MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

پاکستان آئیڈل میں فواد خان کے جج بننے پر حمیرا ارشد برس پڑیں، دیکھئے انہوں نے کیا کہا

0 55

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

لاہور(مسائل نیوز)ماضی کی معروف پلے بیک گلوکارہ حمیرا ارشد نے حال ہی میں فواد خان کی ’’پاکستان آئیڈل سیزن 2‘‘ میں بطور جج شمولیت پر کھل کر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ایسے فنکاروں کو جج نہیں بننا چاہیے جن کا موسیقی سے کوئی لینا دینا ہی نہیں۔‘‘

’سنو نیوز‘ کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حمیرا ارشد نے کہا کہ پاکستان میں برسوں سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ جنہیں موسیقی کی سمجھ نہیں، وہی موسیقی کے مقابلوں میں جج بن جاتے ہیں، اور افسوس کہ اب بھی یہی سلسلہ جاری ہے۔

ان کے بقول ’’اگر کسی شخص کو موسیقی کا بنیادی علم ہی نہیں، تو وہ نئے گلوکاروں کو پرکھنے کا حق کیسے رکھتا ہے؟ ایسے لوگوں کو خود سوچنا چاہیے کہ یہ ذمہ داری ان کے بس کی بات نہیں۔

حمیرا ارشد نے مزید کہا کہ مقابلہ موسیقی کا ہوتا ہے، اس لیے جج بھی موسیقی سے وابستہ پیشہ ور فنکار ہی ہونے چاہئیں۔ ’’سیلیبرٹی نام ہونا الگ بات ہے، لیکن گلوکاری کے مقابلے میں جج بننا بالکل مختلف ذمہ داری ہے۔‘‘

- Advertisement -

ان کا کہنا تھا کہ اسپانسرز یا شو کی انتظامیہ شاید مقبول ناموں کے دباؤ میں آ جاتی ہے، اس لیے اصل اہل لوگوں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

حمیرا نے ہنستے ہوئے کہا ’’اگر کسی نے فواد سے کہا کہ ذرا تان لگائیں، تو وہ شاید ایسا نہ کر پائیں تو پھر وہ گلوکاری کے جج کیسے؟‘‘

گلوکارہ کے مطابق ایسے مقابلوں میں انہی لوگوں کو جج بنایا جانا چاہیے جنہوں نے اپنی زندگی موسیقی کے فن کے لیے وقف کر رکھی ہے، کیونکہ اصل حق انہی کا ہے۔

واضح رہے کہ فواد خان صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی مقبول ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز راک بینڈ ’’ای پی‘‘ (Entity Paradigm) سے کیا تھا، جس کے بعد اداکاری میں آئے اور کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔

فی الحال فواد خان ’’پاکستان آئیڈل سیزن 2‘‘ کے ججز پینل کا حصہ ہیں، جہاں ان کے ساتھ راحت فتح علی خان، بلال مقصود اور زیب بنگش بھی موجود ہیں۔ یہ شو تیزی سے مقبول ہو رہا ہے اور ناظرین نہ صرف نئے ٹیلنٹ بلکہ ججز کے فیصلوں کو بھی خوب سراہ رہے ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.