اے مسلمان ذرا خود کو پہچان تو کیا تھا کیا ھوگیا۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
- Advertisement -
اسلام کی روشنی اور رشد و ہدایت پر چلنے والوں نے دنیا پر عالیشان حکومت کیں۔ خان آصف مرحوم اور مہر وجدانی مرحومین ایک بہت بڑے شاعر ادیب لکھاری تھے میری خوش قسمتی کہ ان دونوں عظیم شخصیات سے نہ صرف سالہا سال دوستی محبت و پیار کا رشتہ قائم رکھا بلکہ ان سے سیکھنے سمجھنے کا بھرپور موقع بھی میسر آیا ان کی شاعری ھوں یا کالم کمال درجہ تاثیر اور کیفیات سمیٹے ھوتے تھے۔ گویا چلتے پھرتے انسائیکلوپیڈیا تھے۔ ان شخصیات کا کہنا تھا کہ مذہب اسلام کے احکامات کی پیروی کے بغیر ھم زندگی کے کسی بھی شعبہ کسی بھی پہلوؤں سے کامیاب نہیں ھوسکتے یہی وجہ ھے کہ ان کی زبان پے عام تھا کہ غلام مصطفیٰ ﷺ میں تھے تو دنیا پے حکومت کی، غلام مصطفیٰ ﷺ کو چھوڑا تو دنیا کی غلامی کی۔۔۔۔ معزز قارئین !! آج ھم دنیا میں کہاں کھڑے ھیں یہ مجھ سمیت ہر ایک اچھی طرح جانتا ھے۔ مجھ سمیت دعویٰ کرنے والے بیشمار غلامی کا دم بھرتے نظر آئیں گے مگر کیا حقیقت میں عملی طور پر ایسے ہیں یقیناً نفی میں جواب آئیگا اسی لیئے ھم دنیا کے غلام بن کر رسوا ذلیل و خوار مارے مارے پھر رھے ہیں۔ ایک وہ تھے جنھوں نے دنیا کے تین براعظموں پر ایسی حکومت کی کہ عدل و انصاف صاف شفاف جھلکتا تھا اور خود کا رہن سہن عام انسانوں سے بھی کم تر تھا کیونکہ وہ ایمان کی انتہائی بلندیوں پر فائز تھے ان کا پیغمبر اور نبی ﷺ وہی جو ھمارے ہیں۔ ان کی الہامی کتاب قرآن وہی جو ھماری ھے ان کی شریعت وہی جو ھماری ھے فرق یہ ھے کہ وہ سچے تھے ھم جھوٹے ہیں وہ ایماندار تھے ھم بے ایمان ھیں وہ دیانتدار تھے ھم خائن ھیں وہ منصف تھے ھم غیر منصف ہیں وہ متقی و پرہیزگار تھے ھم اس سے نابلد ھیں وہ صابر و شاکر تھے ھم بے صبرے اور ناشکرے ھیں وہ مکمل شریعت پر عمل پیرا تھے ھم شریعت سے دور بھاگتے ہیں اور ھم انتہائی غلیظ منافق بھی ھیں اے مسلمان ذرا خود کو پہچان تو کیا تھا کیا ھوگیا؟؟ آئیے آپ کو احساس دلاتا ھوں کہ دین دار کیسے ھوتے ہیں۔۔ثمرقند سے طویل سفر طے کرکے آنے والا قاصد، سلطنت اسلامیہ کے حکمران سے ملنا چاہتا تھا۔ اس کے پاس ایک خط تھا جس میں غیر مسلم پادری نے مسلمان سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کی شکایت کی تھی۔ پادری نے لکھا “ہم نے سنا تھا کہ مسلمان جنگ اور حملے سے پہلے قبول اسلام کی دعوت دیتے ہیں اگر دعوت قبول نہ کی جائے تو جزیہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر کوئی ان دونوں شرائط کو قبول کرنے سے انکار کرے تو جنگ کیلئے تیار ہوجاتے ہیں مگر ہمارے ساتھ ایسا نہیں کیا گیااور اچانک حملہ کرکے ہمیں مفتوح کر لیا گیا ہے۔ یہ خط ثمرقند کے سب سے بڑے پادری نے اسلامی سلطنت کے فرماں روا حضرت عمر بن عبد العزیز ؓ کے نام لکھا تھا۔ دمشق کے لوگوں سے شہنشاہ وقت کی قیام گاہ کا معلوم کرتے کرتے وہ قاصد ایک ایسے گھر جا پہنچا کہ جو انتہائی معمولی اور خستہ حالت میں تھا۔ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کررہا تھا اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھاکر اُسے دے رہی تھی۔جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے اُسے راستہ بتایا تھا۔اُس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے اسلامی سلطنت کے بادشاہ کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اِس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔لوگوں نے کہا،ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم وقت حضرت عمر بن عبد العزیز ؓ کا گھر ہے۔ قاصد پر مایوسی چھا گئی اور بے دلی سے دوبارہ اُسی گھرپر جا کر دستک دی، جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کررہا تھا وہی اندر سے نمودار ہوا۔ قاصد نے اپنا تعارف کرایا اور خط حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ کو دے دیا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ نے خط پڑھ کر اُسی خط کی پشت پر لکھا:
حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام؛ ایک قاضی کا تقرر کرو جو پادری کی شکایت سنے۔ مہر لگا کر خط واپس قاصد کو دیدیا۔ سمرقند لوٹ کر قاصد نے خط کا جواب اور ملاقات کا احوال جب پادری کو سنایا، تو پادری پر بھی مایوسی چھا گئی اس نے سوچا کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اُس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا؟ اُنہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا مگر کوئی اور راستہ بھی نہ تھا چنانچہ خط لیکر ڈرتے ڈرتے امیر لشکر اور حاکم ثمرقند قتیبہ بن مسلم کے پاس پہنچے۔ قتیبہ نے خط پڑھتے ہی فورا ایک قاضی کا تعین کردیا جو اس کے اپنے خلاف سمر قندیوں کی شکایت سن سکے۔قاضی نے پادری سے پوچھا، کیا دعویٰ ہے تمہارا؟ پادری نے کہا: قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا، نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔ قاضی نے قتیبہ کو دیکھ کر پوچھا، کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں؟قتیبہ نے کہا: قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے۔ سمر قند ایک عظیم ملک تھا، اس کے قرب و جوار کے کم تر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے، بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔ سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے، ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمر قند پر قبضہ کرلیا۔ قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا: قتیبہ میری بات کا جواب دو، تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی؟ قتیبہ نے کہا: نہیں قاضی صاحب، میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کردیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔ قاضی نے کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔ اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔ میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور ان کے عہدہ داران بمع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک اور مال غنیمت چھوڑ کر سمر قند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمر قند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔ اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہو تو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل یقین تھاچند گھنٹوں کے اندر ہی مسلمانوں کا عظیم لشکر قافلہ در قافلہ شہر کو چھوڑ کے جاچکا تھا۔ ثمرقندیوں نے اپنی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا کہ جب طاقتور فاتح قوم کمزور مفتوح قوم کو یوں دوبارہ آزادی بخش دے ڈھلتے سورج کی روشنی میں لوگ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے کہ یہ کیسا مذہب اور کیسے پیروکار ہیں۔ عدل کا یہ معیار کہ اپنوں کے خلاف ہی فیصلہ دے دیں اور طاقتور سپہ سالار اس فیصلہ پہ سر جھکا کر عمل بھی کردے۔ تاریخ گواہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں پادری کی قیادت میں تمام شہر کے لوگ گھروں سے نکل کر لشکر کے پیچھے سرحدوں کی طرف دوڑے اور لا الٰہ الاّ اللہ محمّد الرّسول اللہ کا اقرار کرتے ہوئے اُن کو واپس لے آئے کہ یہ آپ کی سلطنت ہے اور ہم آپ کی رعایا بن کر رہنا اپنے لئے ٖفخر سمجھیں گے۔ دینِ رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔ کبھی رہبر دو عالم حضرت محمد ﷺ کی امت ایسی ہوا کرتی تھی ۔۔۔معزز قارئین!! من حیث القوم ھم سب کس قدر شریعت محمدی پر چل رھے ھیں ھم سب کے قول و فعل میں تضاد بھرا پڑا ھے جھوٹ ھماری خون میں رس بس گیا ھے کہنے کو تو ھم مسلمان ہیں مگر مسلمان ھونے کے اعمال ہی نہیں۔ جب تک ھم سب عملی شرعی مسلمان نہیں بنتے اس وقت تک رب بھی ھم پر مہربان رحمدل حکمران نافذ نہیں کریگا۔ جیسی قوم ھوتی ھے اللہ ان پر ویسے ہی حکمران نافذ کردیتا ھے ھمیں چاہئے کہ اس فتن زدہ دور میں سختی سے شریعت محمدی ﷺ پر کاربند رھنا ھوگا وگرنہ ھم دنیا بھر کے فقیر و ذلیل و غلام بن کر رہ جائیں گے۔ یاد رھے کہ ایٹم بم جیت کی ضمانت نہیں مسلماں ھمیشہ اپنے ایمان کیساتھ جنگ لڑتا ھے جیسے حالیہ وقتوں میں دنیا کی سپر پاور امریکہ کو دنیاوی طور پر سادہ کمزور مجاہدوں نے انتہائی شکست سے دوچار کیا یہ ان مجاہدین کا ایمان تھا جس سے وہ لڑتے رھے اور ہلکے ہتھیاروں سے ایک نہیں دو بڑی طاقتوں روس اور امریکہ کو ناکوں چنے چبوادیئے اور بزدلانہ انداز سے بھگایا بیشک جو اللہﷻ اور اس کے حبیب ﷺ کے ھوجاتے ہیں اللہ ﷻ اور حبیب خدا ﷺ انہیں تنہا نہیں چھوڑتے۔ میرا یہ کالم قوم حکمران سپہ سالار قاضی اور خاص کر علماء دین کیلئے ھے کہ خود بھی ایمانی طاقت سے بیدار رہیں اور قوم کو بھی بیدار رکھیں کیونکہ ھم مسلم ہیں سارا جہاں ھے ھمارا ۔۔۔۔۔!!