اسلام آباد(مسائل نیوز) وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ شریف خاندان باہر کے کسی فرد کو وزیر اعلی پنجاب لگانے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ پنجاب کی صورتحال میں آئینی پوزیشن بڑی واضح ہے۔آئین کے مطابق اگر گورنر سمجھے کہ وزیر اعلی کو اکثریت حاصل نہیں تو وہ اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے کہہ سکتا ہے۔
عمران خان کے ساتھ عوام ہوتی تو اسمبلیاں توڑنے کی نوبت نہیں آتی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ عتماد کا ووٹ نہ لے سکے یا اجلاس نہ بلائے تو وہ عہدے پر نہیں رہے گا۔ہماری سمجھ کے مطابق اعتماد کا ووٹ نہ لینے کے بعد پرویزالہی عہدے پر برقرار نہیں رہے۔گورنر کی صوابدید ہے وہ کس وقت وزیر اعلی کو ہٹانے کا نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا پرویز الہی کے نمبر پورے ہیں تو اعتماد کا ووٹ لے لیتے۔
- Advertisement -
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ اعتماد کا ووٹ لینے کے موقع پر پی ٹی آئی اور ن لیگ کے ارکان غیر حاضر ہو سکتے ہیں۔عمران خان کے سنگ ہونے کے اعلان سے خائف نہیں تھے ہم نے الیکشن کی تیاری اور نواز شریف کی واپسی پر استقبال کی تیاریاں بھی شروع کر دی تھی۔عمران خان نے تماشہ لگایا ہوا ہے ہر پانچ سات دن بعد اسمبلی توڑنے کی نئی تاریخ دے دیتے ہیں۔
دوسری جانب اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کے احکامات ماننے سے انکار کردیا ہے۔ آئینی ماہرین کے مطابق جب گورنر پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کرلے تو سپیکر پنجاب اسمبلی پر لازم ہے کہ وہ گورنر پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں اجلاس طلب کرے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی کے انکار کے بعد پنجاب اسمبلی میں حسب اختلاف کے اراکین نے بدھ کی شام چار بجے پنجاب اسمبلی پہنچنے کا اعلان کر رکھا تھا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) اراکین پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب اسمبلی کی انتظامیہ نے ان کیلئے ایوان کے دروازے بند کردئیے تو وہ ایوان کے باہر ہی اپنا آئینی اجلاس طلب کریں گے اور وزیراعلیٰ پنجاب کو سرپرائز دیں گے جبکہ دوسری طرف گزشتہ روز گورنر ہائوس اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا۔ آئینی ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ گورنر کی ہدایات پر اگر سپیکر پنجاب اسمبلی اجلاس طلب نہیں کرتے اور وزیراعلیٰ پنجاب صوبائی ایوان سے اعتماد کا ووٹ نہیں لیتے تو وزیراعلیٰ پنجاب بطور وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے۔