اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ڈپٹی اسپیکر کے اسٹاف کو معطل کردیا
لاہور (مسائل نیوز) اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ڈپٹی اسپیکر کے اسٹاف کو معطل کردیاہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب اسمبلی کے اسٹاف ملازمین میں دو اسسٹنٹ پروٹوکول آفیسرز اور ایک اسٹاف آفیسر کو معطل کیا ہے۔معطل ہونے والوں میں محمد شاہد، عظیم بٹ اور محمد امان خالد وائیں شامل ہیں جب کہ اسپیکر نے تینوں افسران کے خلاف انکوائری کا حکم بھی دیا ہے۔
یاد رہے کہ چند دن قبل ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کا کہنا تھا کہ اسپیکر چوہدری پرویز الہیٰ نے مجھے چھٹی پر چلے جانے کا کہا تھا، میں ان کا ذاتی ملازم ہوں جو ان کی ہر بات مانوں۔انہوں نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور پرویز الہیٰ کی پارٹی میں نہیں، جب کوئی جماعت جوائن کروں گا تو سب کو بتا دوں گا۔
- Advertisement -
انہوں نے کہا کہ پرویز الہی ناجائز کام کرنے کو کہیں گے تو ہرگز نہیں کروں گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ قانون کی پاسداری کی ہے تو کہتے ہیں پارٹی چھوڑ گئے اور منحرف ہو گئے۔کچھ لوگ سسٹم کو ڈی ریل اور جمہوریت کو ناکام کرنا چاہتے ہیں، پرویز الہیٰ اور پی ٹی آئی نے صوبہ میں آئینی بحران پیدا کیا۔دوسری جانب ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار دوست محمد مزاری نے اسمبلی میں حملے اور اختیار محدود کرنے پر قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپیکر پنجاب اسمبلی ہر چیز کو مینج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،اسمبلی میں جو ہوا کون کروارہا تھا سب نے دیکھا ۔ابھی بھی یہی کوشش ہے ہر معاملے میں تاخیر کی جائے،اسمبلی میں لوٹے لانے کے پیچھے سیکرٹریٹ کا سٹاف تھا،سٹاف نے ایوان کو کلیئر نہیں کیا بلکہ پرویز الٰہی کا ساتھ دیتے رہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسمبلی سٹاف کو اسمبلی کا ماحول خراب کرنے کرنے پر معطل کیاگیا۔
مجھ پر حملہ ہوا تو چیف سیکرٹری اور آئی جی کو پرویزالٰہی سے ڈائیلاگ کے لیے بھیجا۔ بات کرنے کی بجائے پرویزالٰہی اجلاس کو ملتوی کرنے کا کہتے رہے۔انہوں نے کہا کہ پرویزالٰہی نے کہا ہائوس نہیں چلنے دیں گے ،میں نے قانون کے مطابق اجلاس کو آگے چلایا ۔ایف آئی آر پر قانون کے مطابق عمل کیاجائے گا،میرے ساتھ جو ہوا اس پر پرویزالٰہی مذمت کی بجائے ارکان کو داد دیتے رہے۔
[…] نیوز) سابق ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کی نااہلی کیلئے مراسلہ بھجوا دیا گیا۔67 صفحات پر مشتمل […]