ایک بھیانک رات کا واقعہ
تحریر: کنول زہرا
مقبوضہ کشمیر میں
32سال پہلے 23فروری 1991 کو کنن پوش پورہ میں ایک دردناک واقعہ پیش آیا جو مقبوضہ وادی کی تلخ یادوں میں سے ایک ہے, کنن پوش پورہ کشمیر کے دو جڑواں گاﺅں ہیں۔ یہ دونوں گاﺅں کشمیر کی راجدھانی سری نگر کے شمال میں تقریباً 90 کلو میٹر کی دوری پرضلع کپواڑہ میں آباد ہیں۔23 فروری 1991 کی سرد رات کو تریہگام بھارتی آرمی کیمپ سے 4 راج پوتانہ رائفلزاور 68 مونٹائن بریگیڈ کی ایک کمپنی کنن پوش پورہ آکر مساجد سے اعلان کراتی ہے کہ سارے مرد گھروں سے باہر آ جائیں بعد ازاں ان جسمانی تشدد کر کے نڈھال کر دیا جاتا ہے اور جن میں کچھ کسک باقی ہوتی ہے انہیں درختوں کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے ۔ پھرشراب کے نشے میں دھت بھارتی درندے گھروں میں داخل ہوتے ہیں اور8 برس کی بچیوں سے لے کر 80سال کی عمر تک 100 سے زائدخواتین کو اجتماعی آبروریزی کانشانہ بناتے ہیں, دنیا کو اس جبر کی خبر بھی نہیں ہوتی ہے کیونکہ جب ذرائع ابلاغ اتنا فعال نہیں تھا۔کشمیر کی پانچ طالبات ایثار بتول، افرابٹ، سمرینا مشتاق، منزہ رشید، اور نتاشا راتھر نے 2016 میں ”کیا آپ کو کنن پوش پورہ یاد ہے“ کے نام سے کتاب لکھ کراس ظلم وبربریت سے دنیا کو آگاہ کیا،بھارتی درندگی اوربربریت کاپردہ چاک کیا انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو متوجہ کیا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے ۔
انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ریسرچ سنٹر کینیڈا کی جانب سے شائع ہونے والی اس کتاب نے دنیا بھر میں شہرت اور بھارتی فوج کے مکروہ چہرے کو عیاں کیا۔228 صفحات پر مشتمل یہ اس بھیانک رات کی وہ داستان غم ہے جوآج بھی ہمیں جھنجوڑرہی ہے ۔کنن پوش پورہ کتاب فوج کی وہ بربریت پیش کرتی ہے جس کی مثال نہیں ملتی ۔ فوج کا وہ بدنماچہرہ پیش کرتی ہے جسے دیکھ کرہرایک کوگھن آتی ہے ،یہ کتاب حقیقت میں انصاف کی بات کرتی ہے جو جمہوریت کا ایک ستون ہے،یہ کتا ب دراصل ایک یاد ہے جو کشمیری قوم کبھی بھی بھول نہیں سکتی،،یہ کتاب بھارتی قبضے کے خلاف وہ ایف آئی آرہے کہ جس کوکسی صورت ختم نہیں کیا جاسکتا۔ 2014 میں کشمیر کی ہائی کورٹ نے متاثرین کو زرِ تلافی دینے کے احکامات جاری کیے۔ مگرعمل نہیں ہوا بعدازاں اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا,یہ کیس اب بھی زیرالتوا ہے,
اس واقعے کے بعد مارچ 1991ء کو چیف جسٹس جموں و کشمیر کے تحقیقاتی کمیشن کے سامنے 53 کشمیری خواتین نے بھارتی فوجیوں کی طرف سے عصمت دری کا اعتراف کیا۔
اس کے بعد 15 سے 21 مارچ 1991ء کے دوران ہونے والے طبی معائنوں میں 32 کشمیری خواتین پر تشدد اور جنسی زیادتی ثابت ہوئی۔ اس اندوہناک واقعے کی گونج دنیا بھر کے ایوانوں میں سنی جانے لگی جس کے بعد 1992ء میں امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی شائع کردہ رپورٹ میں بھی کہا گیا کہ ’کنن پوش پورہ سانحے میں بھارتی فوج کے خلاف اجتماعی زیادتی کے ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں‘۔
مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت انصاف کے حصول کیلئے کنن پوش پورہ تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جسے بھارتی حکومت نے جَبری ختم کردیا۔ بھارتی حکومت نے اس سانحے کو پروپیگینڈا قرار دے کر بھارتی فوج کو بری الزمہ قرار دے دیا اور اس سانحے کو چھپانے کی خاطر پولیس حکام کے متعدد بار تبادلے بھی کیے گئے۔
ان 32 سالوں میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھارتی حکومت سے اس حادثے کی تحقیقات کا بارہا مطالبہ کرچکی ہیں لیکن اتنا وقت گزرنے کے باوجود کنن پوش پورہ کے مجرمان بھارتی ریاستی سرپرستی میں آزاد ہیں۔
کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری، شوپیاں میں عصمت دری اور دہرے قتل، کٹھوعہ میں کمسن بچی سے زیادتی اور قتل جیسے واقعات بھارتی فورسز کے ظالمانہ چہرے کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس واقعہ کو ماس ریپ کا نام دیا گیا ہے ۔ کشمیری اس واقعہ کے خلاف 23 فروری 2013 سے یوم مزاحمت نسواں کشمیرکے طورپرمناتے ہیں ۔کشمیری خواتین قابض بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں۔ یونیورسل ڈیکلیریشن آف ہیومن رائٹس اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پاس کیے گئے خواتین کے حقوق کے عالمی بل کے تحت عورتوں کو معاشرتی، سیاسی و زندگی کے ہر شعبہ میں بنیادی حقوق اورآزادی حاصل ہے جبکہ کشمیر کی صورتحال بالکل برعکس ہے جہاں بھارتی فوجی تسلط اور ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے خواتین بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔1980 کے اواخر میں انسانی حقوق کی پامالی کا ایک نیاسیاہ باب شروع ہوا جو اب تک جاری ہے اور اس دوران ایک ہزار سے زائد خواتین شہید ہوچکی ہیں۔
1989 سے لے کر 2022 تک 12 ہزار 121کشمیری خواتین بھارتی افواج کے ہاتھوں درندگی اور عصمت دری کا شکار ہو چکی ہیں، 23ہزار 234 بیوہ ہو چکی ہیں اور ہزاروں خواتین نیم بیوہ کی حیثیت سے زندگی گزار رہی ہیں جن کے شوہر لاپتہ ہو چکے ہیں, جن کا تاحال کوئی اتا پتہ نہیں ہے, کشمیری خواتین کی عزتوں سے کھلواڑ صرف کسی ہوس کے مارے بھارتی فوجی اہلکار کا انفرادی جرم نہیں بلکہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کچلنے کیلئے ریاستی دہشتگردی کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ان کے شوہروں ، بھائیوں اور بیٹوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح مردوں کے سامنے ان کی عورتوں کی جبری عصمت دری کی جاتی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی گھاﺅ ہے جس کے ذریعے کشمیری مرد و خواتین کوشدید اذیت پہنچائی جاتی ہے۔
انسانی حقوق کے بارے میں 52 ویں اقوام متحدہ کے کمیشن میں، پروفیسر ولیم بیکر نے گواہی دی کہ کشمیر میں عصمت دری محض غیر طے شدہ فوجیوں پر مشتمل الگ تھلگ واقعات کا معاملہ نہیں، بلکہ قابض سکیورٹی فورسز کشمیری آبادی پر عصمت دری کو خوفناک اورسرگرم انداز میں ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔مقبوضہ کشمیر کی خواتین میں 1990 میں ذہنی تناوسے متعلقہ مریضوں کی تعداد 10 فیصد تھی جو کہ اب 60سے70 فیصد تک پہنچ چکی ہے جس کے نتیجے میں ہر 100 میں سے 70عورتیں نفسیاتی مریضہ بن چکی ہیں۔
بیوہ خواتین اپنے مقتول شوہروں کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہیں، آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی فوج کی موجودگی میں ان کیلئے اپنے اور اپنے بچوں کیلئے روزگار کمانا ناممکن ہے۔ کشمیری خواتین اپنے وطن کی خاطر امن اور بنیادی حقوق کے حصول کیلئے قربانیاں دے رہی ہیں۔ ظلم و ستم، کریک ڈاﺅن، جعلی مقابلوں، گمشدگیوں، بہیما نہ تشدد اورقتل و غارت کے باوجود کشمیری خواتین پختہ عزم کے ساتھ کھڑی ہیں ۔