سیلاب میں جاں بحق ہر فرد کے ورثاء کیلئے پنجاب حکومت کی جانب سے لاکھوں روپے کی امداد کا اعلان
لاہور(مسائل نیوز) صوبائی وزیر پارلیمانی امور محمد بشارت راجہ کی زیر صدارت وزارتی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لئے امدادی پیکیج میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبائی وزرا سردار محسن لغاری، نوابزادہ منصور علی خان، علی افضل ساہی، چیف سیکرٹری کامران علی افضل،ایڈیشنل آئی جی ذوالفقار حمید اور دیگر افسروں نے اجلاس میں شرکت کی۔
اس موقع پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال اور ریسکیو اور ریلیف آپریشن کا جائزہ لیا گیا۔ سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو زاہد اختر زمان اور ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے فیصل فرید نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن پر بریفنگ دی۔کمیٹی کے چیئرمین اورصوبائی وزیر محمد بشارت راجہ نے ریسکیو اور بحالی کے کام میں تیزی لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی پنجاب پہلے ہی سیلاب زدہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے چکے ہیں۔
حکومت کی طرف سے سیلاب میں جاں بحق ہونے والے ہر فرد کے ورثا کو 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ پہلے یہ رقم 8 لاکھ روپے تھی۔ وزارتی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی نے انتہائی زخمی شہری کو 3 لاکھ، شدید زخمی کو ایک لاکھ روپے دینے کی منظوری بھی دی۔ راجہ بشارت نے کہا کہ زخمی اور معمولی زخمی افراد کو بالترتیب ایک لاکھ اور 50 ہزار ملیں گے۔ وزارتی کمیٹی نے مکانات کو نقصان کے امدادی پیکیج پر بھی نظرثانی کی۔
مکمل پکا مکان تباہ ہونے پرحکومت 4 لاکھ روپے دے گی۔ جزوی پکے مکان کے نقصان پر امدادی رقم 40 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ مکمل کچے اور جزوی کچے مکان کو نقصان پر بالترتیب 2 لاکھ روپے اور 50 ہزار روپے ملیں گے۔ محمد بشارت راجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امدادی پیکیج کے تحت متاثرین کو فوری ادائیگی کی جائے گی۔ اجلاس نے سیلاب سے مویشیوں کے نقصان کے ازالے کا بھی جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کہ بڑے مویشی کی ہلاکت پر 50 ہزار روپے، بھیڑ بکری کی ہلاکت پر 5 ہزار روپے دیے جائیں۔
کمیٹی نے چھوٹے مویشیوں کے نقصان پر ازالے کی رقم بڑھانے کی تجویز دی جس کا فیصلہ نقصان کے تخمینے کے بعد کیا جائے گا۔ وزیر پارلیمانی امور محمد بشارت راجہ نے کہا کہ حکومت سیلاب سے فصلوں کے نقصان پر ساڑھے بارہ ایکڑ تک فی ایکڑ 15 ہزار روپے کی امداد بھی دے گی۔ اجلاس سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب میں وزیر خزانہ سردار محسن لغاری نے کہا کہ ہر سال امدادی پیکیج دینے کی بجائے مسئلے کا مستقل حل نکالنا ہوگا۔
امسال بلوچستان سے اس بار غیر معمولی سیلابی ریلے ڈی جی خان اور ملحقہ علاقوں میں آئے ہیں۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ کارپوریٹ سیکٹر کو امدادی سرگرمیوں میں شامل کرنے کیلئے کام جاری ہے۔ اس وقت ایس ایم بی آر سمیت سنیئر سرکاری افسر سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیوں کے لئے موجود ہیں۔
[…] آباد (مسائل نیوز)سوات اور نوشہرہ میں تباہی کے بعد سیلابی ریلے پنجاب میں داخل ہوگئے۔میانوالی میں سیلاب کا خدشہ ہے ۔شہریوں […]