لیگی ارکان اسمبلی کو معطل کرنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
لاہور (مسائل نیوز) لیگی ارکان اسمبلی کو معطل کرنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا،اسد اللہ خان ایڈووکیٹ کی وساطت سے لیگی ارکان کو معطل کرنے کی درخواست دائر کی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر اسمبلی رکنیت معطل کی گئی۔
سیاسی بنیادوں پر لیگی ارکان کو انتقام نشانہ بنایا گیا۔ درخواست میں کہا گیا کہ مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی ہنگامہ آرائی کا الزام عائد کیا گیا۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ ارکان اسمبلی کی رکنیت معطلی کا نوٹیفکیشن معطل کالعدم قرار دیا جائے۔ یاد رہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے ن لیگ کے 18 ارکان صوبائی اسمبلی کو معطل کیا۔
ارکان پر ہفتے کو پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی کا الزام ہے۔
- Advertisement -
اسپیکر نے ارکان کے 15 نشستوں کے لیے داخلے پر پابندی عائد کی۔اسمبلی سیکرٹریٹ نے ارکان کی رکنیت معطلی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کے خلاف فیصلہ آنے کی مناسبت سے کلائی پر باندھنے والی گھڑیاں لہرا لہرا کر گھڑی چور کے نعرے لگاتے رہے ۔ اپوزیشن کے مرد و خواتین اراکین ایوان میں کلائی پر باندھنے والی گھڑیاں لہرا کر لہر اکے گھڑی چور گھڑی کے نعرے لگاتے رہے ۔
اپوزیشن اراکین ہاتھوں میں تبدیلی خان سرٹیفائیڈ چور ، مک گیا تیرا شو نیازی گو نیازی گو نیازی سمیت دیگر مخالف نعروں پر مبنی پلے کارڈز بھی لہراتے رہے ۔جبکہ سابق وزیر اعلٰی پنجاب حمزہ شہباز نے مسلم لیگ ن کے ارکان کی معطلی پر صوبائی حکومت آڑے ہاتھوں لیا،انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے اراکین پنجاب اسمبلی کی معطلی اور ایوان میں داخلے پر پابندی شرمناک فعل ہے۔ حمزہ شہباز نے اپنے بیان میں کہا کہ احتجاج کا بنیادی حق استعمال کرنے والے اراکین کیخلاف کارروائی ڈکٹیٹر شپ اور سیاسی انتقامی کارروائیوں کا مظہر ہے۔