پنجاب کی صورتحال، ن لیگ کی لیگل ٹیم نے سر جوڑ لئے
لاہور(مسائل نیوز) گورنر پنجاب کے طلب کردہ اسمبلی اجلاس کا معاملہ،ن لیگ کی لیگل ٹیم نے آئینی آپشنز کیلئے سر جوڑ لیے۔ میڈیا رپورٹس میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ شام چار بجے تک پنجاب اسمبلی ہونے کا انتظار کیا جائے گا اور اگر شام چار بجے تک گورنر کا طلب کردہ اجلاس نہ ہوا تو آئینی آپشنز پر عمل کیا جائے گا۔
مسلم لیگ ن کے رہنما ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ لیگل ٹیم آئندہ لائحہ عمل کیلئے سفارشات پیش کرے گی۔گورنر پنجاب کی ہدایات پر عمل نہ ہوا تو آئین کی خلاف ورزی ہو گی۔وزیر اعلٰی پنجاب اعتماد کا ووٹ نہیں لیتے تو تصور کیا جائے گا کہ وہ اکثریت کھو چکے ہیں۔گورنر پنجاب وزیر اعلٰی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا آئینی آپشن استعمال کریں گے۔
دوسری جانب گورنر پنجاب بلیغ الرحمن کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا۔
- Advertisement -
گورنر پنجاب نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کے خط کو مسترد کر دیا۔گورنر کی جانب سے وزیراعلیٰ کو آج اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کا امکان ہے۔گورنر سیکرٹریٹ کی جانب سے دوبارہ حکم جاری ہونے کا امکان ہے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے گورنر کے طلب کردہ اجلاس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے رولنگ جاری کی تھی۔اسپیکر نے دو صفحات پر مشتمل رولنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ رواں اجلاس سپیکر نے بلایا اور وہی اس کو ختم کرسکتا ہے جب تک سپیکر اپنے بلائے اجلاس کو ختم نہ کرے گورنر نیا اجلاس نہیں بلاسکتا۔
رولنگ میں لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کا حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کیلئے نیا اجلاس بلانا ضروری ہے۔عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کیلئے نیا اجلاس بلانے سے پہلے رواں اجلاس کا ختم ہونا ضروری ہے۔ رولنگ میں مزید کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی پہلے سے ہی سپیکر کے طلب کردہ اجلاس کے تحت جاری ہے،موجودہ اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی ہونے پر ہی گورنر نیا اجلاس طلب کر سکتا ہے۔