شہید عثمان خان کاکڑ کا قتل،خوشحال خان کاکڑ نے جاسوسی اداروں پر بڑا الزام لگادیا
کوئٹٹہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہاہےکہ شہید عثمان خان کاکڑ کے قتل میں جاسوسی ادارے ملوث ہیں۔ ہم اپنے ملی شہید کے بیانیے سے کسی صورت بھی دستبردار نہیں ہونگے اور ان کے ارمانوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے ۔ یہاں جاسوسی اداروں کی مداخلت بند ،پارلیمنٹ کو آزاد اور فیصلوں میں خودمختار، آئین و قانون کی بالادستی ہونی چاہئے۔ اس کے بغیر یہ ملک اور اقوام ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔ موجودہ آئین میں کمزوریاں ہیں، ایک نئے عمرانی معاہدہ کے ذریعے یہاں قوموں کی خودمختاری اور حکمرانی ہونی چاہئے۔افغانستان میں مختلف ناموں سے جاری مداخلت بند ہونی چاہیے۔ ملی شہید عثمان خان کاکڑ دنیا میں ہر قسم کے تشدد کے خلاف اور مظلوموں کے ساتھی تھے۔ وہ ایک قام دوست، وطن دوست اور جمہوری سیاست دان تھے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشتونخوامی عوامی پارٹی کے سابق صوبائی صدر و مرکزی سیکرٹری شہید عثمان خان کاکڑ کی دوسری برسی کے موقع پر کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں منعقدہ ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جلسہ عام سے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے شریک چیئرمین مختار خان یوسفزئی، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات عیسیٰ روشان، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری رضا محمد رضا، صوبائی صدر نصر اللہ زیرے، خورشید کاکاجی، عبدالقادر آغا، سردار گل مرجان کبزئی، ڈاکٹر بایزید روشان، سندھ نیشنل موومنٹ کے نور محمد ، این ڈی ایم کے صوبائی صدر احمد جان ، پی ٹی ایم کے نور باچا، نیشنل پارٹی حئی کے چنگیز بلوچ ایڈووکیٹ، ہزارہ سیاسی کارکنان ضامن چنگیزی، پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اللہ نور ، عنایت اللہ اچکزئی، صاحبہ بڑیچ، عارفہ صدیق ، مجاہد نورزئی، جاوید نذیر گل ،پشتونخوا ایس او کے لطیف خان نے بھی خطاب کیا ۔ پشتونخوامیپ کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے شہید عثمان خان کاکڑ کو ان کی دوسری برسی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملی شہید نے اپنی زندگی پشتون افغان وطن کی ترقی و خوشحالی، افغانستان کی آزادی خودمختاری کی جدوجہد کے لئے وقف کردی تھی۔ ملی شہید دنیا میں ہر قسم کے تشدد کے خلاف اور مظلوموں کے ساتھی تھے۔ وہ ایک قام دوست، وطن دوست اور جمہوری سیاست دان تھے۔ وہ کہتے تھے کہ پاکستان ایک حقیقی فیڈریشن اور اس میں آباد پانچ اقوام کا مشترکہ ملک ہے یہاں پر کوئی کسی کا غلام نہیں۔ وہ پشتون قوم کے لئے جتنا احترام رکھتے تھے اسی طرح دوسری اقوام کے لئے بھی احترام رکھتے تھے۔ وہ اپنی قوم کی ہیروز اور تاریخ پر فخر کرتے تھے۔ انہوں نے کبھی اپنے وطن اور وسائل پر کسی کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ جمہوریت اور آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ عدالتیں آزاد اور غیر جانبدار ہوں۔ خواتین کو بھی زندگی کے ہر شعبے میں برابری اور حقوق حاصل ہوں۔ وہ سیاست کو عبادت سمجھ کر کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ سیاست کے معنی چوری اور ڈاکہ زنی نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور ان کے حقوق ان تک پہنچانے ہیں۔ وہ پشتونوں کی ہر گلی اور گائوں میں گئے اور انہیں قومی پیغام پہنچایا۔ ملی شہید کہتے تھے کہ سیاسی جماعتیں عوام پر انحصار کریں اور اپنے نظریات کے ساتھ اور عوام کے درمیان کھڑی رہیں۔ سینیٹ میں انہوں نے پشتون افغان عوام اور مظلوموں کا مقدمہ رکھا۔ سینیٹ میں ملی شہید نے اپنی آخری تقریرمیں کہا کہ مجھے دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ آپ اپنے قومی اور پشتون افغان وطن کے بیانئے سے دستبردار ہوجائیں، مگر انہوں نے واضح کہا کہ میں دستبردار نہیں ہوسکتا پھر وہ دن بھی آیا جب ملی شہید نے سر پر چھوٹ کھائی اور ہمیں ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئے۔ لالا کی شہادت پر سب پشتون غمزدہ اور رورہے تھے ان کا تاریخی جنازہ تھا۔ پشتونوں سمیت ہر قوم کے لوگ اس میں شریک ہوئے، آج ان کی شہادت کو دو سال پورے ہوئے، آج بھی ان کا غم ویسے ہی تازہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ انہیں کس نے شہید کیا، لالا شہید نے اپنی تقریر میں واضح کہا تھا کہ اس ملک کے دو جاسوس ادارے دھمکیاں دے رہے تھے۔یہ جاسوس ادارے لالا شہید کے قتل میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملی شہید نے واضح کہا تھا کہ ہم افغانستان اور افغانیت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے، ہم ان کے ارمانوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ آج بھی افغانستان میں مختلف ناموں سے مداخلت جاری ہے۔ افغانستان میں بیرونی مداخلت فوری طور پر بند کی جائے۔ پاکستان جو کہ ایک نام نہاد فیڈریشن ہے، اسے ایک حقیقی فیڈریشن ہونا چاہئے، یہاں پر پارلیمنٹ کو آزاد اور فیصلوں میں خودمختار، آئین و قانون کی بالادستی ہونی چاہئے۔ موجودہ آئین میں کمزوریاں ہیں، ایک نئے عمرانی معاہدہ کے ذریعے یہاں قوموں کی حکمرانی ہونی چاہئے۔ دیگرمقررین نے شہید عثمان خان کاکڑ کو ان کی دوسری برسی پر زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ملی اتل شہید عثمان خان کاکڑ نے قوم اور وطن کیلئے اپنی جان کی قربانی دی ملی وحدت ملی واک واختیار سمیت پشتونوں کے ہر مسئلے پر شہید عثمان خان کاکڑ ڈٹ کر کھڑے تھے وہ تمام محکوم اقوام کے ساتھ کھڑے تھے وہ ہمارے ملی اور قومی رہنماء ہے جن ارمانوں کیلئے ملی شہید نے قربانی دی ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ہمیں منظم ہوکر جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن پر خاردار تار کے ذریعے پشتونوں افغان عوام کا قتل عام جاری ہے ہمارا وطن وسائل سے مالا مال ہے مگر اس پر ہمارا اختیار نہیں ہے اور فائدہ کوئی اور لے رہا ہے ہمارے نوجوان نسل کے مستقبل کیلئے کچھ بھی نہیں ہے ان حالات میں ہمیں ملی شہید عثمان خان کاکڑ کے ایجنڈے پر چلنے کی ضرورت ہے اسی مقصد کیلئے ہم نے شہید عثمان خان کاکڑ کے دوسری برسی کے موقع پر تمام پشتون سیاسی جماعتوں کی قیادت کو دعوت دی اور آج تمام ان تمام جماعتوں کے رہنماء یہاں ہمارے ساتھ جلسے میں موجود ہیں پشتونوں کے ملی واک و اختیار، جمہوریت کے استحکام ،آزاد افغانستان ،افغانستان کے ملی استقلال کے لئے تمام پشتونوں کی تمام سیاسی جمہوری قومی مترقی جماعتیں اور نوجوان نسل قومی ایجنڈے پر متحد ہوجائیں اور اپنا قومی واک و اختیار حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کریں۔ مقررین نے کہاکہ عثمان خان کاکڑ کی شہادت سے لیکر آج تک انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے وہ ان کا عظیم کردار ہے۔ وہ مظلوموں کے ساتھ کھڑے رہے، پشتونوں اور بلوچوں سمیت تمام اقوام کے ساتھ ہونے والے مظالم پر ہمیشہ آواز بلند کرتے رہے، یہ صرف شہید عثمان لالا کی شہادت کا واقعہ نہیں، وسائل سے مالا مال ہمارے وطن پر قبضے کے لئے 1947 سے پہلے اور بعد میں مسلسل سازشوں اور مظالم کا سلسلہ جاری ہے، باچا خان کی قیدوبند کی صعوبتوں سے لیکر عثمان خان کی شہادت تک یہ ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے۔ پشتون تشدد کے خلاف اور پرامن قوم ہے مگر ایک سازش کے تحت ہم پر جنگ مسلط کی گئی ہے۔ جہاد کا نام دے کر روس کا راستہ روکنے والے آج گوادر میں روسی بیڑے کا جوش و خروش کا استقبال کررہے ہیں، یہ ان سازشی اور پشتون افغان دشمن قوتوں کی حقیقت ہے۔ ہمیں ان سازشوں اور سازشی قوتوں کو پہچاننا ہوگا۔ہمارے وطن پر دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کرنے والے جرنیل آزاد گھوم رہے ہیں جبکہ دہشت گردوں کے خلاف آواز بلند کرنے والے علی وزیر کو ایک بار پھر گرفتار کیا گیا ہے جو قابل مذمت ہے۔پشتونخوامیپ کے رہنمائوں نے کہا کہ جن لوگوں نے پارٹی کو توڑا اور نقصان پہنچایا تاریخ ان کو معاف نہیں کرے گی۔ پارٹی کو توڑنے والے اب جھوٹ پر گزارا کررہے ہیں۔ جو لوگ کہتے تھے کہ صرف پانچ لوگوں کو نکالا ہے، آج ان لوگوں نے ہماری عوامی طاقت دیکھ لی ہے۔ وہ تکبر میں تھے اور تکبر ہی ان کو لے ڈوبی۔ 2013میں صوبے میں جو حکومت بنی اس وقت بھاری رقم خرچ کرکے پارٹی اور نظریات کو نقصان پہنچانے کے لئے گروپ بنائے گئے۔ آج ہم ایک بار پھر خوشحال خان کی قیادت میں پارٹی کے خلاف ہونیوالی سازشوں کو ناکام کرکے پارٹی کو فعال اور منظم کردیا ہے۔ آج کارکنوں نے ثابت کردیا کہ وہ کس کے ساتھ اور کس صف میں کھڑے ہیں۔ جو لوگ کہتے تھے کہ عثمان خان کی شہادت سے یہ پارٹی یا ان کے ساتھی اس مبارزے سے ہٹ جائیں گے جو ان کی خام خیالی ثابت ہوئی ہم کسی صورت بھی اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ پشتونخوامیپ کی بنیاد خان شہید خان عبدالصمد خان اچکزئی ، عبدالرحیم مندوخیل، شیرعلی باچا اور ان کے ساتھیوں نے رکھی اور جدوجہد کی۔ اس پارٹی کے لئے ہمارے ساتھیوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں ہم نے پارٹی کے خلاف ہر طرح کی سازشیں ناکام بنائی ہیں۔ اب بھی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ہم پشتونوں کا اتحاد و اتفاق چاہتے ہیں۔ اے این پی، این ڈی ایم اور پی ٹی ایم قومی ایجنڈے پر متحد ہونے کی بات کرتے ہیں جس کے لئے ہم بھی تیار ہیں اور ہم نے مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔