اگرنوازشریف کو راہداری ضمانت نہیں ملتی تو وہ گرفتار ہوسکتے ہیں
اسلام آباد (مسائل نیوز) وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اگرنوازشریف کو راہداری ضمانت نہیں ملتی تو وہ گرفتار ہوسکتے ہیں، کوئی خود کو قانون کے حوالے کرنا چاہتا ہے تو عدالت کو راستہ دینا چاہیے، سپریم کورٹ کو مشرف کا کیس مقرر کرکے جلد سماعت کرنی چاہیے، مشرف کیس کی جلد سماعت کا معاملہ کابینہ میں آسکتا ہے، مشرف نے جلد سماعت کی اپیل کی ہے، پرویز مشرف کی واپسی پر قانون اپنا راستہ اپنائے گا۔
انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیب قوانین اور انتخابی قوانین میں پارلیمنٹ نے ترمیم کی، صدر مملکت کا آئینی کردار آئین پاکستان میں وضع کردہ ہے، تحریک انصاف نے انتخابی قوانین بلڈوز کروا کے کروائی گئیں، نیب کی ترامیم وہی ہیں جو تحریک انصاف نے دی تھیں، نیب ترامیم پر تحریک انصاف کا ہی بل 7 ماہ سے التوا کا شکار تھا، صدرمملکت نے بل منظوری کے باوجود واپس بھجوا دیا، صدر مملکت کو 70 فیصد ترامیم پر کوئی اعتراض نہیں تھا، مشترکہ اجلاس میں ایک بار پھر بل پر صدر مملکت کے اعتراضات کو اٹھایا گیا، نیب ایک آمر کا بنایا ہوا قانون ہے، یہ ترامیم بہت پہلے ہونی چاہیے تھیں، پی ٹی آئی نے یہ ترامیم نومبر 2021 میں آرڈیننس کے ذریعے کی تھیں، چیئرمین نیب کے تقرر کے طریقہ کی ترمیم نہیں مانی گئی، سابق چیئرمین نیب پچھلی حکومت کو بہت پسند تھے، پی ٹی آئی اپنی حکومت کے خاتمے تک چیئرمین نیب کو ساتھ رکھنا چاہتی تھی، ہم نے چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع ختم کرنے کی ترمیم کی، چیئرمین نیب کا عہدہ ناقابل تجدید ہوگا، چیئرمین نیب کو ہٹانے کے طریقہ کار پر ابہام تھا، اب چیئرمین نیب کو ہٹانے کیلئے سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے جیسا طریقہ کار استعمال ہوگا۔
- Advertisement -
سپریم کورٹ نے کئی بار نیب کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا، نیب 3،3 سال کیس چلا کر پھر معذرت کرلیتا ہے، عمران خان حکومت نے اپریل2020 میں اسلامی نظریاتی کونسل کو ایک خط لکھا، اسلامی نظریاتی کونسل نے اس خط پر تحریری رائے دی تھی، ہماری ایک اور ترمیم پر انہیں اعتراض ہے۔ وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے کہا کہ ہم نے کیس کی تحقیقات کو التوا نہ دینے کی ترمیم کی، ترمیم کے تحت نیب کو کیس کی تحقیقات کیلئے 6 ماہ کا وقت دیا، پولیس کو ایک ماہ کا بھی وقت نہیں دیا جاتا، نیب باربار ملزم کا ریمانڈ لے رہا تھا، باربار ریمانڈ دہشت گردی کے مقدمات میں دیا جاتا ہے، سیاسی مقدمات میں نیب نے ایک روپے کی بھی ریکوری نہیں کی۔
وزیرقانون نے مزید کہا کہ گرفتاری زیادتی کیسز جیسے معاملات میں ہونی چاہیے جہاں ملزم کے بھاگنے کا ڈر ہو، اگر نوازشریف کو راہداری ضمانت نہیں ملتی تو وہ گرفتار ہوسکتے ہیں، اگر نواز شریف کو حفاظتی ضمانت ملتی ہے تو وہ واپسی پر گرفتار نہیں ہوں گے،اگر کوئی خود کو گرفتار کرانا چاہتا ہے تو عدالت کو راستہ دینا چاہیے،بے نظیر بھٹو کو بھی حفاظتی ضمانت ملی تھی، سپریم کورٹ کو مشرف کا کیس مقرر کرکے جلد سماعت کرنی چاہیے۔
[…] (مسائل نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے کہا ہے کہ کردیا ، ملک کو اتحادیوں سے مل کر مشکلات سے […]