فیصل بینک میں صارفین غیر محفوظ، بغیر اجازت رقوم کی منتقلی اور کٹوتی کا انکشاف
کوئٹہ (مسائل نیوز) بینکنگ سیکٹر میں مالی شفافیت اور صارفین کے اعتماد کو اُس وقت شدید دھچکا پہنچا، جب فیصل بینک کے ایک صارف نے انکشاف کیا کہ اُس کے ایکٹیو اکاؤنٹ سے بغیر اجازت رقم نکال کر ایک ایسے بند اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئی جو گزشتہ دو سال سے غیر فعال تھا۔
یہ سنگین واقعہ 20 مئی 2025 کو سامنے آیا، جب متاثرہ صارف نے اپنے اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹ کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا کہ اُس کی رقم غیر قانونی طور پر دوسرے بند اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی، جس کے بعد اس بند اکاؤنٹ پر اے ٹی ایم کارڈ اور ایس ایم ایس الرٹ کی فیس کے نام پر مزید کٹوتیاں کی گئیں۔
- Advertisement -
حیران کن امر یہ ہے کہ بینک کا عملہ اس پورے عمل سے لاعلم نکلا، اور متاثرہ صارف کو کوئی واضح یا تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔ صارف کے مطابق یہ عمل اس کی اجازت اور اطلاع کے بغیر کیا گیا، جو کہ بینکاری قوانین اور صارف کے بنیادی مالیاتی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
متاثرہ صارف نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، بینکنگ محتسب اور ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی مشکوک سرگرمیوں کی شفاف اور فوری تحقیقات کی جائیں تاکہ دیگر صارفین کو بھی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے تمام فیصل بینک صارفین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے اکاؤنٹس کی مکمل تفصیلات چیک کریں، کسی بھی غیر معمولی یا مشکوک ٹرانزیکشن کی صورت میں فوراً شکایت درج کروائیں، اور اپنی رقم کے تحفظ کے لیے متبادل بینکنگ ذرائع پر سنجیدگی سے غور کریں۔