کارگل وار
تحریر کنول زہرا
- Advertisement -
فریڈم فائٹرز نے
1947-49
کے دوران وادی کارگل کا ایک حصہ بھارتی دندرگی سے آزاد کرایا تھا بعد ازاں 1971 میں باقاعدہ ہندوستانی فوج نے غیر قانونی طور پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا, جس کے لئے آج بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام سراپا احتجاج ہیں, 1999 کے کارگل معرکے سے قبل ہمیشہ کی طرح ہندوستان نے پہل کی جس کا جواب دینا غیوروں کے لئے ضروری تھا, بھارت نے وادی نیلم پر باقاعدہ حملہ کیا, پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کارگل روڈ پر حملہ کرنا شروع کیا, جس سے بھارتی سپلائی روٹ بلاک ہوا, جس پر بھارت نے حسب عادت مگر مچھ کے آنسو بہانا شروع کردئیے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی شکایت کی, بھارت نے اپنی حرکت کو پوشیدہ رکھ کر پاکستان کی جوابی کاروائی کو پاک فوج کی جانب سے “دراندازی” کا نام دیا.
1972 میں، شملہ معاہدہ اور ایل او سی جیسے سرحدوں سے متعلق دونوں ممالک کے درمیان بہت سے معاہدوں پر دستخط ہوئے، لیکن بھارت نے ان معاہدوں کی بار بار خلاف ورزی کی جو آج بھی جاری ہے
پاکستان کے فوجیوں نے بین الاقوامی سرحدیں عبور نہیں کیں لیکن ہندوستان کی افواج کے نزدیک یہ معمول کی بات ہے, پاکستان نے آج تک کسی ملک میں مداخلت نہیں کی ہے مگر اگر کوئی ہمارے خلاف کاروائی کرئیگا تو اس کے ایکشن کا ایسا ری ایکشن آئے گا کہ دشمن کبھی بھول نہیں پائے گا, پاکستان کے سپوٹ ملک کے دفاع کے لیے کمر بستہ ہیں،قوم کو اپنے بہادر بیٹوں پر فخر ہے, پاکستان کے وقار کو بلند رکھنے پر کیپٹن کرنل شیر اور حوالدار لالک جان کو نشان حیدر دیا گیا.
آئیں ذرا کپٹین کرنل شیر خان کی جراتمندانہ کاوش کا کچھ ذکر کر لیتے ہیں, کیپٹن کرنل شیر خان نے ایل او سی پر کارگل کی لڑائی کے دوران دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا اور مثالی جرات کے ساتھ اپنے ملک کا دفاع کیا۔ انہیں نڈر شہید کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا
پاکستان کے اس شیر نے لائن آف کنٹرول پر 17000 فٹ کی بلندی پر کارگل کی پانچ اسٹریٹجک پوسٹوں کا دفاع کیا۔ ہندوستانی فوج نے اسٹریٹجک پوسٹوں پر قبضہ کرنے کے لیے آٹھ حملے کیے ہیں۔ جس کا کپٹین کرنل شیر خان اور ان کے ساتھ تعینات جوانوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا, 5 جولائی 1999 کو ہندوستانی فوج کے ایک اور حملہ کرکے دو بٹالین کے ساتھ ان کی چوکیوں کو گھیر لیا, وہ مشین گن کی گولی کا نشانہ بنے مگر آخری سانس تک مادر وطن کے دفاع کے لئے سربکف رہے, فرض کی ادائیگی کے دوران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مادر وطن کا جوان چل بسا ان کی بہادری پر حکومت پاکستان نے انہیں نشان حیدر سے نوازا۔
کارگل کے معرکے کے دوسرے غیور حوالدار لالک جان
یکم اپریل 1967 کو گلگت بلتستان کے ضلع غذر کے گاؤں یاسین میں پیدا ہوئے۔ ناردرن لائٹ انفنٹری رجمنٹ کے حوالدار لالک جان بھارتی حملوں کو ناکام بنانے کے لیے صف اول کا سپاہی بنکر خوب دل سے لڑا,حوالدار لالک جان نے دشمن کے بہت سے جارحانہ اقدامات کو پسپا کیا اور ان کو بھاری نقصان پہنچایا۔ 7 جولائی 1999 کو، حوالدار لالک جان شدید زخمی حالت میں بھارتی حملوں کو مایوس کیا بعد ازاں انہوں نے جام شہادت نوش کیا, حکومت پاکستان نے بہادری پر انہیں نشان حیدر سے نوازا گیا,
نسیم زہرہ نے اپنی کتاب “From Kargil to Coup” میں لکھا ہے کہ میجر عبدالوہاب شہید نے زخمی حالت میں بھی دشمن کی جارحیت کا بے خوف مقابلہ کرکے جام شہادت نوش کیا,ان کا جسد خاکی کارگل کی بلندیوں پر سپرد خاک ہے, حکومت پاکستان نے انہیں ستارہ جرات سے نوازا گیا.
بھارتی حکومت نے کارگل میں ہلاک ہونے والے فوجی کو بھارتی اعلیٰ ترین فوجی اعزاز پرم ویر چکر سے نوازا بعد ازاں اس کی بیوی نے دعویٰ کیا کہ وہ زندہ ہے اور اسپتال میں زیر علاج ہے
کارگل کے محاذ ہندوستان کے نقصانات
ہندوستانی فوج کے لئے اتنی اونچائی پر توپ خانے کے ساتھ چار ڈویژن تعینات کرنا بہت مشکل کام تھا, ہندوستانی کرنل کشال ٹھاکر کے مطابق پاکستانی فوج نے آخر تک لڑائی لڑی وہ زخمی حالت میں بھی لڑتے رہے, بھارتی فوج نے تسلیم کیا کہ پاک فوج نے دراس، ترتوک اور چوربت لا پر چوکیاں قائم کیں
بھارتی فوج سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) مہندر پوری نے گارگل محاذ کو بھارتی ملٹری انٹیلی جنس اور دیگر انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بڑی ناکامی قرار دیا, ہندوستانی میڈیا نے بھی اعتراف کیا کہ بھارتی جرنیلوں کی نااہلی اور غداری نے فوجیوں کو ہلاک کیا, کارگل جنگ پر قانونی چارہ جوئی اور خفیہ دستاویزات سے یہ بات واضح ہے کہ ہندوستانی فوج کے اعلیٰ جرنیلوں نے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے درمیانے درجے کے کمانڈروں کو قربانی کا بکرا بنایا۔ ہندوستانی فوج کے بریگیڈیئر دیویندر کو آپریشن غلط طریقے سے کمان کرنے کی وجہ سے تبدیل کیا, 2010 میں، آرمڈ فورسز ٹربیونل کے ججز لیفٹیننٹ جنرل ایم ایل نائیڈو اور جسٹس اے کے ماتھر نے ایک فیصلہ سنایا جس میں جنگ کی سرکاری تاریخ کو دوبارہ لکھنے کا حکم دیا۔
جنگ کو نااہلی سے لڑنے کی بنیاد پر بھارتی فوج کے میجر اجیت سنگھ، کاکورٹ مارشل کیا گیا, بھارتی بریگیڈیئر سریندر کو بھی برطرف کیا گیا۔ اس جنگ میں بھارت نے ہندوستانیوں اعداد و شمار کے مطابق، 553 افسروں اور سپاہیوں کو کھویا, دو ہیلی کاپٹر اور ایک لڑاکا طیارہ جس کے پائلٹ نامی ناچی کینتا کو پاکستانی فوج نے گرفتار کیاپاکستان نے کارگل جنگ فوجی طور پر جیتی لیکن بھارت نے اس تنازعے کا فائدہ اٹھایا اور امریکہ کی حمایت حاصل کی مگر پھر بھی کارگل کی جنگ پاکستان نے فوجی طور پر جیتی