جانتے ہیں سردیوں کے اس پھل کا رس کتنی بیماریوں کیلئے اکسیر ہے؟
لاہور(مسائل نیوز)ایک حالیہ تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ سردیوں کے معروف پھل مالٹے کے رس کا باقاعدہ استعمال مدافعتی خلیوں کے اندر ہزاروں جینز کی سرگرمی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ان میں سے بہت سے جینز بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے، سوزش کو کم کرنے اور جسم کے شوگر کے استعمال کے طریقے کو منظم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ یہ سب طویل مدت میں دل کی صحت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کے حوالے سے العربیہ نے رپورٹ کیا ہے کہ تحقیق میں ان بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا جنہوں نے دو ماہ تک روزانہ 500 ملی لیٹر خالص پاسچرائزڈ مالٹے کا رس نوش کیا تھا۔ 60 دنوں کے بعد سوزش اور ہائی بلڈ پریشر سے وابستہ کئی جینز کی سرگرمی کم ہوگئی۔
ان جینز میں NAMPT، IL6، IL1B اور NLRP3 شامل تھے جو عام طور پر اس وقت فعال ہوتے ہیں جب جسم تناؤ کا شکار ہوتا ہے۔ ایک اور جین جسے SGK1 کہا جاتا ہے، کی سرگرمی بھی کم ہوگئی، یہ جین سوڈیم کو روکنے کی گردے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ تبدیلیاں پچھلے نتائج کے مطابق ہیں جو بتاتے ہیں کہ روزانہ مالٹے کا رس پینا نوجوانوں میں بلڈ پریشر کو کم کر سکتا ہے۔
دل کی صحت میں بہتری
یہ تحقیق اس بات کی ممکنہ وضاحت بھی پیش کر رہی ہے کہ کیوں کئی تجربات میں مالٹے کے رس کا تعلق دل کی صحت میں بہتری سے جوڑا گیا ہے۔ نئی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ مالٹے کا رس بلڈ شوگر کو بڑھاتا ہے اور جسم کے ریگولیٹری سسٹمز میں معمولی تبدیلیاں کرتا نظر آتا ہے جس سے سوزش کم ہوتی ہے اور خون کی نالیوں کو آرام پہنچانے میں مدد ملتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مالٹے میں پائے جانے والے قدرتی مرکبات، خاص طور پر ہیسپیریڈن (ایک لیموں والا فلیوونائڈ جو اپنی اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلامیٹری خصوصیات کے لیے معروف ہے)، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول کے توازن اور شوگر کے ساتھ جسم کے نمٹنے کے عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی طرح جسم کی جسامت کے لحاظ سے ردعمل مختلف ہوتا ہے۔ زیادہ وزن والے افراد میں چکنائی کے میٹابولزم کے ذمہ دار جینز میں زیادہ تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ کم وزن والے رضاکاروں میں سوزش پر زیادہ مضبوط اثرات دیکھے گئے۔
انسولین کی مزاحمت میں کمی
15 مطالعات کے 639 شرکاء پر مشتمل ایک منظم جائزے سے یہ نتیجہ نکلا ہے کہ مالٹے کے رس کا باقاعدہ استعمال انسولین کی مزاحمت اور خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتا ہے۔ انسولین کی مزاحمت ذیابیطس سے پہلے کے مرحلے کی ایک اہم علامت ہے اور ہائی کولیسٹرول دل کی بیماری کا ایک ثابت شدہ خطرہ ہے۔
- Advertisement -
اچھے کولیسٹرول میں اضافہ
ایک اور تجزیہ، جس میں زیادہ وزن اور موٹاپے کا شکار بالغ افراد پر توجہ دی گئی، کے مطابق مالٹے کا رس روزانہ پینے کے کئی ہفتوں بعد سسٹولک بلڈ پریشر میں معمولی کمی اور اچھے کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ دیکھا گیا۔ اگرچہ یہ تبدیلیاں معمولی ہیں لیکن بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں چھوٹی بہتری کئی سالوں تک جاری رکھنے پر نمایاں فرق پیدا کر سکتی ہے۔
آنتوں کا مائیکروبیوم
دیگر مطالعات بھی مالٹے کے رس کے فوائد کی طرف اشارہ کرتے ہیں جہاں دیگر تحقیقات میں ’’ میٹابولائٹس ‘‘ (خوراک کے عمل کے دوران بننے والے چھوٹے مالیکیولز) کا جائزہ لیا گیا۔ ایک حالیہ سائنسی جائزے نے انکشاف کیا کہ مالٹے کا رس توانائی کے استعمال، خلیوں کے درمیان رابطے اور سوزش سے متعلق راستوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ آنتوں کے مائیکروبیوم پر بھی اثر انداز ہوتا ہے جس کا دل کی صحت میں کردار اب زیادہ واضح طور پر سمجھا جا رہا ہے۔ ایک تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ ایک ماہ تک سرخ مالٹے کا رس پینا آنتوں کے ان بیکٹیریا کی تعداد بڑھاتا ہے جو شارٹ چین فیٹی ایسڈز پیدا کرتے ہیں۔ یہ مرکبات صحت مند بلڈ پریشر کو برقرار رکھنے اور سوزش کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ رضاکاروں نے بلڈ شوگر کی سطح میں بہتری اور سوزش کے اشاروں میں کمی بھی دکھائی ہے۔
میٹابولک سنڈروم میں کمی
میٹابولک سنڈروم (جس میں ہائی بلڈ پریشر، ہائی بلڈ شوگر اور جسم کی اضافی چربی شامل ہے) میں مبتلا افراد مالٹے کے رس کے باقاعدہ استعمال سے خاص طور پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ایک تحقیق میں روزانہ مالٹے کے رس نے موٹاپے کا شکار 68 شرکا میں اینڈوتھیلیل فنکشن کو بہتر بنایا۔ اس سے مراد خون کی نالیوں کے پھیلنے اور آرام کرنے کی صلاحیت ہے اور بہتر کارکردگی کا تعلق ہارٹ اٹیک کے کم خطرے سے ہوتا ہے۔
خون میں چکنائی کا ارتکاز
خون میں چکنائی کے ارتکاز کے ایک وسیع تر تجزیے نے ظاہر کیا ہے کہ اگرچہ برے کولیسٹرول کی سطح میں کمی آئی ہے لیکن دیگر پیمائشیں جیسے ٹرائگلیسرائڈز اور اچھے کولیسٹرول میں شاید زیادہ تبدیلی نہیں آتی۔ لیکن وہ شخص جو روزانہ مالٹے کا رس پیتا ہے وہ متعدد دیگر فوائد حاصل کرتا ہے۔ ان میں سوزش کا کم ہونا، خون کے صحت مند بہاؤ کی مدد اور طویل مدت میں دل کی صحت سے متعلق خون کے کئی اشاریوں کی بہتری شامل ہے۔