MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

کافر ، کافر ھیں مگر ظالم نہیں ۔۔۔!!

0 212

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کالمکار: جاوید صدیقی

- Advertisement -

حضور پر نور محمد مصطفیٰ ﷺ کی عمرِ مبارک ترسٹھ سال تھی۔ آپ ﷺ نے چالیس سال تک نبوت کا اعلان نہیں کیا۔ آئیے چالیس سال کا مطالعہ کرتے ھیں۔ آپ ﷺ نے بچپن سے چالیس عمر تک دیانتداری و ایمانداری، سچ و حق، عدل و انصاف، غریب و غربا کی مالی و جسمانی اعانت، حسن و سلوک اور حسن اخلاق، محبت و بھارئی چارگی، اتحاد و اخوت، تنظیم و منظم، شجاعت و بہادری، صادق و امین اور ایثار و قربانی جیسے اعمال کو کرکے دکھایا۔ آپ ﷺ کے زمانے میں کفار و مشرکین و منافقین بھی کہہ اٹھے کہ آپ ﷺ سا نہ کوئی ھے نہ تھا اور نہ ہوگا آپ ﷺ کا ہر قول سچ و حق پر ھے۔ آپ ﷺ نے دلوں پر راج و حکمرانی کے بعد اللہ واحد لاشریک کا پیغام حق دین اسلام کا اعلان کیا۔ اب ھم بات کرتے ھیں آج کے زمانہ کی وہ بھی بلخصوص پاکستان کے حوالہ سے لیکن اس سے قبل ایک بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ آج وہ ممالک جہاں کی ریاستیں کفار و مشرکین و لادین ھیں ان کا طرز عمل اور وہاں کے لوگوں کی طرز زندگی کس طرح سے ھے تو جان لیجئے کہ قرآن پاک میں جن جانوروں اور مشروبات کو حرام قرار دیا ھے وہاں ان کا استعمال عام ھے وہ انہیں ممنوع نہیں سمجھتے جیسے کھانے میں سور یعنی خنجیر اور پینے میں شراب اسی طرح بناء نکاح حجاب و قبول وہاں خواہشیں جانوروں کی طرح اپنائی جاتی ھیں یعنی زنا کاریاں وہاں نہ یہ معیوب ھے اور نہ ہی کوئی قدغن اسی طرح دولت کی فراوانی کیلئے جو قرآن نے حرام قرار دیا ھے جیسے سود جوا وغیرہ ان کافر و مشرکین کیلئے یہ ترقی کی راہ سمجھتے ھیں ان سب باتوں کے باوجود وہاں تحفظ جان، تحفظ تجارت تحفظ صحت تحفظ تعلیم تحفظ روزگار تحفظ قومی خذانہ اور تحفظ ریاست کا امین اور سپاہی نظر آتا ھے یہی نہیں بلکہ خوراک و اجناس کا معیاری اور خالص پن اور منافع کی مخصوص اور محدود شرح کے تحت منافع کمانے کو ترجیح دیتا ھے اور خاص طور پر مذہبی و قومی و ملی ایام اور رسومات کی خوشی کو دوبالا کرنے میں اپنا بھرپور مثبت کردار ادا کرتا ھوئے ایسے اقدامات کیئے جاتے ھیں جن سے مالی کمزور لوگ بھی خوشی میں شامل ھوجاتے ھیں جیسے کرسمس ڈے رمضان مہینہ وغیرہ اور رہن سہن کھانا پینا رہنا ان سب کو اس طرح رکھا جاتا ھے تاکہ حاکم اور عوام میں کوئی خاص فرق نہ ھو جو پروٹوکول اور عزت عام شہری کو حاصل ھے وہی پروٹوکول و عزت حاکم وقت کو بھی گویا انسانیت کی تعظیم اور حقوق کا احساس اور بہت کچھ ۔۔۔ اگر ھم پاکستان میں نظر دوڑائیں تو ہر دوسرا بڑا طاقتور شخص شراب و شباب اور زنا کاری کو معیوب نہیں سمجھتا۔ ملاوٹ و ذخیرہ اندوزی کو گویا اپنا آئینی حق سمجھتا ھے یہاں عدل و انصاف کا عالم یہ ھے کہ منصفین چند کوڑیوں کے بھاؤ اپنے ضمیر فروخت کرتے نظر آتے ھیں۔ حاکم وقت اور اداروں کے چیف قانون کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھتے ھیں گویا قانون اور آئین ان کے باپ کی لونڈی ھوں، تھانے اور تھانے دار ہر جرائم کی چھتری بنے ھوتے ھیں سچ و حق گوئی گویا گناہ عظیم ھو اور اس گناہ کی سزا فی الفور نافذ کردی جاتی ھے۔ عالم اور علماء سو کی تعداد کثرت سے پھیلتی جارہی ھے نہ اعمال صالح نہ دعاؤں میں تاثیر گویا اس وطن میں ہر شے مصنوعی بناوٹ کی ھوچکی ھو۔ گدھے کتے گھوڑے اور مردہ مرغیاں یہاں فروخت کی جاتی ھوں اور ریسٹورینٹ میں کھلائی بھی جاتی ھوں۔ دودھ دہی انڈے جعلی زہریلے انجکشن اور خوراک سے پال کر سرے عام موذی امراض میں مبتلا کررھے ھیں۔ اس وطن میں عطائیوں کی کمی نہیں ہر شعبہ میں عطائیوں کی بھرمار موجود ھے۔ مافیائی قوتیں سر توڑ کر حملے کرتی ھیں اور ظلم و ستم ڈھانے میں ذرا پروا نہیں کرتیں کیونکہ انہیں معلوم ھے کہ محافظوں منصفوں حاکموں کی قیمت ھے ان کی قیمتوں کی ادائیگی کے بعد ریاست ان چند مافیائی قوتوں کے پنجے میں دبے ھوئے ھیں۔ ملک پاکستان اور ریاست پاکستان میں نہ کوئی فائیو اسٹار بااختیار مومن و ایماندار رھا اور نہ ہی مولوی ملا میں اللہ و رسول ﷺ کا ڈر چند جو آگے قدم بڑھائے دکھائی دیتے ھیں وہ بھی منافق ہی ھیں۔ حسینیت پر جانثار رسول خدا ﷺ پر حقیقی قربان اور صدق دل سے رب پر ایمان والے کہاں چھپ گئے۔ ان ظالمین کے خلاف جہاد کیوں نہیں کرتے یا یہی دستورِ نصاب ھے کہ یا شیخ اپنی اپنی دیکھ ۔۔۔ اپنی رقموں سے چند رقم چندہ اور ریلیف فنڈ میں جمع کراکے اپنی اسلامی آئینی قانونی اخلاقی ذمہداریوں سے سبکدوش ھوجائیں گے یقیناً ہرگز ہرگز نہیں۔ نکلیں اپنے گھروں سے نکلیں اپنے آستانوں سے نکلیں اپنے خانقاہوں سے نکلیں اپنے تبلیغی مراکز سے نکلیں اپنے اسلامی سینٹرز سے یکجا متحد ھوکر اپنا اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ آپس میں فنڈ جمع کریں اور اپنے مخلص محنتی خدمتگاروں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دیں اور انہیں روانہ کریں روزانہ کی بنیادوں پر خریداری کیلئے سبزی منڈی اناج منڈی شوز فیکٹریز کپڑا فیکٹریز گارمنٹس فیکٹریز اور کوکنگ آئل انڈسٹریز ان سب جگہوں سے خریداری کے بعد نو پرافٹ نو لوس کی بنیاد پر بڑے بڑے بازاروں میں اسٹال لگائیں یاد رھے اپنے اسٹال سے مقامی اور سفید پوش عزت نفس رکھنے والوں کی خریداری کی شرط رکھیں جس میں فی گھرانے کی تعداد کے حساب سے فروخت کریں۔ آپ کے اس عمل سے بااختیار ظالمین و منافقین کیساتھ ساتھ مافیائی وقتوں کے اثرات زائل ھونا شروع ھوجائیں گے کیونکہ اس وقت صرف اور صرف مڈل کلاس درمیانہ طبقہ پس رھا ھے نہ وہ بھیک مانگتا ھے نہ صدقہ و خیرات طلب کرتا ھے اس شدید ترین مہنگائی میں سوائے صبر و برداشت کچھ نہیں کرسکتا بہت ھوا تو ادھار لے لیتا ھے مگر کتنا اور کب تک۔ یہ ظالمین منافقین عوام کی دولت کو باپ کی جاگیر سمجھ کر قومی خذانے پر قابض ھیں ھم عوام کی دولت کو کہیں بینظیر انکم سپورٹ کے نام پر لٹارھے ھیں تو کہیں انصاف احساس پروگرام کے نام سے جاری کیا اتنا ہی خیال ھے تو ذاتی دولت استعمال کریں۔ قومی دولت آئین کے مطابق صرف اللہ تبارک تعالیٰ و رسول خدا ﷺ یا سادات کرام و آصحاب اجمعین کے نام سے فلاحی ادارے جاری کیئے جاسکتے ھیں، افسوس آج تک ان ظالمین کے اس غیر آئینی و غیر اخلاقی اقدام و احکامات پر نہ ایوان سے آواز بلند ھوئی نہ ہی عدالت عظمیٰ نے از خود نوٹس لیا۔ میرا ایمان اور یقین ھے کہ جبتک یہ ظالمین ھیں اور یہ غلیظ و خبیث نظام ھے ھم یونہی برباد و تباہ اور پستی کی نظر ھوتے رھیں گے۔ ھم کفار تو نہیں لیکن کفاروں سے بدتر ھمارا کردار ھوچکا ھے ھم ظالمین بن چکے ھیں وہ اسلامی نظام کو اپنے نام سے رائج کرچکے ھیں یہی سبب ھے وہ آج دنیا پر راج کررھے ھیں دعا ھے اللہ ھمارے جرنیلوں میں ایسا جرنل پیدا کرکے جو حقیقت میں دنیا کو مسلم سپہ سالار بن کر دکھا دے کیونکہ اسلام کے سب سے پہلے سپہ سالار خود آخری الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ھیں آپ کے بعد خلفائے راشدین بھی سپہ سالار تھے ھمارے سامنے ان کی رحم دلی ایثار و قربانی اور ایمانی طاقت سرچشمہ حیات ھے۔ یقیناً ھم مسلمان پاکستانی دنیا میں عظیم ترین قوم اور ملت ھیں مگر اس وقت تک کہ جب تک ھم اپنا کردار رسول خدا کے فرمان کے مطابق لازماً کرلیں۔ اصل حیات اور کامرانی و شاد مانی ہی اطاعت و سنتِ رسول ﷺ میں ھے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.