لاپتہ آبدوز میں 4گھنٹے سے بھی کم کی آکسیجن باقی ہے
ٹائی ٹینک کی باقیات دیکھنے کیلئے جانے والوں مسافروں کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہےکہ اگر آبدوز صحیح سلامت بھی ہوئی تو اس میں اب چند ہی گھنٹوں کی آکسیجن بچی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی نژاد برطانوی شہزادہ داؤد اور انکے بیٹے سلیمان داؤد سمیت ٹائٹن آبدوز کے سوار 5 مسافروں کے اہل خانہ کسی معجزے کے انتظار میں ہیں جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبدوز صحیح سلامت بھی ہوئی تو اس میں اب چند ہی گھنٹوں کی آکسیجن بچی ہے۔
بحرِ اوقیانوس کی گہرائیوں میں غرقاب ہونے والے تاریخی بحری جہاز ٹائٹینک کے ملبے تک تفریحی سفر پر لے جانے والی لاپتہ آبدوز کی تلاش کا کام جاری ہے ۔ امریکی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ لاپتہ آبدوز کی تلاش کا عمل حتمی مرحلےمیں داخل ہو چکا ہے۔
امریکی کوسٹ گارڈ نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق لاپتہ آبدوز ٹائٹن میں موجود افراد کے لیےتقریباً پانچ گھنٹے کی آکسیجن بچی ہے جو پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر 4 بجے ختم ہوسکتی ہے ۔ آبدوز کی تلاش میں شامل ریسکیو ٹیموں کو مزید آوازیں سنائی دی ہیں اور سرچ آپریشن کا دائر وسیع کر دیا گیا ہے۔
سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں حیران کن اضافہ عوام کیلئے بری خبر
کیپٹن جیمی فریڈرک کا کہنا ہےکہ تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ نئی آوازیں کس چیز کی ہیں تاہم ٹیموں کی سرچ ایریا پر تلاش جاری ہے۔سرچ آپریشن کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے اور اب یہ ریاست کنیٹیکٹ سے دگنا اور چار کلو میٹر گہرا ہے۔
- Advertisement -
تلاش میں رائل کینیڈین ایئر فورس کے طیارے، بحری جہاز اور ریموٹلی آپریٹڈ وہیکلز حصہ لے رہے ہیں۔کیپٹن فریڈرک نے کہاکہ یہ اب بھی ایک سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن ہی ہے اور ’ہمیں مثبت اور پُرامید رہنا ہوگا۔‘
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ آج تلاش کے عمل میں مزید دس جہاز اور متعدد ریموٹ آبدوزیں حصہ لے رہی ہیں جبکہ کیمروں سے لیس ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے آلات مسلسل سمندر کی تہہ کی چھان بین کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زیر سمندر جس جگہ ٹائٹن آبدوز گئی ہے وہاں کا ماحول اور حالات زمین کی بیرونی خلا جیسے سخت اور مشکل ہیں کیونکہ ٹائی ٹینک کا ملبہ سمندر کے جس حصے میں موجود ہے اسے ’مڈنائٹ زون‘ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ درجہ حرارت منجمد کر دینے والا اور وہاں گھپ اندھیرا ہوتا ہے۔
بحرِ اوقیانوس کی گہرائیوں میں لاپتہ ہونے والی آبدوز کی تلاش میں شامل ریسکیو ٹیمیں جہاں تیزی سے گزرتے وقت اور آبدوز میں سوار افراد کے پاس آکسیجن کی کمی کے خطرے سے نبرد آزما ہیں وہیں انھیں ابھی تک آبدوز کا کوئی نشان نہیں ملا۔
یہ آبدوز ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ قبل بحرِ اوقیانوس میں غرق ہونے والے تاریخی بحری جہاز ٹائٹینک کے ملبے تک تفریحی سفر پر جا رہی تھی اور اس میں پاکستانی نژاد سیاحوں سمیت پانچ افراد موجود ہیں۔