسانیت کے علمبرداروں کی جو انسانوں کو ڈوبنے سے بچا سکیں،
مجھے تلاش ہے تمام مشہور برانڈز کی جو ٹی وی چینلز کو کروڑوں دینے کی بجائے ان ڈوبتے انسانوں کو کھانا کھلا کر چھت فراہم کرکے اپنی ایڈورٹائزمنٹ کرسکیں،
مجھے تلاش ہے تمام ٹی چینلز کے مالکان کی اپنی ایک دن کی نشریات سے حاصل ہونے والے کروڑوں روپے ڈوبتے انسانوں کے لیے وقف کرسکیں،
مجھے تلاش ہے تمام مشہور برانڈز تعلیمی اداروں کے مالکان کی جو اپنے تعلیمی اداروں سے سیلاب متاثرین کے لیے ایک ہفتے کے لیے رضا کار بھیج کر طلبا کو انسانیت کا حقیقی درد سکھا سکیں،
یہ معروف گمشدہ مہرے آپ کو کہیں ملیں تو ان کے ضمیروں کو جگانے کی کوشش کیجئے گا،
یہی معروف مہرے میرے حسین ملک کی 80 فی صد فیصد دولت پر قابض ہیں۔
[…] آباد(مسائل نیوز) اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سیلاب زدگان کیلئے 25 ہزار روپے کے امدادی کیش کی فراہمی کی منظوری دے […]