اسلام آباد پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر فوری ایکشن کا حکم دے دیا
اسلام آباد(مسائل نیوز) اسلام آباد پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر فوری ایکشن کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر شہر میں دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے جب کہ ریڈ زون میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔پولیس حکام نے شہر میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر فوری ایکشن کا حکم دیا ہے جس کے تحت پولیس اہلکار امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے والوں سے سختی سے نمٹیں گے۔
مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بھی شیلنگ کا استعمال کیا جائے گا۔پولیس اہلکاروں کو امن و امان کی صورتحال قابو رکھنے کے لیے شیلنگ کا سامان فراہم کر دیا گیا۔
- Advertisement -
دوسری جانب سپریم کورٹ نے حکومت کو تحریک انصاف کو احتجاج کے لیے متبادل جگہ فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے اڑھائی بجے تک سماعت ملتوی کردی ہے جبکہ تحریک انصاف اور حکومت کو کہا گیا ہے کہ فریقین افہام وتفہیم سے کام لیں. سپریم کورٹ نے عمران خان کے لانگ مارچ کے باعث راستوں کی بندش اور چھاپوں کیخلاف کیس میں اٹارنی جنرل کو حکومت سے ہدایت لینے کی اجازت دے دی سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر، کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو طلب کرلیا ہے. جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سپریم کورٹ میں عمران خان کے لانگ مارچ کے باعث راستوں کی بندش اور چھاپوں کیخلاف کیس کی سماعت کر رہا ہے جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ بنیادی طور پر حکومت کاروبار زندگی ہی بند کرنا چاہ رہی ہے کیا ہر احتجاج پر پورا ملک بند کر دیا جائے گا؟. عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ اسلام اباد میں تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ، اسکول اور ٹرانسپورٹ بند ہے، معاشی لحاظ سے ملک نازک دور اور دیوالیہ ہونے کے درپے ہے جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا آدھا عملہ راستے بند ہونے کی وجہ سے پہنچ نہیں سکا، سکولوں کی بندش اور امتحانات ملتوی ہونے کے سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہوئے ہیں. اس موقع پر سپریم کورٹ نے سماعت میں سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر، کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو طلب کرلیا، جبکہ وفاقی اور صوبائی ایڈووکیٹ جنرل کو بھی بلالیا گیا ہے جسٹس اعجاز الاحسن نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ احتجاج تحریک انصاف کا آئینی حق ہے اور انہیں متبادل جگہ فراہم کی جائے عدالت نے اڑھائی بجے تک سماعت ملتوی کرتے ہوئے تحریک انصاف کے وکیل کو ہدایت کی ہے کہ وہ تحریک انصاف کی قیادت سے بات کرکے عدالت کو آگاہ کریں.