کم عمری کی شادیاں
تحریر صدیق بلوچ
ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے قبائلی و دیہی علاقوں میں بسنے والے خواتین کو ملک کے دیگر صوبوں کے خواتین کی نسبت بہت سے مسائل کا سامنا ہے
ان علاقوں میں بسنے والے خواتین کو جن تکلیف دہ حالات میں اپنی زندگی گزارنی پڑتی ہے مہزب معاشروں میں اس کو سوچ کر بھی خوف آتا ہے
ان مسائل میں ایک بڑا مسئلہ کم عمری کی شادیوں کا ہے
صوبے بلوچستان کے بڑے رقبے پر پھیلی ہوئی آبادی اور وہاں غربت و افلاس اور خواتین کی کم سماجی حیثیت اور اس سے جڑے دوسرے مسائل اور زندگی کی بنیادی سولتوں کے فقدان کے باعث وہاں کے والدین کم عمری کی شادی کو کوئی مسئلہ سمجھنے سے قاصر ہیں کیونکہ قبائلی و دیہی علاقوں میں بسنے والے بعض والدین کی سوچ صدیوں پرانی روایات سے جڑی ہوتی ہیں اس فرسودہ سوچ کے تحت بچیوں سے امتیازی سلوک ۔ تعلیم سے دوری ۔وٹہ سٹہ ۔وراثت میں حق نہ دینا اور اپنے بچیوں کی کم عمری کی شادی کو مسئلہ نہیں ثواب سمجھنا ہے اور وہ لڑکی کی پیدائش سے ہی اس کے بیاہنے کے فکر میں گھلنے اور اسے جلد بیاہنے کو اپنا اولین فریضہ سمجھتے ہیں ان ایریاز میں لڑکی کی شادی صرف والد یا گھر کے سربراہ کی مرضی سے ہوتی ہے والدین اس کی جہاں کہیں بھی بات طے کرے بیٹی کو ہر حالت میں سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے کیونکہ انکار کرنے کو وہاں کے روایات کے خلاف سمجھاجاتا ہے رشتہ طے کرنے کے بعد لڑکی سے صرف ( ہاں ) سننے کے لئے ہی پوچھا جاتا ہے
بہت ساری بچیوں کے وٹہ سٹہ کے ذریعے رشتے طے پائے جاتے ہیں جس سے عموماً بڑے مسائل جنم لیتی ہیں مگر یہ رسم اب آہستہ آہستہ کم ہو رہا ہے البتہ کم عمری کی شادیاں ابھی بھی کروائی جاتی ہیں
اور اس میں کوئی خاطر خواہ کمی دکھائی نہیں دے رہی کم عمری کی شادی بچیوں کے لیے کسی عزاب سے کم نہیں کم عمری کی شادی کے باعث نہ صرف بچیوں کی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ وہ ساری زندگی فیسٹولا جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہونے کے ساتھ ساتھ متعدد نفسیاتی مسائل کا شکار کر زہنی طور پر مفلوج ہونے کے بعد اس معاشرے کے لیے سوالیہ نشان بن جاتے ہیں
کم عمری میں شادیوں کی بڑی و جوہات میں آگاہی کا فقدان قوانین میں کمزوریاں غربت جیسے بڑے عوامل شامل ہیں جس کی وجہ سے کم عمری کی شادیوں میں کمی نہیں ہورہی
جبکہ کم عمری کی شادی کے تدارک و روک تھام کے لیے حکومتی سطح پر ابھی تک موثر قانون سازی نظر نہیں آرہی حالانکہ کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے سخت قوانین و قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے
کیونکہ کم عمری کی شادیاں نہ صرف ماں اور بچے کی صحت کے لئے نقصان دہ ہیں بلکہ اس سے سنگین معاشرتی اور نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں
ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں دور دراز کے علاقوں میں بسنے والے بچیوں کی کم عمری کی شادی کے روک تھام کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائیں جن میں اسمبلیوں میں قانون سازی قبائلی علاقوں میں بسنے والی بچیوں کے تعلیم و تربیت کے لیے خصوصی توجہ اور علماء کرام و میڈیا کے ساتھ ملکر ایک موثر مہم چلانا جس میں کم عمری کے شادی کے نقصانات اور بعد میں پیدا ہونے والے مسائل کے مطعلق قبائلی معاشروں میں بسنے والے افراد کو مکمل آگہی دی جائے تاکہ ان کے سوچ میں تبدیلی لائی جاسکے اور کم عمری کی شادی کے روک تھام کے لیے ملکی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروائیں تاکہ بچیوں کے کم عمری کی شادی کی حوصلہ شکنی ہوسکے
[…] نیوز)وفاقی شرعی عدالت کے ازخود نوٹس پر بلوچستان میں کم عمری کی شادی کو روکنے کے لیے مسودہ قانون تیار کرلیا گیا ۔تفصیلات کے […]