فکر انگیز بلوچستان
طارق خان ترین
- Advertisement -
بلوچستان قطع نظر اس بات پر کہ یہاں معاشرتی, معاشی, مذہبی اور ثقافتی زندگیاں, حالات و واقعات نے اجیرن بنا دی ہے مگر ایسے کونسے عوامل ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو بہتر سے بہتر بنا کر بلوچستان جیسے اپنے صوبے کو اوپر لاسکتے. ایسے وہ تمام تر حقائق کہ جن کا تعلق براہراست صوبے کے نوجوان طبقے سے ہے جن میں تعلیم, صحت, کھیل, روزگار اور میرٹ وغیرہ شامل ہے پر اپنی توجہ اگر دے تو یہ سالوں کی نہیں بلکہ مہینوں کی بات ہوگی کہ جب بلوچستان چڑھتے ہوئے سورج کی طرح ترقی کی راہ پر خود بھی گامزن ہوگا اور ملک کو بھی گامزن کرائے گا.
اگر تعلیم کی بات کی جائے تو اس وقت UNESCO کے مطابق آمریکہ, برطانیہ اور جرمنی بالترتیب پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پر سب سے بہترین تعلیمی نظام رکھتے ہے. ہم معاشی طور پر اتنی استعداد تو نہیں رکھتے کہ انہی ملکوں کی طرح تعلیم پر اخراجات اٹھا سکے تو بہتر ہے کہ ہم تعلیمی نظام میں آزربائیجان ہی کی مثال لے جنکی شرح خواندگی 99.87 فیصد ہے. آزربائیجان سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سن 1991 میں آزاد ہوا, اب یہاں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کہ کہا 1991 میں آزاد ہوا ملک کھڑا ہے اور کہا پاکستان کھڑا ہے جنہوں نے 1947 میں آزادی حاصل کی. اس ملک کے ساتھ 6 مسلمان ممالک اور مجموعی طور پر 17 ممالک نے سویت سویت یونین کے توڑنے پر آزادی حاصل کی اور اس کار خیر پھیچے عظیم پاکستانی دماغ کار فرما تھے جنہوں سویت یونین کے پرخچے ہوا میں بکھیر دئیے. تعجب کی نہیں بلکہ فخر کرنے کی ضرورت ہے. ایسے مرد حق کو دنیا جنرل حمید گل رح کے نام سے جانتی ہے جو 1987 سے 1989 تک ڈی جی ائی ایس ائی رہ چکے ہے. بہرحال یہ ایک لمبی گفتگو بن جائیگی تو اسی لئے بہتر کہ اپنے مقصودی مجلس کی طرف لوٹ اوں. قارئین کرام آذربائیجان کی تعلیمی پالیسی کو اگر بیان کر سکوں تو یہ ایک مضمون کافی نہیں ہوگی. البتہ میری کوشش ہوگی کہ چند لائنوں میں وہاں کے تعلیمی نظام کی تشریح کر سکوں. پورے آذربائیجان میں اس وقت صرف 9 یونیورسٹیاں ہے جن میں سر فہرست The Western Caspian University, The Baku State university اور The Baku Engineering University ہے. آذربائیجان کے تمام تر سکولوں اور کالجز اور یونیورسٹیوں میں تعلیم انکے اپنی ہی زبان میں پڑھائی دی جاتی ہے. یہ ضروری ہے تمام بچے سکول میں داخل ہوکر پڑھائی کرے جنکے تمام تر اخراجات حکومت پر ہے. آذربائیجان کی کل سالانہ بجٹ 18 بلین ڈالرز ہے جن میں سے 13 فیصد یعنی 2.25 ارب ڈالر تعلیم پر خرچ کئے جاتے جوکہ GDP کا 4.5 فیصد ہے. جبکہ ہمارے ہاں 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی بجٹ میں تعلیمی اخراجات کا خود تعین کرے جسکے تحت بلوچستان صوبے کا کل سالانہ بجٹ 612 ارب روپے ہے یعنی 2.35 بلین ڈالرز ہے جن میں سے 83 ارب روپے یعنی ٹوٹل بجٹ کا صرف 13.39 فیصد تعلیم پر خرچ کئے جارہے ہے جوکہ 318 ملین ڈالرز کے برابر بنتے ہے. اب بات یہاں پر یہی بن جاتی ہے کہ جب تک کہ ملک معیشت ترقی نہیں کرتا تب تک ملک میں تعلیمی مسائل ختم نہیں کئے جاسکتے. اس وقت ملک خداداد پاکستان کا کل بجٹ 36.4 بلین ڈالرز ہے جوکہ آذربائیجان حکومت کے بجٹ سے 50 فیصد زیادہ ہے مگر بد قسمتی ہماری بجٹ کا تقریبا 50 فیصد سے زیادہ قرض اتارنے میں لگ جاتا ہے. اور دوسری بد قسمتی یہی ہے کہ پاکستان میں مجموعی طور پرGDP کا صرف 2.3 فیصد تعلیم پر خرچ کئے جارہے ہے جو کہ کسی لمحہ فکریہ سے کم نہیں ہے. رہی صحیح کسر تعلیم کا مقامی زبان میں نا ہونا ہی پورا کر دیتا ہے
تاہم ان تمام حقائق کو دیکھتے ہوئے بلوچستان میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ موجودہ دور میں تعلیم کا حصول ناممکن ہے ہمیں اجتماعی طور پر اپنے بچوں کو بطور والد, بھائی, بہن, ماں یا کوئی بھی رشتہ ہو کو اچھے تربیت کے ساتھ ساتھ تعلیم کی اہمیت پر زور دینی چاہیے. ہمارے گھروں میں پڑھائی سکھائی کا ماحول ہونا چاہیے بچوں کو موبائل ٹی وی دینے کے بجائے کتاب کی شکل میں اچھے دوست دینے چاہیے. ایک والد یا پھر والدہ, بہن یا پھر بھائی سے اچھا استاد برائے بہترین تربیت کوئی اور نہیں ہوسکتا.
بلوچستان میں صحت کے حوالے سے اگر بات کر سکوں تو بہترین اقدامات اٹھائے تو جاتے ہے مگر ان اقدامات کو جاری نہیں رکھا جاتا جنہیں میں سمجھتا ہوں کہ یہاں کے صحت کا شعبہ باوجود خاطرخواہ بجٹ رکھنے کے مریضوں کے لئے باعث رحمت ہونے بجائے زحمت بن جاتا ہے. اس وقت بلوچستان میں صحت کے لئے حکومت نے 44.69 ارب روپے جیسی خطیر رقم رکھی ہے جو کہ کل بجٹ کا 7.30 فیصد ہے.
صوبے میں ایک اندازے کے مطابق 2015 تک 49 ہسپتال, 540 ڈسپینسریز, اور 102 RHC کے توسط سے 5730 بیڈز کی سروسز دی جارہی ہے. مگر بد قسمتی سے ڈی جی ہیلتھ آفس کی ویب سائٹ اسوقت غیر فعال ہے جسکی وجہ سے تازہ ترین معلومات تک رسائئ حاصل نہیں ہو پا رہی.
بلوچستان میں صحت کے حوالے پر مبنی مزید تفصیلات کسی اور وقت لکھونگا انشاءاللہ.
بلوچستان میں ملازمت کے پہلو پر اگر بات کیا جائے تو یہ بات خوش ائند ہے کہ بلوچستان میں میرٹ کے حوالے موجودہ حکومت کی جانب سے احسن اقدام اٹھایا گیا جس کے تحت درجہ چہارم سے اوپر کے تمام ملازمتوں کو بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے توسط سے پر کیا جائیگا. اس اقدام سے بلوچستان کے نوجوانوں میں موجود احساس محرومی میں خاطرخواہ کمی ہوگی. بلوچستان میں نوکریوں کی خرید و فروخت سرعام زبان زدعام تھی. کبھی اسمبلی فلور پر اس حوالے سے الزامات بھتان تراشیاں ہوتی دکھائی دیتی تو کبھی کسی منسٹرز کی سفارش پر انکے رشہ دار تھے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے تھے. ایسے میں تعلیم یافتہ مگر غریب نوجوان مزید بے بس و لاچار رہ کر مایوسیوں کے دلدل میں مزید پھنس جاتے تھے. مگر فی الحال اس پر بیش رفت بھی صرف پریس کانفرنس کی حد تک محدود ہے اگر تو اس کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ بلوچستان کا نوجوان طبقہ اپنی محنت سے دنیا کے ہر فیلڈ میں اپنا لوہا منوا سکتےہے.
سپورٹس کے میدان میں حال ہی میں بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں پی ایس ایل کا ایک نمائشی میچ 5 فروری کو کوئٹہ گلیڈئیٹر اور پشاور زلمی کے مابین رکھا گیا. میچ اکبر بگٹی سٹیڈیم میں کھیلا گیا جہا تماشائیوں کی بےپناہ رش نے ثابت کردیا کہ بلوچستان کے باسی کھیلوں سے محبت انتہا کی رکھتے ہے. اسی میچ نے قوم پرستی, تعصب, قبائلی تعصب کو ردوکد کردیا. پشتون بلوچ دونون کو ساتھ بٹھایا جنہیں قومپرست جماعتوں نے ایک دوسرے کا دشمن بنانے میں کوئی کسر نا چھوڑی. میں سمجھتا ہوں کہ ایسے مزید میچز ہونے چاہیے تاکہ صوبے میں امن اور بھائی چارے کی فضاء قائم و دائم رہے.
قارئین کرام بلوچستان جسطرح سے رقبے کے لحاظ سے بڑا صوبہ ہے اسی طرح بلوچستان قدرتی معدنیات میں بھی کوئی ثانی نہیں رکھتا.
ایک اندازے کے مطابق 14 ہراز ٹن سونا اور لاکھوں ٹن تانبے کے زخائرریکوڈک کی شکل میں موجود ہو, قلعہ سیف اللہ کے تحصیل مسلم باغ میں کم و بیش 2 لاکھ ٹن کرومائیت پایا جاتا ہے جسے ملک کی معیشت کو بےتحاشہ فائدہ مل رہا ہے. مجموعی طور پاکستان میں کم و بیش 50 قسم کے قدرتی منرلز پائے جاتے ہے جن میں سے 40 منرلز بلوچستان میں دریافت ہوئے ہے. مگر کیا وجہ ہے کہ بلوچستان کی قسمت بدل نہ سکی؟ اسی طرح پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 25.1 ٹریلین کیوبک فٹ گیس کے زخائر مجود ہے جن میں سے 19 ٹریلین کیوبک فٹ بلوچستان میں پایا جاتا ہےجسکے استعمال سے ملکی معیشت کو سالانہ اربوں روپے کا سہارا ملتا ہے.
ویسے کوئلے کے ذخائر کا تعقب کرنا مشکل ہے مگر ایک اندازے کے مطابق بلوچستان میں 220 ملین ٹن کوئلہ موجود ہے جو بلوچستان کی ترقی کا ماخذ بن سکتا ہے. عزیزان من بلوچستان کے پاس ترقی کرنے کے لئے ایسی کون سی جادو کی چھڑی ہونی چاہیے کہ جن سے یہاں کے پسماندگی اور محرومیوں کا خاتمہ کیا جاسکے نہ صرف بلکہ ترقی کی راہ پربھی گامزن کیا جاسکے. یہاں کے باسی خصوصا نوجوان طبقہ جو صوبے کے آبادی کا بیشتر حصہ ہے کو سیاست میں بے فکر نظریات کی جانب بڑے منصوبے کے ساتھ راغب کیا رکھا ہے. اسی طبقہ کو قوم پرستی, علاقہ پرستی اور جھنڈہ پرستی میں اتنا جھکڑا گیا ہے کہ اب انہیں ہر طرف مایوسیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. یہاں بلوچستان میں سردارانہ اور جاگیردارانہ نظام نے نجی زندگی سے لیکر معاشرتی زندگی تک نوجوانوں کے وژنز کو دبایا جس کی وجہ سے نوجوانوں میں مایوسیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے نہ صرف بلکہ ان وجوہات کے بنا پر دشمن قوتیں نوجوان طبقے کو با آسانی ملک اور صوبے کے خلاف استعمال کرنے کا حدف بنا سکتے بھی ہے اور بنا رہے بھی ہیں. اگر ان تمام تر وسائل کو مسائل سے نکال بہترین اور جامع پالیسی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کو بھی اس گو نا گو مسائل سے باآسانی نکالا جاسکتا ہے. مثال کے طور پر چائینا اگر پاکستان میں سی پیک منصوبہ کے منصوبے کے تحت اگر 65 بلین ڈالرز کی سرمائہ کاری کر سکتا ہے تو پاکستان ایسا کچھ کیونکر نہیں کر سکتا؟ چائنا نے ہمیشہ سے پاکستان کو دوست سمجھ کر مدد کی ہے جس پر ہر پاکستانی بالخصوص بلوچستان کی عوام مشکور رہیے گی. ہمیں دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے اب اگے بڑھنا ہوگا. ہمیں اپنے وسائل کا خود ادراک کر کے بہترین پالیسیز مرتب کرانی ہوگی. اور تب ہی بلوچستان سے پسماندگیوں, احساس محرومیوں, غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا.