اسلام آباد(مسائل نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے تعزیرات پاکستان میں بغاوت کی دفعہ 124 اے کالعدم قرار دینے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شیریں مزاری کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بغاوت کی دفعہ آئین پاکستان میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔
شیریں مزاری نے تعزیرات پاکستان میں بغاوت کی دفعہ 124 اے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنچ کیا گیا۔شیریں مزاری نے بیرسٹر ابوذر سلمان خان نیازی کے ذریعے دائر کی،درخواست میں بغاوت کی دفعہ غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی،رہنما پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بغاوت کی دفعہ اظہار رائے کی آزادی سلب کرنے کے لیے استعمال کی جارہی ہے۔
یہ دفعہ آئین پاکستان میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔تنقید اور اظہار رائے کو دبانے کے لیے بغاوت کے مقدمات کا سہارا لیا جاتا ہے۔درخواست میں بغاوت کے مقدمات کا اندراج روکنے اور بغاوت کے مقدمات پر حکم امتناع جاری کرنے کی بھی استدعا کی گئی۔درخواست میں اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں کے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کو فریق بنایا گیا۔
جبکہ شیریں مزاری کا کہنا تھا میں نے 2020 میں بھی بغاوت کے قانون کی حمایت نہیں کی تھی۔لوگ جس طرح عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں،الیکشن میں سویپ کریں گے۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان قوم کے لاڈلے ہیں۔شیریں مزاری نے کہا کہ ہماری اسمبلی میں بہت باریک اکثریت تھی،تبدیلیاں کرنے کی ہماری اکثریت نہیں تھی۔جبری گمشدگی کا بل اسمبلی سے منظور ہوا لیکن سینیٹ میں پھنس گیا تھا۔ پہلے بھی بغاوت کے قانون کی حمایت نہیں کی تھی۔لوگ چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں اور انتخابات میں سویپ کریں گے۔
Get real time updates directly on you device, subscribe now.