ملتان(مسائل نیوز)پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم شہبازشریف کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق ملتان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم شہباز شریف کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کریں گے کہ جس شخص پر نیب کے مقدمات ہوں اور فرد جرم عائد کی جانی ہو وہ پاکستان کی نمائندگی کرے تو ملک کے وقار کو نقصان پہنچتا ہے ، اس لیے جب تک شہبازشریف مقدمے سے بری نہیں ہوتے ن لیگ دوسرے رکن کو نامزد کرے۔
سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ تحریک انصاف پہلی جماعت ہے جس نے پولیٹیکل فنڈنگ متعارف کرائی کیوں کہ ہمارے پاس چوری کا مال نہیں تھا اور جب ہم نے بیرون ملک پاکستانیوں سے امداد طلب کی تو انہوں نے ایک ہفتے میں 22 کروڑ روپے جمع کرائے ، ہم نے اپنا مکمل ریکارڈ الیکشن کمیشن کےسامنے رکھ دیا اور ہر سوال کا مفصل جواب دیا ۔
- Advertisement -
علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف نے 26 اپریل کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کا اعلان کردیا ، پی ٹی آئی رہنماء فواد چوہدری نے بتایا کہ آج تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا ، اس اجلاس میں الیکشن کمیشن کے معاملات کا جائزہ لیا گیا ، اپنے ایک بیان میں پی ٹی آئی کے ہیڈ آف میڈیا افیئرز نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے جانبداری اور بددیانتی کی انتہا کر دی اور منصوبے کے تحت ابھی تک منحرف اراکین کی اسمبلی سیٹ ختم کرنے کی ڈیکلریشن نہیں کی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف الیکشن کمیشنر کے اس رویے کے خلاف 26 اپریل بروز منگل پورے ملک میں الیکشن کمیشن کے دفاتر کے سامنے احتجاج کرے گی ، اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف کی تمام ضلعی تنظیموں کو ہدایات جاری کی جارہی ہیں۔ ادھر پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اعلان کردہ احتجاج کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے سکیورٹی مانگ لی ، اس حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کے احتجاج کی وجہ سے سکیورٹی کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ پی ٹی آئی کے ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر کے باہر احتجاج کے اعلان کے پیش نظر صوبائی الیکشن کمیشنز اور ضلعی دفاتر کی سکیورٹی کے حوالے سے اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے ۔
اس ضمن میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے دفاتر کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے کمیشن کی طرف سے سیکریٹری داخلہ کو خط لکھا جائے گا اسی طرح صوبائی اور ضلعی دفاتر کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن صوبائی حکومتوں کو خط لکھے گا ۔