اسلام میں گداگری کی ممانعت
تحریر۔۔۔۔بشریٰ جبیں
اسلام نے کسی صورت بھی گداگری کو پسند نہیں کیا بلکہ کسب ِ حلال پر زور دیا ہے
یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات سے منہ موڑ کر ہر جگہ ذلیل و خوار
ہو رہے ہیں اور اس ذلت کا ایک اہم سبب گداگری ہے
اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اس زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم ؑ کو مبعوث فرما کر ساتھ ہی ان کو ذریعہ معاش بھی دے دیا کہ اس طریقے سے روزی کماؤ اور کھاؤ۔ اس کے بعد انبیاء کرام ؑ کا ایک سلسلہ شروع ہوا اور ہر نبی ؑ نے اپنے لئے کوئی نہ کوئی ذریعہ معاش اپنایاجیسا کہ حضرت آدم ؑ نے کھیتی باڑی اور حضرت زکریا ؑ بڑھئی کا کام کرتے تھے ، حضرت موسیٰ ؑ بھیڑ بکریاں چرایا کرتے تھے ، حضرت ادریس ؑ درزی کا کام کرتے تھے ، حضرت داؤد ؑ آہن گر تھے ، حضرت ابراھیم ؑ بزاز تھے ، حضرت اسمٰعیل ؑ تیر بناتے تھے خود حضرت محمد ﷺ نے مزدوری پر بکریاں بھی چرائیں ، تجارت بھی کی ۔اس سے ثابت ہوا کہ روزگار کما نا ضروری ہے
لفظ گداگری، گداگر سے مآخذ ہے جو فارسی زبان کا(مذکر) لفظ ہے ۔جس کے معانی ہیں بھیک مانگنے والا، بھکاری، ہاتھ پھیلانے والا،منگتا اور سوالی وغیرہ۔
کسی قوم ،قبیلے ، مُلک یا معاشرے کی ترقی کا انحصار اس کے ذرائع معاش پر بھی ہوتا ہے ۔اگر معاشرے میں چوری ، ڈکیتی، گداگری، رشوت، اقربا پروری کا ماحول ہو تو وہ معاشرہ کبھی بھی ترقی کی منازل کو نہیں چھو سکتا۔ اگر اس کے ذرائع معاش صحیح ہوں تو وہ معاشرہ ترقی کی منازل کو طے کرتا ہوا اپنی تقدیر کو بدل سکتا ہے ۔ اس کے بارے قرآن پاک میں ارشاد ہوا،
ترجمہ: بیشک اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے آپ میں خود تبدیلی نہ لائیں ۔
بقول شاعر۔۔۔۔۔
- Advertisement -
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو خیال جس کو اپنی آپ حالت کے بدلنے کا
آپ ﷺ نے ہمیشہ ہاتھ سے روزی کمانے کو ترجیح دی اور اس کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ یہ الگ با ت ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے در سے کسی سائل کو خالی نہ لوٹایا مگر اس کی حوصلہ افزائی بھی نہ فرمائی۔
رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا،’’ مالدار کے لئے اور تندرست و توانا کے لئے صدقہ حلال نہیں‘‘
ایک مومن کی زندگی کی شان یہ ہے کہ وہ حلال کمائی تلاش کرے ، حلال کمائی کھائے ، پاکیزہ روزی حاصل کرے اور پاکیزہ روزی کھائے ، تب ہی دین و دُنیا کی کامیابی ہے ۔ ورنہ تو آج حرام راستے سے حاصل کی ہوئی دولت کل قیامت کے دن جان کا وبال ہو گی اورہلاکت کا سبب بنے گی۔
نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’جو آدمی لوگوں سے ہمیشہ سوال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دِن آئے گا اور اس کے منہ پر گوشت کی ایک بوٹی نہ ہو گی‘‘۔
اللہ پاک ہم سب کو دین واستقامت پر چلنے کی توفیق عطا فرماٸے آمین۔۔۔