لاہور ہائیکورٹ نے(ن) لیگ کے رہنما کی نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا
لاہور(مسائل نیوز)لاہور ہائیکورٹ نے 2013 میں (ن) لیگ کے ٹکٹ پر منتخب رکن صوبائی اسمبیل میاں طارق محمود کو نااہل قرار دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا ہے ۔
- Advertisement -
تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو کسی پرائیوٹ شخص کے ریفرنس پر نااہلی کا اختیار نہیں، آرٹیکل 63 ٹو کے تحت کمیشن کو صرف سپیکر یا چیئرمین سینیٹ سے آنے والے ریفرنس پر سماعت کا اختیار ہے ،یہ اختیارات کا غلط استعمال ہے جس کی قانون میں اجازت نہیں ہے ۔جسٹس شاہد کریم نے میاں طارق کی درخواست منظور کرتے ہوئے قانونی نکتہ طے کر دیا ۔پی پی 113 سے طارق محمود کو 2019 میں الیکشن کمیشن نے اثاثے چھپانے کے الزام پر نااہل کیا تھا ۔
جسٹس شاہد کریم نے اپنے فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 218 کلاز تین کی بنیاد پر نااہل کیا جس میں یہ اختیار موجود نہ تھا ،الیکشن کمیشن کے اس اقدام کی منظوری نہیں دی جا سکتی ،آرٹیکل 218(3)کے تحت الیکشن کمیشن کا کام صاف اور شفاف الیکشن کروانا ہے ،آئین اور قانون نے کمیشن اور عدالتوں پر انتخابی عزر داریوں پر حد بندی کی ہوئی ہے ،صرف پرائیوٹ شخص کی درخواست پر معاملہ الیکشن کمیشن کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جا سکتا ،اس سے نہ صرف اراکین کے حقوق بلکہ جمہوری عمل بھی متاثر ہو گا،ایسا کرنے سے ارکان پارلیمنٹ لوگوں کے ہاتھوں ایسی درخواستوں کے ذریعے ہراساں ہوں گے ،اختیارا ت کو وسعت دینے کا یہ رجحان قانون کی حکمرانی، آئین و جمہوریت کی بنیاد کے خلاف ہے ،یہ الیکشن کمیشن کے قانون میں دیئے گئے اختیارات سے تجاوز کا کلاسک کیس ہے ۔