MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

زبان کاسفر

0 280

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر۔۔۔۔بشریٰ جبیں
آج زندگی آوازوں کے پھیلائو اور اس کے اظہار و ترسیل کی جدیدترین حالت میں موجودہے۔ لائوڈاسپیکر،ہیڈفون وغیرہ نے آوازوں کی لفظوں کی صورت میں شناخت کو انتہائی آسان بنادیاہے۔ جب کہ تراجم کی جدید ترین سہولیات کی وجہ سے ایک ہی محفل میں موجود مختلف زبانوں کے افراد کی باتوں کو فوری ترجمہ کی سہولت کی بدولت سمجھنا انتہائی آسان ہوچکاہے۔ موجودہ زمانے میں انسانی زندگی کو آ وازوں اور زبان کے بغیر گزارنے کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا ہے۔ آج انسان نے اپنی زبان اور دیگر علوم کی ترقی سے ایک دنیاکو اپناماتحت بنارکھاہے۔ اس کے ہاتھ کی ایک جنبش سے بڑے بڑے کارنامے رونماہوتے ہیں مگر یہی انسان اپنے ابتدائی دور میں زبان کے حوالے سے چرندپرند سے بھی گیا گزراتھا۔ اس کے پاس زبان سے اداکرنے کے لیے کوئی لفظ نہ تھا جب کہ دیگر مخلوقات اپنی اپنی جبلی کیفیات میں اپنی اپنی مخصوص آوازیں رکھتی تھیں مگر شاید انسان کو اس دور میں زبان کی ضرورت بھی نہ تھی، زبان سے بھی کہیں زیادہ اس کے لیے بھوک اور خوف تھا اور اس پراسرار دنیاکاراز اس کے لیے ایک معمّا تھا۔ سورج چاند ستارے اور دیگر مناظرِ فطرت کاخود کار نظام اس کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا جب کہ موسموں کی سختیاں ،جنگلی جانوروں کاخوف اور بھوک سے نجات کاسامان اس کے لیے مرکز زیست بناہواتھا۔وہ اس پراسرار دنیا سے خوفزدہ رہتا تھا اسی لیے اس نے مناظر فطرت سے اصنام تراشے اورہر فوق البشر شے کو خدا سمجھ کر اس کے آگے جھکنے لگا۔
آج اس امر کا تعین کرناممکن نہیں کہ انسان نے سب سے پہلے کون سی آواز سنی ہوگی، اپنی آواز یا بیرونی دنیا سے پرندوں اور جانوروں کی آوازیں، اگر اپنے جیسے کسی انسان کی آواز سُنی ہوگی تو اسے یہ آواز اپنی آواز سے مشابہ محسوس ہوئی ہوگی اگر اس نے فطرت پر کان دھرے ہوں گے تو اسے آوازوں کاایک نقار خانہ سنائی دیاہوگا۔ نوعیت کے اعتبار سے یہ آوازیں دوطرح کی ہوسکتی ہوں گی۔ ایک پرندوں اور حیوانوں کے حلق سے نکلی ہوئی وہ مخصوص فطری آوازیں جو ان جانوروں کی شناخت تھیں دوسری فطرت کی نظرنہ آنے والی وہ پُراسرار آوازیں جن سے فضائیں معمور تھیں۔ اس سے ان آوازوں کا تنوع اور شدت و لطافت کااندازہ لگایاجاسکتاہے کہ ہوا کاایک لطیف جھونکا، آندھیوں اور طوفانوں میں تبدیل ہونے تک تبدیلی کے کتنے مراحل طے کرتاہے۔ بادلوں کی گرج اور بجلی کی کڑک جیسی خوف ناک آوازیں اس کے علاوہ ہیں۔ اس سے ہم یہ بات باور کرسکتے ہیں کہ اس عہد کاانسان ایک لحاظ سے صوتی افراط کے تجسس کا شکار تھا۔ان آوازوں کاادراک اور فطرت کی دیگر نادیدہ قوتوں پر قابو پانے کی جستجو سے انسان کی بنیادی نفسیات میں ابتدائی اساطیرتشکیل ہوئیں جس سے اُس عہد میں انسانی نفسیات میں پریشانی اورخوف بھی شامل ہوگیا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.