الٹی گنگا
تحریر:محمد شہزاد بھٹی
- Advertisement -
کسی بھی حکومت کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار اس کے وزیر خزانہ کی معاشی پالیسیوں اور ٹیکس مینجمنٹ پر ہوتا ہے اس سلسلے میں سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کمال مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے دور میں ڈالر اور روپے کی قدر میں توازن برقرار رکھا اور مہنگائی کو نہیں بڑھنے دیا جبکہ موجودہ وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل اس حوالے سے ایک ناکام وزیر خزانہ ہیں جو معیشت کو سہارا دینے اور پاکستانی عوام کو ریلیف دینے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ یاد رکھیں، حالیہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کی شکست انہی کی پالیسیوں کا پیش خیمہ ہے، حالیہ ضمنی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کی شکست کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ عمران خان کوئی بڑا تیس مار خان ہے یا انہوں نے اپنے دور حکومت عوامی فلاح کے بہت سے میگا پروجیکٹس لگائے ہیں یا عمران خان نے اپنے دور میں دودھ اور شہد کی نہریں بہا دی تھیں اس لیے انہیں حالیہ ضمنی انتخابات میں فتح ملی، حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ پیٹرول کی قیمت اور بجلی کے بلوں میں ہوش ربا اضافے کے ردعمل کے طور پر پاکستان مسلم لیگ ن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کوئی مانے یا نہ مانے یہ حقیقت ہے پیٹرول کی قیمت اور بجلی کے بلوں میں میں آئے روز اضافہ پاکستان مسلم لیگ ن کا ووٹ بینک توڑنے میں کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کسان اور تاجر طبقہ پاکستان مسلم لیگ ن کو ہمیشہ ووٹ دیتا رہا ہے مگر اب بجلی کے بلوں نے ان کا بھرکس نکال دیا ہے اب یہ لوگ بھی پاکستان مسلم لیگ ن سے نالاں ہیں۔ جب آئی ایم ایف کی شرائط مان کر جب پیٹرول یا بجلی کی قیمت بڑھائی جاتی ہے تو مہنگائی کا ایک طوفان آتا ہے اس سے تاجر، مزدور اور کسان سبھی لوگ متاثر ہوتے ہیں اور حکومت کو لعن طعن کرتے نظر آتے ہیں اور حالیہ دنوں میں 100 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی کے بل ہزاروں میں آئے۔ وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کو شاید پیٹرول اور بجلی مہنگی کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں سوجھتا ریونیو اکٹھا کرنے کے لئے، آئیے ریونیو اکٹھا کرنے کا ایک راستہ میں آپ کو بتاتا ہوں جس سے نہ صرف پاکستان کی معشیت بہتر ہو سکتی ہے بلکہ آئی ایم ایف کی قسط ادا کرنے کے لئے بھی پیسہ اکٹھا ہو سکتا ہے۔ یہ بات تو عیاں ہے کہ ہمارا ملک انرجی کرائسیز کا شکار ہے ان کرائسیز میں کسی حد تک بلکہ کافی حد تک ہر حکومت کا ہاتھ شامل رہا ہے، وہ یوں کہ ملک کے بیشتر اضلاع تحصیلوں اور قصبوں میں 75 سال گزر جانے کے باوجود تاحال سوئی گیس نہیں ہے اور یہ واحد قدرتی ملکی پیداوار ہے جو ملکی آمدن کا بڑا ذریعہ ثابت ہو سکتی تھی مگر سوئی گیس ریاست عوام کو کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کر رہی ہے جس کی قیمت اگر مہنگائی کے حساب سے مناسب کر دی جائے تو چند ہی ماہ میں ملکی خزانہ بھر جائے گا جس سے ملکی معیشت میں بہتری آئے گی۔ اس طرح آئی ایم ایف کو قسط ادا کرنے کے لیے مطلوبہ رقم کا ہدف بھی با آسانی حاصل ہو جائے گا۔ سوئی گیس کی قیمت انتہائی کم ہونے کی وجہ سے لوگ اس کا استعمال بے دریغ کرتے ہیں بلکہ اندھادھند کر تے ہیں جس کی وجہ سے سردیوں میں گیس کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ یوں توانائی کا ضیاع درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنتا ہے اور جن جگہوں پر سوئی گیس کی سہولت نہیں ہے وہاں لوگ مجبورا لکڑیاں جلاتے ہیں جس کے لیے درختوں کو بے دریغ کاٹا جاتا ہے اور درخت کاٹنے سے ماحول پر موسمیاتی تبدیلی کی صورت میں برے اثرات مرتب ہوتے ہیں، جسے ہم حالیہ سیلاب کی صورت میں بھگت چکے ہیں۔جہاں سوئی گیس موجود ہے وہاں انتہائی کم قیمت وصول کی جا رہی ہے، اس کی زندہ مثال میرا اپنا شہر بہاول نگر ہے جہاں آدھے شہر میں سوئی گیس موجود ہے اور آدھا شہر گذشتہ 75 سال سے محروم ہے، جہاں سوئی گیس نہیں وہاں لوگ مہنگے داموں 3000 تک کا LPG گیس سلنڈر خریدنے پر مجبور ہیں اور ماہانہ LPG گیس سلنڈر چھوٹی بڑی فیملی کے حساب سے 2 سے 4 تک خریدنے پڑتے ہیں جبکہ آدھا شہرصرف 500 سے 700 روپے ماہانہ بل ادا کر رہا ہے, یہ امتیازی سلوک کیا یہ اُلٹی گنگا بہنے کے مترادف نہیں ہے؟ سوئی گیس کی انتہائی کم قیمت ہونے کی وجہ سے اور مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے ملک کو کوئی خاص فائدہ اب تک نہیں پہنچ سکا۔ میری تجویز یہ ہے کہ حکومت فی یونٹ بجلی کی قیمت کو کم کرے اور سوئی گیس صارفین تھوڑا بوجھ بڑھائے ان کا ماہانہ بل کم سے کم 3000 تک ہو سوئی گیس صارفین 3000 تک کا بل ادا کر سکتے ہیں اس طرح آئی ایم ایف کو قسط ادا کرنے کے لیے مطلوبہ رقم کا ہدف بھی حاصل ہو جائے گا اور بجلی کی قیمت کم ہونے سے سب کا اجتماعی فائدہ بھی ہو گا۔آخر میں یہ عرض کروں گا، اگر میاں محمد نوازشریف چاہتے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات میں ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن واضح برتری حاصل کرے تو انہیں چاہیے کہ فوری طور پر وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو تبدیل کریں اور بے شک خود میاں نواز شریف الیکشن کے قریب مناسب وقت پر پاکستان تشریف لائیں مگر اسحاق ڈار کو فوری طور پر پاکستان آنا چاہئے اور انہیں وفاقی وزیر خزانہ کا قلمدان دیا جانا چاہئے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر مہنگائی کے جن کو قابو کر سکیں جس نے غریبوں کا جینا محال کر دیا ہے کھانے پینے کی اشیاء جس میں گھی، چینی، چاول، دالیں، سبزیاں اور دیگر اشیائے ضروریات شامل ہیں بہت مہنگی ہو چکی ہیں بجلی کا بل تو غریب پر آسمانی بجلی بن کر گرتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ آواز میاں محمد نواز شریف تک اور اقتدار کے ایونوں تک پہنچے گی اور وہ اس سلسلہ میں فوری نوٹس لیتے ہوئے عوامی اور ملكی مفاد میں بہتر فیصلہ کریں گے۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ اللہ کریم پاکستان کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے۔ آمین