اسلام آباد (مسائل نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم خان سواتی کی جانب سے متنازع ٹوئٹ پر گرفتاری کے معاملے کے بعد حکومت نے قومی اسمبلی کے کسی بھی رکن کی گرفتاری سے متعلق رولز میں ترمیم کرنے کا اہم فیصلہ کرلیا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی محمد سجاد نے ایوان میں ترمیم پیش کی۔ حکومت کی طرف سے کی گئی ترمیم میں لکھا گیا کہ جب کسی رکن کو کسی فوجداری الزام پر یا جرم پر گرفتار کرنا پڑے یا کسی انتظامی حکم کے تحت حراست میں لینا پڑے تو سپرد کنندہ جج، مجسٹریٹ یا انتظامی حاکم مجاز گرفتاری کی وجوہات کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری طور پر اسپیکر کی منظوری حاصل کرے گا۔
ترمیم میں لکھا گیا کہ ایسی گرفتاری یا حراست کے بعد یا کسی رکن کو قانون کی عدالت کی جانب سے قید کی سزا سنادی جائے تو سپرد کنندہ جج، مجسٹریٹ رکن کے مقام حراست کا قید سے مطلع کرے گا۔
ترمیم میں لکھا گیا کہ کسی بھی رکن کو اسمبلی کے احاطے سے گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق متنازع ٹوئٹ کرنے پر پاکستان تحریک انصاف رہنما اعظم سواتی کی گرفتاری کے معاملہ کے بعد حکومتی اتحادی جماعتوں میں بھی ارکان پارلیمنٹ کی گرفتاریوں پر تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔
- Advertisement -
حکومت ارکان پارلیمنٹ کی گرفتاریوں کو بغیر اجازت روکنے کے لیے متحرک ہوگئی ہے۔حکومت کی طرف سے کی گئی ترامیم کے مطابق کسی بھی رکن قومی اسمبلی کی گرفتاری کے لیے اسپیکر کی منظوری لینا ہوگی۔علاوہ ازیں قومی اسمبلی نے مجموعہ ضابطہ فوجداری (ترمیمی) بل 2021ء کی منظوری دے دی۔ منگل کو قومی اسمبلی میں قادر خان مندوخیل نے تحریک پیش کی کہ مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل مجموعہ ضابطہ فوجداری (ترمیمی) بل 2021ء سینٹ کی جانب سے منظور کردہ صورت میں فی الفور زیر غور لایا جائے۔
ایوان سے تحریک کی منظوری کے بعد قائم مقام سپیکر نے بل کی تمام شقوں کی ایوان سے منظوری حاصل کی۔ قادر خان مندوخیل نے تحریک پیش کی کہ مجموعہ ضابطہ فوجداری (ترمیمی) بل 2021ء منظور کیا جائے۔ قومی اسمبلی نے بل کی منظوری دے دی۔