MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

کشمیر کی جدوجہد آزادی میں خواتین کا کردار  

3 264

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر:کنول زہرا

- Advertisement -

ہندوستان سے تحریک آزادی جدوجہد ہو یا مقبوضہ  کشمیر کی آزادی کا عزم  خواتین کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے، واقف حال کہ خبر ہے کہ بھارتی قابض افواج نے معصوم
کشمیریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے، آزادی کی اس تحریک میں خواتین کا کردار ریڑھ کی ہڈی مانند ہے، مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی کشمیری خواتین جرات مندی اور پختہ عزم  کے ساتھ جدوجہد آزادی کے لیے متحرک ہیں،جس کی انہیں بھاری قیمیت ادا کرنی پڑ رہی ہے، بھارتی قابض فوج کے سامنے سیسہ پلاءی دیوار کی مانند کھڑی ہو جانے والی کشمیری خواتین کو بیوگی ، بے گھری، تشدد، عصمت دری اور قید و بند کی صعبتوں سے گزرنا پڑتا ہے تاہم ان کا عزم غیر متزلزل ہے، قابض بھارتی فوج  عصمت ریزی کی درندگی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے، اپنے اس شرمناک عمل کو قابض فوج کے اہلکار فخر سے بیان کرتے ہیں، چند روز قبل انڈین آرمی کے سابق جنرل  ایس پی سنہا   نے نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوءے ریپ کو ہتھیار کا نام دیکر اسے جنگی  ضرورت گرداننا یعنی قابض فوجی اپنے اس عمل کو دیش کی سیوا سمجھتے ہیں،
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کی متاثرہ خواتین کو انصاف نہیں مل سکا۔بھارتی فوجیوں نے 23 فروری 1991 کی شب ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران آٹھ سال کی بچیوں سے لے کر اسی برس کی خواتین تک کی 100 کے قریب کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی تھی۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوجیوں نے جنوری 1989 سے فروری 2022 تک مقبوضہ جموں وکشمیر میں 11ہزار 2سو 47 خواتین کی عصمت دریعصمت دری اور بے حرمتی کی ہے، بلاشبہ یہ گھناولہ عمل  بھارت کے نام نہاد جمہوری چہرے پر ایک دھبہ ہے جو مقبوضہ علاقے میں خواتین کی آبروریزی کو ریاستی دہشت گردی کے ایک آلہ کے طور پر استعمال کر رہا ہے
جنوری 2001 سے 2022 تک تقربیا ایک ہزار سے زاءد خواتین کو  شہید کیا گیا۔
ساؤتھ ایشین وائر کی رپورٹ میں ایک اسکالر انجر سکجلس بائیک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں عصمت دری کا انداز یہ ہے کہ جب فوجی سویلین رہائش گاہوں میں داخل ہوتے ہیں تو وہ عورتوں سے زیادتی سے قبل مردوں کو مار ڈال دیتے ہیں یا بے دخل کردیتے ہیں۔ ایک اور اسکالر شبھ متھور نے عصمت دری کو “کشمیر میں بھارتی فوجی حکمت عملی کا ایک لازمی عنصر” قرار دیا ہے۔ممتاز سکالرسیما قاضی کا کہنا ہے کہ کشمیر میں عصمت دری “جنگ کا ثقافتی ہتھیار” ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ عصمت دری کا استعمال کشمیریوں کے خلاف مزاحمت کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے کیا جاتا ہے اور فوجیوں کے اعتراف کے ایسے دستاویزی ثبوت بھی سامنے آئے ہیں جن میںاعتراف کیا گیا ہے کہ انہیں کشمیری خواتین پرزیادتی کا حکم دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے بارے میں 52 ویں اقوام متحدہ کے کمیشن میں ، پروفیسر ولیم بیکر نے گواہی دی کہ کشمیر میں عصمت دری محض غیر طے شدہ فوجیوں پر مشتمل الگ تھلگ واقعات کا معاملہ نہیں ، بلکہ سیکیورٹی فورسز کشمیری آبادی پر عصمت دری کو خوفناک اورسرگرم انداز میں ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہیںہیں۔ فوجیوں کے کچھ انٹرویو زکے دوران اس سوال پرکہ انہوں نے مقامی کشمیری خواتین سے زیادتی کیوں کی ، کچھ نے جواب دیا کہ کشمیری خواتین خوبصورت ہیں۔ دوسروں نے کہا کہ یہ غیر فیملی اسٹیشن ہے۔ ایک سپاہی نے جواب دیا کہ اس نے بدلے میں ایک کشمیری خاتون کے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ “ان کے مردوں نے اس کی برادری کی خواتین کے ساتھ بالکل ایسا ہی سلوک کیا”۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ 8جولائی 2016کو کشمیری نوجوان برہان وانی کے قتل کے بعد سے سینکڑوں کشمیری نوجوان اور طلبہ اور طالبات بھارتی فورسز کی طرف سے گولیوں اورپیلٹ گنزکے استعمال سے زخمی ہو چکے ہیں ۔ ان زخمیوں میں  سے انشاء مشتاق اورافراء شکور سمیت کم سے کم 70بچے اور بچیاں  بینائی کھو چکے ہیں جبکہ 18ماہ کی شیر خوار بچی حبہ نثار اور 32سالہ نصرت جان کی بینائی جزوی طورپر متاثر ہوئی ۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کشمیریوں میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ جن کے عزیز اور رشتہ دار لاپتہ ہیں۔پچھلے برس دنیا بھر سے خواتین پر تشدد اور ان کو جنسی طور پرہراساں کرنے کے متعدد کیس سامنے آئے۔2018 میں خواتین کے لیے خطرناک ترین ثابت ہونے والے ممالک کی فہرست میں بھارت سرفہرست ہے بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جو کہ گزشتہ 7 برس سے 2018 تک خواتین کے لیے سب سے خطرناک ملک ثابت ہورہا ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن کی طرف سے کئے جانے والے ایک سروے میں بتایا گیا کہ بھارت میں سب سے زیادہ لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اورجنسی ہراسانی کے واقعات پیش آتے ہیں

ممتاز ہندو دانشور اور صحافی ” ارون دھتی رائے “ نے چوبیس دسمبر 2012 کو کہا تھا کہ” ہندوستان کی فوج اور دیگر بالا دست طبقات خواتین کی بے حرمتی کو بطور اپنی حکمت عملی استعمال کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ مقبوضہ کشمیر اور منی پور میں اپنی انتہا کو پہنچا ہوا ہے ۔ یاد رہے کہ سولہ دسمبر 2012 کو دہلی میں میڈیکل کی ایک طالبہ کے ساتھ بد ترین جنسی درندگی کا سانحہ پیش آیا تھا جس کے رد عمل میں بھارت کے طول و عرض میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا اور اسی پس منظر میں ارون دھتی رائے نے اپنے ان خیالات کا اظہار کیا تھا ۔ اس موقع پر ارون دھتی رائے نے اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا تھا کہ ” بھارتی معاشرت خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں بے کس کشمیری خواتین کی بے حرمتی کو دہلی سرکار نے قانونی تحفظ فراہم کر کے گویا اسے آئینی شکل دے دی ہے ۔ اسی وجہ سے ان گھاﺅنے جرائم کے مرتکب قابض بھارتی فوجیوں کے خلاف آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت مقدمہ تک نہیں چلایا جا سکتا ۔
جنگ زدہ علاقوں میں شکار بننے والی خواتین اور بچوں کی بحالی کے لیے خصوصی پروگرام تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ جس کے لئے معصوم کشمیری، اقوام متحدہ سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

3 Comments
  1. […] کے علاقے ڈیفنس میں واقع نجی اسکول کی انتظامیہ نے تشدد کا شکار لڑکی سمیت 5 طالبات کو اسکول سے نکال دیا ،واقعہ کی تحقیقات کے […]

  2. […] دہلی (مسائل نیوز) بھارت میں میڈیکل کی ایک طالبہ اپنی شادی والے روز عروسی لباس پہن کر امتحان دینے پہنچ […]

  3. […] (مسائل نیوز)مصری حکام نے موٹاپے سمیت متعدد بیماریوں میں مبتلا افراد کو رواں سال حج کے لیے جانے سے روکنے کا فیصلہ […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.