ٹریفک حاڈثات میں قصور وار صرف ڈرائیور نہیں
تحریر،وارث دیناری
- Advertisement -
20نومبر کو دنیا بھر میں ٹریفک کاعالمی دن میں منایا جاتا ہے۔ اس دن ٹریفک حادثات میں جا ں بحق اور زخمی ہونے والوں کی یاد منائی جاتی ہے اس دن کا مقصد ٹریفک حادثات کی وجوہات اور غلطیوں سے سبق سیکھنا بھی ہے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر چارمنٹ میں ایک شخص ٹریفک حادثے کا شکار ہوکر زندگی کی بازی ہارجاتا ہے یا پھر زخمی ہوکر ہمیشہ کیلئے معذور بن جاتا ہے بدقسمتی سے پاکستان ایشیا میں سب سے زیادہ ٹریفک حادثات کا شکار ہونے والا ملک بن گیا ہے۔ان حادثات میں بہت ہی قیمتیں جانیں چلی گئی ہیں جن میں کئی نامور شخصیات، سیاست دان اعلیٰ سرکاری آفیسران فوجی جوا ن شامل ہیں جومعمولی غفلت و لاپرواہی کی نظر ہوتے آرہے ہیں۔ہم نے دیکھا ہے جب بھی کوئی ایکسیڈنٹ ہوتا ہے تو اس کو ڈرائیور کی غلطی کہہ کر جان چھوڑائی جاتی ہے۔یو ں کئی قیمتیں جانیں ضائع ہونے کے باوجود اس طرح کے حادثوں کو اتفاقیہ قرار دے کر ذمہ دار سزا سے بچ جاتے ہیں میں مانتا ہوں ڈرائیور کی غلطی تو ہے ہی لیکن اس میں دیگر اداروں کی بھی غفلت شامل ہے سب سے پہلے ٹریفک پولیس،ہائی وے پولیس،این ایچ اے،شہری اور ضلعی انتظامیہ،محکمہ مواصلات و تعمیرات۔سمیت دیگر محکموں کی بھی غفلت شامل ہے۔اگر یہاں میں یہ سوال کرو ں کہ کیاہماری ٹریفک پولیس اپنے فرائض مکمل ایمانداری سے انجام دے رہے ہیں تو میں سمجھتا ہوں اکثریت کا جواب نفی میں ہی ہوگا یہی تاثر ہائی پولیس کے بارے میں ہے تاہم موٹر وئے پولیس کی کارکردگئی سے 99فیصد پاکستانی مطمئن ہیں۔کیونکہ موٹر وئے پولیس اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سر انجام دینے میں مصروف ہے۔یہی وجہ ہے کہ موٹروے پر حادثات کی شرح کم ہے کیونکہ موٹر وے پر گاڑی چلانے والے بخوبی جانتے ہیں یہاں پر کسی کے ساتھ کوئی ریاعت نہیں۔لہذا لوگ ٹریفک رولز کو فالو کرتے ہیں ۔دوسری جانب ٹریفک پولیس اور ہائی وے پولیس والوں کو بھی گاڑیوں کو تو باقاعدگی کے ساتھ روکتے دیکھتے تو ہیں لیکن پھرنہ جانے ان کے ساتھ کیا رازونیازکی باتیں کرکے چھوڑ دیتے ہیں۔ اس طرح کے عمل سے تو پھر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں۔این ایچ والے جگہ جگہ ٹول پلازہ قائم کر لوگوں سے ٹیکس تو وصول کرتے ہیں لیکن اگر کہیں سے سڑک ٹوٹ گئی ہے اس میں گڑھے پڑ گئے ہوں بے احتیاطی سے کسی وقت کوئی حادثہ رونما ہوسکتا ہے اس جانب کسی کی توجہ نہیں ان کو غرض ہے تو انکم سے بے شک سڑکیں جس حال میں ہوں جتنے بھی لوگوں کی جانیں ضائع ہوں ان کا کیا جائے یہ لوگ سوتے رہتے ہیں۔ جب تک کوئی بڑاحادثہ پیش نہ آئے۔ پھرتمام ادارے ایکشن میں آجاتے ہیں۔ اسی طرح کی غفلت لاپروہی ہر ڈیپارٹمنٹ میں ہر جگہ نظر آئے گئی ایک ہفتہ قبل نیشنل ہائی وے پر سیون کے قریب جام شورو سیون روڈ پر وین حادثے میں خواتین کمسن بچوں سمیت 21افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے بتایا جاتا ہے سیلابی پانی کو راستہ دینے کیلئے محکمہ انہار اور مقامی انتظامیہ نے روڈ پر کئی کٹ لگائے تھے۔رات کے اندھیرے میں کوئی اشارہ نہ ہونے کی وجہ سے ڈرائیور کو کٹ نظر نہیں آیا جس کی وجہ سے گاڑی پانی میں جاگری یہ ایک واقعہ نہیں ہے سینکڑوں واقعات مختلف محکموں کی غفلت لاپروہی کی بدولت آئے روز ہوتے رہتے ہیں۔میرے شہر اوستہ محمد سے چند کلومیٹر دور سندھ کے باڈر سیف اللہ کینال کے مقام روڈ پر بہت ہی خطرناک موڑ ہوا کرتا تھا کئی بار توجہ دلانے کے باوجود بھی موڑ کو کاٹ کر اس وقت تک سیدھانہیں کیا گیا۔جب بارتیوں سے بھری بس موڑکاٹے ہوئے کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں 26افرادجاں بحق جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوگئے تھے پھر حکومت کو خیال آیا موڑ کو سیدھا کرنے کا اس طرح کئی پلیں کمزور ہوکر ان میں گہرے گڑھے پڑ جاتے ہیں ان کے پلر زکمزور ہو کر گر نہ جائیں اس وقت تک ان کی مرمت نہیں کئی جاتی ہے جب تک کوئی حادثہ پیش نہ آئے۔اگر دیکھا جائے تو محکمہ مواصلات و تعمیرات میں سڑکوں کی دیکھ بھال کیلئے سینکڑوں کی تعداد میں ملازمین بھرتی کر رکھے ہیں تاکہ سڑکوں کی دیکھ بھال کریں سڑکوں پر کہیں پر کوئی گڑھے پڑ جائیں تو ان کو فوری طور پر کرکے گہرا ہونے سے بچائیں۔آپ پورے ملک کے سڑکوں کا وزٹ کریں شاذونادرہی کام کرتے یہ مخلوق آپ کو نظر آئیں گئے۔کوئی دن ایسا نہیں گزرتا ہے جس دن کسی جان لیو حادثے کی خبر نہ آئی ہو بڑے شہروں میں زیادہ تر تیز رفتار ڈمپر واٹر ٹینکر سے لوگوں کے کچلنے جانے کی خبریں آتی ہیں جبکہ چھوٹے شہروں جیسے کہ میرا شہر اوستہ محمد یہاں پر تیز رفتار ٹریکٹر چنگ چی رکشے اور ڈاٹسن موت کے فرشتے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں جبکہ موٹر سائیکل والے بھی ان میں شامل ہیں گو کہ موٹر سائیکل والے خود بھی اس کا شکار بن جاتے ہیں۔یہاں پر سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ لوڈ کے ساتھ جس تیز رفتاری کے ساتھ ٹریکٹر دوڑاتے ہیں اس رفتار میں ان کے بریک کام نہیں کرتے ہیں اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے مٹی اٹھانے والے اکثر ٹریکٹروں کے سامنے کے دو لائٹ کے بجائے ایک لائٹ کام کررہا ہوتا ہے سامنے سے آنے والی سواری موٹرسائیکل سمجھ کر کراسنگ کی کوشش کرتا ہے اسی طرح شہر میں بیشتر ڈاٹسن بھی ایک آنکھ والے ہیں یعنی دوکی بجائے ایک لائٹ پر گزارا کرتے ہیں چنگ چی رکشے بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔آئے روز یہ کسی ماں کی گود اجاڑنے کسی بہن کی بھائی کسی گھر کا واحد کفیل،یا کوئی معصوم بچہ ان کی لاپروہی کا شکار بنتے رہتے ہیں۔شہر کے سڑکوں پر یہ خونی کھیل ایک عرصے سے جاری ہے۔سوچنے کی بات ہے اس طرح لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کو کھولی چھٹی کس نے کیوں دے رکھی ہے ظاہر جواب ہے پولیس چاہئے وہ عام پولیس ہو یا ٹریفک پولیس۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں ٹریفک حادثات کو اتفاقیہ قرار دے کرحادثے کے شکار افراد کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ بس اللہ کی طرف سے یہ ہونا تھا سو ہوگیا بس ایکسیڈنٹ جان کر فائل بند کر دیا جاتا ہے۔ اگر دیکھا جائے بیشتر ایکسڈنٹ غفلت کا نتیجہ ہوتے ہیں لیکن ہم اس کو اتفاقیہ قراردیتے ہیں جو کہ غلط ہے۔ہمارے یہاں جو حادثات ہوتے ہیں ان میں زیادہ تر ایکسیڈنٹ کے زمرے میں نہیں آتے ہیں لاپرواہی اور غفلت کا نتیجہ ہوتے ہیں چاہئے وہ روڈ پر گڑہوں کی وجہ سے ہو یا ٹوٹی ہوئی پل یا خطرناک موڑ کاٹتے ہوئے جاتے ہیں ان حادثات کا کئی ادارے ذمہ دار ہیں تاہم ٹریفک پولیس کی ذمہ داری کچھ زیادہ ہے۔کیونکہ گاڑیوں کی فٹ نس ڈرائیونگ لائسنس وغیرہ کی جانچ پڑتال کرنا ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کرانا ٹریفک پولیس کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ مجھے بہت اچھی طرح یادہے سائیکل موٹرسائیکل تودورکی بات ہے اس وقت گدھا رگاڑیوں کے پیچھے ایک سرخ رنگ کی چمک پٹی لگائی جاتی تھی جو رات کو دورسے نظر آجاتی تھی اب تو یہ حال ہے ہر قسم کی ٹرنسپورٹ میں آپ کو مکمل لائٹیں اور اشارے نہیں ملیں گئے باقی موٹرسائیکل رکشوں ٹریکٹرز کی تو بات ہی نہ کریں یہ تو مادر پدر قانون سے آزاد ہیں ضرورت اس امرکی ہے لوگوں کی قیمتی جانوں کی حفاظت کیلئے ٹریفک پولیس ہائی وے پولیس سمیت سٹی اورڈسٹرکٹ انتظامیہ ہنگامی بنیادوں پر روڈ سیفٹی کے لئے اقدامات کریں موٹروے پولیس کی طرح ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں کوئی ریاعت نہیں دی جائے گاڑیوں کی فٹنس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے ٹریفک کے اصولوں کی پاسداری نہ کرنے والوں پر ترتیب وار بھاری جرمانوں کے ساتھ سخت سزا بیں بھی دی جائیں نیز پولیس والے ثبوت کے طور پر چالان کرنے والے گاڑی کی فٹنس یا غلط ڈرائیورنگ کی ویڈیو بھی اپنے پاس رکھیں تاکہ کسی کے ساتھ زیادتی کا اندیشہ نہ رہے اس عمل کا یہ فائدہ ہوگا لوگ بھاری جرمانوں اور سزا کی وجہ سے ٹریفک قوانین کی پاسداری کرنے پر مجبور ہو جائیں گے جرمانوں کی بدولت گورنمنٹ کو ایک خطیر آمدنی بھی ہوگئ جس سے مزید بہتر اصلاحات کئے جاسکتے ہیں اگر اس طرح نہیں کیا گیا تو روز یہ حادثے ہوتے رہیں گے لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں یونہی اٹھاتے رہیں گے آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا