دوا سے محرومی: مہنگائی کا آخری وار
تحریر : عصمت اللہ شاہ مشوانی
- Advertisement -
پاکستان میں آج عام آدمی مہنگائی کے ایسے بھنور میں پھنسا ہے جہاں صرف بنیادی ضروریاتِ زندگی ہی نہیں، بلکہ زندگی کا حق بھی سسک رہا ہے۔ آٹے، چینی اور توانائی کے بھاری بلوں کے ساتھ، ایک شعبہ ایسا ہے جس نے نہایت خاموشی مگر بے رحمی سے غریب کی کمر توڑی ہے اور وہ ہے ادویات کا شعبہ۔ اب زندگی بچانے والی دوائیں محض تعیشات کی فہرست میں شامل ہو چکی ہیں، اور بیماری کی آہٹ سنتے ہی غریب گھرانے پر ایک ہمالیائی مالیاتی بحران ٹوٹ پڑتا ہے۔ ادویات کی قیمتوں میں ہونے والا یہ ہوشربا اضافہ، جو بعض جان بچانے والی دواؤں کے معاملے میں 200 فیصد سے بھی تجاوز کر چکا ہے، ہمارے معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے موت و حیات کا سوال بن چکا ہے۔قیمتوں میں بے لگام اضافہ: ڈالر کا شکنجہ اور پالیسیوں کا تضاد ادویات کی قیمتوں میں اس غیر معمولی بڑھوتری کی بنیادی وجہ ہماری دوا ساز صنعت کی وہ اڑی ہوئی شہ رگ ہے جو خام مال کے لیے درآمدات پر حد سے زیادہ انحصار کرتی ہے۔ ہماری فارماسیوٹیکل انڈسٹری کا تقریباً 90 فیصد خام مال بیرون ملک سے آتا ہے۔ ڈالر کی پرواز اور روپے کی بے قدری: روپے کی قدر میں تاریخی اور مسلسل کمی (ڈی ویلیوایشن) نے درآمدی خام مال کی لاگت کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ جب ڈالر ‘پرواز’ کرتا ہے، تو دوا کی پیداواری لاگت خود بخود بڑھ جاتی ہے، اور کمپنیاں یہ سارا بوجھ بغیر کسی ندامت کے براہِ راست غریب صارف پر منتقل کر دیتی ہیں۔ حکومتی ڈی ریگولیشن: من مانی کی کھلی چھوٹ: سابقہ نگران حکومت کے دور میں غیر ضروری ادویات کی قیمتوں پر سرکاری کنٹرول ختم کرنے (ڈی ریگولیشن) کی پالیسی نے مارکیٹ میں مسابقت بڑھانے کے بجائے کمپنیوں کو قیمتوں میں من مانی کی کھلی چھوٹ دے دی۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) صرف نیشنل ایسینشل میڈیسنز لسٹ (NEML) میں شامل چند ادویات کی قیمتیں کنٹرول کرتی ہے، جبکہ ہزاروں دیگر دوائیں اب کارپوریٹ منافع خوری کے رحم و کرم پر ہیں۔ ٹیکسوں کا بوجھ: طبی آلات اور ضروری ادویات پر عائد بھاری سیلز ٹیکس اور درآمدی ڈیوٹیز بھی پیداواری لاگت میں براہ راست اضافہ کر رہی ہیں، جس کا حتمی حساب غریب کو ہی دینا پڑتا ہے۔ غریب پر تباہ کن اثرات: علاج یا مجبوری کی موت؟ ادویات کی مہنگائی کا سب سے زیادہ شکار وہ غریب اور متوسط طبقہ ہے جس کی آمدنی مہنگائی کے سیلاب میں بہہ چکی ہے۔ یہ صرف مالیاتی نہیں، بلکہ ایک انسانی اور اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ علاج کی جبری معطلی: دل، شوگر، کینسر اور گردوں جیسے دائمی امراض (Chronic Diseases) میں مبتلا ہزاروں افراد باقاعدگی سے اپنی دوا نہیں خرید سکتے۔ کئی غریب مریض یا تو دوا کی خوراک آدھی کر دیتے ہیں، جو ان کی صحت کو مزید بگاڑتا ہے، یا مجبوری میں اپنا علاج ہی ترک کر دیتے ہیں۔ یہ دراصل علاج سے محرومی نہیں، بلکہ موت کا پروانہ ہے۔ مالیاتی دباؤ اور ترجیحات کا بحران: ایک غریب گھرانہ جو خوراک کا انتظام کر رہا ہو، جب اسے ہزاروں روپے کی دوا خریدنی پڑتی ہے، تو یہ ایک نازک بحران پیدا کرتا ہے۔ غریب ماں باپ کو اپنے بچوں کی تعلیم، گھر کا کرایہ، یا خوراک کی مقدار میں کٹوتی کرنا پڑتی ہے۔ ایک ایسی مجبوری جہاں صحت اور بھوک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے۔صحت عامہ کا بگاڑ: سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی قلت مریضوں کو نجی فارمیسیوں کا رخ کرنے پر مجبور کرتی ہے، جہاں مہنگی دوائیں ان کی رہی سہی قوت خرید کو بھی نچوڑ لیتی ہیں۔ اس صورتحال نے صحت عامہ کے پورے نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔ حکومتی ذمہ داری: ترجیحات کا تعین اور فوری اقدامات حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات، جن میں علاج اور دوا شامل ہے، فراہم کرے۔ غریب عوام کو اس عذاب سے نجات دلانے کے لیے فوری اور دیرپا اقدامات ناگزیر ہیں: قیمتوں پر سخت کنٹرول کی بحالی: تمام اہم اور جان بچانے والی ادویات کو فوری طور پر ڈریپ کے سخت کنٹرول میں لایا جائے۔ ڈی ریگولیشن کی پالیسی پر فوری نظرثانی کی جائے اور کمپنیوں کو بے لگام منافع خوری سے روکا جائے۔فارماسیوٹیکل خود انحصاری کی جانب سفر: خام مال کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی سطح پر فارماسیوٹیکل ایکٹو انگریڈینٹس (APIs) کی پیداوار میں ہنگامی بنیادوں پر سرمایہ کاری کی جائے۔ اس صنعت کو مراعات اور سبسڈی فراہم کی جائیں تاکہ درآمدی لاگت کا اثر یکسر ختم ہو سکے۔ صحت کارڈ کی شفافیت اور توسیع: صحت کارڈ جیسے حکومتی پروگرامز کو مزید فعال اور شفاف بنایا جائے تاکہ غریب مریض نجی اور سرکاری ہسپتالوں میں نہ صرف علاج بلکہ ادویات بھی مفت یا…