MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

جناح اسٹیڈیم خضدار پر رونقوں کی بارش، کتاب و ثقافتی میلہ نے رنگ بکھیردیئے ، جذبوں کو تونائی دی ، مسکراہٹوں کو چارچاندلگائے

0 54

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

خضدار(مسائل نیوز) جناح اسٹیڈیم خضدار، جو عام دنوں میں کرکٹ کی گونج اور کھیلوں کی دھوم سے بھرا رہتا ہے، آج ایک بالکل مختلف رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ دھوپ کی کرنیں گراؤنڈ پر چمک رہی تھیں، اور ہوا میں کتابوں کی سوندھی خوشبو روایتی کھانوں کی مہک سے مل کر ایک سرور دے رہی تھی۔ یہ تھا “خضدار کتاب و ثقافتی فیسٹیول” – ایک تاریخی میلہ جو کمشنر قلات ڈویژن ڈاکٹر طفیل بلوچ اور ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی کی سربراہی میں، اے ڈی سی رحمت اللہ بلوچ کی محنت اور لگن سے جناح اسٹیڈیم کے وسیع میدان میں سجایا گیا۔ ہزاروں شہری کھنچے چلے آئے – جیسے کوئی پرانی بلوچی داستان دوبارہ زندہ ہو گئی ہو، اور براہوئی دھنوں کی گونج نے ہوا کو مزید مسحور کر دیا۔
مہمان خاص کمشنر قلات ڈویژن ڈاکٹر طفیل بلوچ تھے جنہوں نے اس فیسٹیول کا افتتاح کیا۔ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی بھی ان کے ہمراہ تھے ۔
اسٹیڈیم میں داخل ہوتے ہی ہر آنے والے مہمان کو مسکراتے ہوئے بلوچی روایتی سلام پیش کیا جا رہا تھا۔ یہ پھولوں کا استقبالیہ جیسے فیسٹیول کا پہلا پیغام تھا: “آؤ، ثقافت کے رنگوں میں ڈوب جاؤ۔” دروازے پر ہی براہوئی روایتی سازوں کی مدھم آوازیں گونج رہی تھیں، جو مہمانوں کو ایک قدیم زمانے کی یاد دلا رہی تھیں۔

کتابوں کے اسٹالز کا جادوئی سمندر نظر آیا۔ رنگین جلدوں والی کتابیں چمک رہی تھیں ، تاریخی کتاب، بلوچی شاعری کے دیوان، لوک کہانیوں کی کتابیں، تاریخی ناولز، اور بچوں کے لیئے رنگ برنگی کہانیاں۔ براہوئی ادب کے نایاب نسخے بھی یہاں موجود تھے، جو قوم کی زبانی روایات کو صفحات پر زندہ کر رہے تھے۔

اسٹالز کی قطار آگے بڑھی تو روایتی کھانوں کی مہک نے سب کو حیران کردیا۔ سجی کے دھوئیں، کباب کی بھون، تازہ لسی کے گلاس، اور بلوچی روٹیوں کے ڈھیر – ہر طرف کھانے پینے کا رنگین میلہ۔ خاص طور پر براہوئی روایتی سوغاتوں نے دل جیت لیا: دانکو کا کرارا ذائقہ، میٹھی روٹی کی مٹھاس جو زبان پر پگھلتی تھی، مکھن کی خالص خوشبو، آچار کی تیز چٹپٹی پن، گھی سے آمیزش والی روٹی پیش کی جا رہی تھی، اور شڑدو کی منفرد ذائقہ دار چٹنی جو ہر لقمے کو یادگار بنا رہی تھی۔ ان کے علاوہ، خشک میوے، اور مقامی مصالحوں کی خوشبوییں ہوا میں گھل مل کر ایک ثقافتی دعوت کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ بچے دانکو کو ہاتھوں میں تھامے دوڑ رہے تھے، جبکہ بزرگ میٹھی روٹی اور لسی کے ساتھ پرانی یادیں تازہ کر رہے تھے۔

- Advertisement -

پھر کشیدہ کاری کے اسٹالز نے دل چھو لیا – بلوچی چادر، اور کپڑوں پر ہاتھ کی باریک کڑھائی، جو ماں بہنوں کی محنت کی گواہی دے رہی تھی۔ گدّان کی بناوٹ کے نمونے، ہرن کی خوبصورت مجسمے، اور اونٹ کی جھلک – جیسے بلوچستان کی ثقافت زمین سے اٹھ کر اسٹیڈیم میں اتر آئی ہو۔

بچوں کا پینٹنگ کو نہ تو سب سے زندہ تھا۔ چھوٹے چھوٹے فنکار رنگوں سے کینوس بھر رہے تھے – کوئی پہاڑ بنا رہا تھا، کوئی بلوچی لباس والی عورت، کوئی جناح اسٹیڈیم کو رنگین کر رہا تھا، ان کی معصومیت اور تخیل نے ہر دیکھنے والے کا دل موہ لیا، اور والدین فخر سے ان کی تخلیقات کی تصاویر کھینچ رہے تھے۔

شام ڈھلنے لگی تو اسٹیڈیم روشنیوں سے جگمگا اٹھا۔ اسٹیج پر براہوئی لوک گلوکاروں نے دھنیں چھیڑیں، جو ہزاروں دلوں کو ایک تال میں باندھ رہی تھیں۔ مہمانوں نے اسٹیج پر آ کر کہا، “یہ میلہ صرف کتابوں اور کھانوں کا نہیں، ہماری شناخت، ہماری ثقافت، اور ہمارے بچوں کے خوابوں کا جشن ہے۔” انہوں نے انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا، اور خاص طور پر علاقائی روایات کو اجاگر کرنے پر داد دی۔ یہ فیسٹیول تاریخ بن گیا،ایک ثقافتی انقلاب کی شروعات، جو خضدار کو بلوچستان کا ثقافتی مرکز بنا رہا ہے۔ بک فیسٹیول میں اسسٹنٹ کمشنر خضدار عبدالحفیظ کاکڑ اسسٹنٹ کمشنر وڈھ اکبر علی مزار زئی انجمن تاجران خضدار کے صدر حافظ حمیداللہ مینگل خضدار پریس کلب کے صدر عبداللہ شاہوانی چیئرمین خضدار پریس کلب ایوب بلوچ ندیم گرگناڑی ای ڈی او لائیو اسٹاک ڈاکٹر انور زہری ڈی ای او عابد حسین ، ایجوکیشن آفیسر ظاہر کریم رئیس تنویر کرد اسپورٹس آفیسر میڈم رقیہ یونس رمضان و دیگر مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.