ق لیگ کے رہنماؤں کو کسی قسم کا خط براہ راست جاری نہ کیے جانے کا انکشاف
لاہور(مسائل نیوز)مسلم لیگ ق کے رہنماؤں کو وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن کے حوالے سے کسی قسم کے خط براہ راست جاری نہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔جیو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چوہدری شجاعت نے وزیراعلیٰ کے الیکشن کے حوالے سے پارٹی کے کسی رکن کو براہ راست لیٹر جاری نہیں کیا۔ق لیگ کے کسی رکن پنجاب اسمبلی کو چوہدری شجاعت کا خط موصول نہیں ہوا جس میں حمزہ شہباز کو ووٹ کی ہدایت کی گئی ہو۔
چوہدری شجاعت نے سہ پہر کے وقت خفیہ طور پر ڈپٹی اسپیکر کو خط لکھا جب کہ ق لیگ کے ارکان کو خط کا علم ووٹ ڈالنے کے بعد ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے ہوا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ن لیگ کے امیدوار حمزہ شہباز دوبارہ وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے،جبکہ چوہدری پرویز الہیٰ کو پھر شکست کا سامنا رہا۔
پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے نتیجے کا اعلان کرنے سے پہلے چوہدری شجاعت کا خط ایوان میں پڑھ کر سنایا،جس کی بنیاد پر مسلم لیگ (ق) کے کاسٹ کیے گئے تمام 10 ووٹ منسوخ کردیے تھے۔
- Advertisement -
پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے ووٹنگ ہوئی جس میں حمزہ شہباز نے اکثریت حاصل کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز پونے تین گھنٹے کی تاخیر سے شام 7 بجے شروع ہوا جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے ووٹنگ کا عمل شروع کرایا ۔ ووٹنگ کے نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار پرویز الہیٰ نے 186 ووٹ لیے جبکہ مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز نے 179 ووٹ لیے۔ تاہم ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت کے خط کو پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے ق لیگ کے ارکان کو حمزہ شہباز کو ووٹ ڈالنے کی ہدایت کی تھی ۔