لحد ہی زندگی ھے ۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
- Advertisement -
اللہ نے سب سے زیادہ آزادی انسانوں اور جنوں کو بخشی ھے کیونکہ ان دونوں مخلوقات سے اللہ بعد موت حساب و کتاب پوچھے گا لیکن حضرت انسان کو تمام مخلوقات میں اشرف المخلوقات کا مقام عطا کیا۔ یہ مقام بھی دنیائے جہاں میں ازل سے ابد تک کے انسانوں کو امام الانبیاء ختم الرسل مولائے کل حضور پر نور محمد مصطفیٰ نورِ خدا ﷺ کے صدقے عطا کیا ھے اور ھم اپنے آقا و مولیٰ دوجہاں کے والی محمد عرابی ﷺ کی امت ھونے کے سبب تمام امت میں افضل ھیں۔ کبھی اپنے وجود اور اعمال پر غور کیا کہ ھم نے کس قدر اتبائے رسول سنت رسول اطاعت رسول کو اپنایا کیا ھم اس قابل بھی ھیں کہ اپنی ناپاک زبان سے مقدس ترین نامِ محمد ﷺ ادا کرسکیں یقیناً نہیں ہرگز نہیں لیکن پھر بھی یہ کرم در کرم رحم در رحم یہ فضل در فضل رسول خدا محمد مصطفیٰ ﷺ کا ھے کہ بات ابتک بنی ھوئی ھے۔ آپ ﷺ ہمیشہ سے امت کی بخشش کیلئے اللہ سے دعا کرتے تھے اور روزِ محشر شفاعت عظیم کے منصب پر ھونگے اور اپنی امت کی بخشش کرارھے ھونگے۔ اے ظالمو و جابرو دنیا پرستی میں اوندھے پڑے رھنے والو ھم سب نے سوچا ھے کہ بعد موت زندہ ھونے پر کس منہ سے سامنا کریں گے۔ یہ دنیا عارضی بے وقعت بے توقیر بے حیثیت ھے تب تک جب تک کہ ھم اللہ اور اس کے حبیب کی مکمل اطاعت میں زندگی بسر کریں یاد رھے زندگی ایک بہترین موقع ھے اللہ اور حبیب خدا ﷺ کا قرب و محبت حاصل کرنے کا وگرنہ موت کے بعد صرف پچھتاوا ہی پچھتاوا رہ جائیگا۔ معزز قارئین!! مانا کہ میں بہت گناہگار ھوں مگر یہ میرے آقا کا کرم ھے کہ قبرستان ضرور جاتا ھوں۔ بچپن سے عادت بنائی ھوئی ھے۔ خاص طور سے بارشوں کے زمانے میں کئی قبریں کھل جاتی ھیں اور کئی سبق آموز ۔۔۔۔ اللہ سب کی مغفرت فرمائے آمین۔ قبرستان کے گورکنوں سے اچھی بات چیت ھے ان کے درمیان بیٹھ بھی جاتا ھوں۔ قبر بنانا اور مردوں کو دفن کرنا یہ ان کا پیشہ ھے۔ انہیں شب و روز یہی کام کرنا پڑتا ھے اسی سبب انہیں نہ کوئی خوف نہ خطر کا احساس ھوتا ھے لیکن اکثر و بیشر اپنے کام کے دوران مختلف واقعات سے آشکار ھوجاتے ھیں اور وہ اپنے واقعات کو بتاتے بھی ھیں تاکہ زندہ لوگ زندگی کے مقصد کو فراموش نہ کرسکیں جی تو میں بات کررھا تھا کہ گورکنوں کی نشت میں بیٹھ گیا تو ادھر ادھر کی باتیں ھونے لگیں پھر قبرستان میں قبروں کے حال احوال پر بات نکلی اس پر ایک گورکن نے کہا کہ اب ﻗﺒﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮئے ﺑﮩﺖ ﻣﺸﻘﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺗﯽ ہے۔ قبر ﮐﯽ ﻣﭩﯽ ﺳﺨﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﭘﺘﮭﺮ ﻗﺒﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﺎﻭﭦ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ آج کل ﻗﺒﺮﻭﮞ ﮐﯽ کھدﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ سانپ، ﺑﭽﮭﻮ و دیگر زہریلے جانور ﮐﺎ ﻧﮑﻞ ﺁﻧﺎ ﻋﺎﻡ ﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﻮگئی ﮨﮯ۔ کئی ﻗﺒﺮﻭﮞ ﮐﯽ کھدﺍﺋﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﯽ ﻭﺣﺸﺖ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺒﺮﺍﭦ بھی ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ چونکہ ﻗﺒﺮ ﮐﯽ کھدﺍﺋﯽ ﻧﻨﮕﮯ ﭘﺎﻭﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ کئی ﻗﺒﺮﻭﮞ ﮐﯽ کھدﺍﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺮ ﺟﻠﻨﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔ میں نے ﺍﭘﻨﯽ زﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻗﺒﺮ ﺳﮯ ﺩﮬﻮﺍﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﮒ ﮐﮯ ﺷﻌﻠﮯ ﺑﮭﯽ۔ کئی ﻗﺒﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺁﮒ ﺟﻠﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﭼﯿﺦ ﻭ ﭘﮑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺳﻦ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ۔ دوسرے گورکن نے کہا کہ ایسی بھی قبریں ھیں جن سے تلاوت کلام پاک کی آوازیں آتی ھیں کئی ایک پرانی قبروں کو کھولا تو مردہ ایسا سو رھا تھا کہ جیسے ابھی ابھی دفن کیا ھو کفن تک میلا نہیں ھوا تھا اور کئی ایسی بھی قبریں ھیں جن میں مشک و عنبر جیسی خوشبو آرھی تھیں۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! اپنی اس تحریر میں چند ایک سچے واقعات پیش خدمت ھیں تاکہ قبرستان جانے کی عادت اور تلاوت قرآن و درود شریف پڑھنے کا حقیقی لطف آپ نیک مومن پرہیزگار متقی سمیٹ سکیں اور مجھ گناہگار ناچیز بندہ کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں تاکہ میری بخشش کا کچھ ساماں ھوجائے۔ یاد رھے کہ ھمارے آقا و مولا محمد مصطفیٰ ﷺ خود اکثر و بیشتر قبرستان جایا کرتے تھے اور مرحومین کیلئے دعائے استغفار کرتے تھے یہ عمل آپ ﷺ نے اپنی امت کیلئے کیا تاکہ بعد آنے والی امت اس سنت کو اپناتے رھیں اور بیش بہا رب العزت کے خذانوں اور انعامات سے مستفید ھوتے رھیں۔ آپ ﷺ نے اپنی امت کو جمعہ کے روز قبرستان جانے کی افضلیت و ترغیب دی ھے۔ معزز قارئین!! کم از کم ہر جمعہ یا پھر ہر ماہ میں ایک جمعہ ضرور جایا کریں۔ قبروں کی صفائی ستھرائی اور ٹوٹ پھوٹ کی درستگی کرلیا کریں۔ کوشش کریں کہ ایک چھوٹا پودا لگا دیں کیونکہ قبر پر نم دار ٹہنی لگانے کی سنت موجود ھے اور اگر گلاب یا دیگر تازہ پھول پتیاں ڈال دیں تو یہ بھی احسن قدم ھے کیونکہ پھولوں پر شہید کی مکھیاں آتی ھیں، شہید کی مکھی کی عادت ھے کہ وہ جب تک پھول پر موجود رہتی ھے مسلسل تسبیح و تحلیل و درود شریف کا ورد جاری رکھتی ھیں جس سے یقیناً صاحب قبر اس درود کی برکت سمیٹتے ھونگے۔ قرآن پاک کی سورتوں کیساتھ لازماً ” درود روحی جسے درود قبرستان ” بھی کہتے ھیں ضرور بلضرور تحفة ہدیة حضور کائنات محمد مصطفیٰ ﷺ کو پیش کردیا کریں پھر آپ محمد مصطفیٰ ﷺ اور آلِ محمد ﷺ کے صدقے و وسلیہ سے اللہ سے دعا طلب کریں تو انشاءاللہ بڑی روحانیت محسوس کریں گے اور دعا رد بھی نہیں ھوگی۔ میری نابالغ عمر کا زمانہ تھا ششم جماعت کا طالبعلم تھا روزانہ قبرستان جایا کرتا تھا ساتھ ہاتھ میں درود شریف کی کتاب ہوتی تھی کتاب کے ذریعے درود روحی کثرت سے پڑھتا تھا۔ چند سال بعد وہ کتاب گم ھوگئی، بہت تلاش کیا مگر مایوسی ھوئی، کتب بازار گیا، وہاں بھی فروخت ھوچکی تھی اور نہ ملی سکی، دل و روح بڑی بےچینی کے عالم میں تھے، مجبور ھوکر قبرستان گیا لیکن باہر گیٹ پر کھڑا ھوگیا۔ نجانے کب اور کیسے ایک انتہائی خوبصورت نورانی شکل کے بزرگ قریب آئے پوچھنے لگے اندر کیوں نہیں جاتے میں نے بتایا کہ درود روحی پڑھتا تھا کتاب گم ھوگئی کیسے جاؤں پھر ان بزرگ نے کہا درود سے محبت کرتے ھو تو میں نے کہا کہ صرف محبت ہی نہی عشق بھی کرتا ھوں غصے میں بولے کیسے عاشق ھو کہ محبوب کو سینے میں نہیں بسانا بس ان کا یہ جملہ پورے وجود کو ہلا ڈالا میں واپس گھر لوٹا دوستوں سے درود شریف کی کتاب کے متعلق معلوم کرتا رھا بلآخر ایک دوست سے کتاب مل ہی گئی میں نے کچھ عرصہ میں کئی اور درود شریف سینے میں محفوظ کرلئے پھر وہ کتاب دوست کو واپس کردی۔ اسی درود شریف کے کثرت ورد سے اللہ نے کیا کچھ انعامات سے مستفید کئے یہ میرے اللہ کے درمیان کا معاملہ ھے بس اتنا کہتا ھوں کہ ایک کامیاب و کامران اصل حیات کا سرچشمہ درود پاک ھے۔ بناء درود شریف تلاوت نماز تسبیح و تحلیل مکمل نہیں کیونکہ رب العزت اپنے فرائض میں محبوب کے درود شریف کو دیکھتا ھے اور درود شریف کی بدولت ھماری نمازیں تلاوت تسبیح و تحلیل و دیگر نیکیاں قبول کرتا ھے۔ قرآن الحکیم کی سورة الاحزاب کی آیت ٥٦ میں ارشاد باری تعالیٰ ھے کہ ترجمہ ” بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ ” ۔ میرے پاس سامان سفر بھی نہ تھا کہ اچانک بلاوا آگیا میں کیسے بیت اللہ پہنچا اور پھر میرے آپ کے آقا دوجہاں کائنات کے والی رحمة اللعالمین ﷺ کے موجہ شریف پر حاضری کی سعادت نصیب ھوئی اور کس قدر مہمان نوازی ھوتی ھے مجھ میں اس عظیم ترین مہمان نوازی کیلئے ہر الفاظ چھوٹے پڑ رھے ھیں بس اتنا کہہ دیتا ھوں کہ برسوں تپتے ریگستان کے پیاسے کو میٹھا ٹھنڈا پانی میسر آجائے وہ کیفیت اس کیفیت کے ذرے برابر بھی نہیں۔ حقیقت تو یہ ھے کہ عشق کی آگ کی ہلکی سی لو زندگی سے نفرت اور موت سے عشق میں مبتلا کردیتی ھے کیونکہ اس عاشق کو علم ھوجاتا ھے کہ اصل زندگی ہی بعد موت ھے وہ لحد کو اس دنیاوی نفس پرستی سے زیادہ عاشق سے ملاقات کو ترجیح دیتا ھے۔ میں بہت معمولی گناہگار ھوں مگر میں نے دیکھا ھے کہ جو اللہ والوں کا دامن تھام لیتے ھیں وہ بلآخر منزل تک پہنچ جاتے ھیں۔ اللہ والے دنیا والوں کو دیتے ھیں لیتے نہیں اور ان اللہ والوں کا رضائے الہٰی اور رضائے مصطفیٰ ہمیشہ مقصد رہتا ھے۔ جس موضوع پر قلم اٹھایا ھے بہت وسیع اور بہت نورانی پھیلا ھوا ھے۔ ھمیں سب کو بلخصوص مجھے اپنی لحد کو روشن اور کشادہ کرنے کیلئے درود شریف اور درود روحی کا ساتھ ہمیشہ رکھنا ھوگا۔ میری پر نانی کا انتقال جب ھوا تھا تو میں روز جاکر درود روحی خاص کر پڑھتا تھا ساتھ ایک شخص نے پوچھا کب سے پڑھ رھے ھو میں نے جواب دیا چالیس روز سے زائد ھوگئے ھیں تو انھوں نے کہا آج عشاء کی نماز کے بعد دو رکعت نفل پڑھنا اور دعا کرنا کہ رب تو مجھے میرے درود شریف کے تحفہ کا معاملہ خواب میں دکھادے اور پھر بناء کسی سے بات کئے درود شریف کا ورد کرتے کرتے سوجانا، میں نے ایسا ہی کیا خواب دیکھا کہ روزانہ کی طرح عصر کے بعد قبرستان پہنچا مگر سب قبریں کھلی ھوئیں تھیں بلآخر پر نانی کی قبر پر پہنچا تو انکی بھی قبر کھلی ھوئی تھی وہ مجھے دیکھ رہی تھیں جیسے زندہ لیٹے ھوں میں نے پر نانا سے پہلے حال پوچھا وہ بہت خوش تھیں شور شرابے کے متعلق پوچھا تو کہا کہ درود شریف تقسیم ھورھا ھے۔ انتہائی مجبوری میں یہ حقائق پیش کئے ھیں تاکہ کچھ دوست غفلت سے بیدار ھوجائیں اور نماز روزہ تلاوت کیساتھ ساتھ درود شریف کے ورد کو بڑھالیں۔ آج ھم سب کی جو حالت ھے اس میں ھماری دین اور اسلام سے غفلت دوری اور سستی ھے بیشک اللہ کے کلام میں بہت برکت اور طاقت ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! یہ ﻣﯿﺮﯼ، ﺁپ کی ﻓﺎﻧﯽ زﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ جو ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮞﻋﺮﺽ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔ قبر ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻭﮦ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﮔﮭﺮ ﮨﮯ جس ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺛﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻧﮑﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﺗﮏ ﺭﮨﻨﺎ ﻣﻘﺪﺭ ﭨﮩﺮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔ کبھی ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻮﮦ ﻟﯿﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﺎﺭﺿﯽ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ کیلئے ﻓﺮﺍﻣﻮﺵ ﮐﺮﮐﮯ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ جہاں ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﺭہاﺋﺶ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ
ﺟﺎﮐﺮ ﺍنکے ﻣﮑﯿﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﺭہاﺋﺶ ﮔﺎﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺁﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ تاکہ ﺍﭘﻨﯽ ﺭہاﺋﺶ ﮔﺎﮦ ﮐﮯ ﭘﻼﭦ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺭہاﺋﺶ کیلئے ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﺼﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﻧﮯ ﺑﺎﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﺘﮯ ﺭﮨﺎ ﮐﺮﯾﮟ۔ قبرستان ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻭﺍﺣﺪ بین الاقوامی ہاؤسنگ سوسائٹی ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺁﭘﮑﻮ ﺩﻭ ﮔﺰ ﮐﺎ ﭘﻼﭦ ﺑﻐﯿﺮ ﺗﺮﻗﯿﺎﺗﯽ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻠﺘﺎ ہے۔ جہاں ہر ﻓﺮﺩ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﻼﭦ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺷﻨﯽ، کشادگی، ﺧﻮﺷﮕﻮﺍﺭ ﮨﻮﺍﺅﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻏﺎﺕ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﺮﮐﮯ ﺁﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ۔ لہٰذا ﮐﯿﺎ ﮨﯽ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﺎﺭﮮ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﺎﺕ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﻣﮑﻤﻞ کرلئے گئے ﮨﻮﮞ، اﻭﺭ ﮐﻤﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﺁﭘﮑﯽ ﺁﻣﺪ ﮐﯽ۔ اﻟﻠﮧ ہم ﺳﺐ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﻮ ﺁﺳﺎﻥ ﺑﻨﺎﺋﮯ۔ آمین یا رب العالمین ۔۔۔۔!!