MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

سیلاب کی تباہکاریاں اور بلوچستان

1 324

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر : محمد فیاض راہوجہ

- Advertisement -

اے زمین و آسمان اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا ۔
(القرآن سورۃ ھود 44)۔
آزادی کے 75 ویں سال میں تباہی و بربادی ہمیں خبردار کر رہی ہے ، جھنجوڑ رہی ہے ۔ حالیہ بارشوں اور سیلاب میں اب تک پورا ملک پاکستان آزمائش میں مبتلا ہے ۔ تین کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہیں جن کے گھر و کاروبار بچے سیلاب کی زد میں ہوچکے ہیں ۔ 2010 کی مناسبت سے 2022 کے سیلاب نے پورے ملک کو لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ 2010 کے سیلاب نے صرف بلوچستان و سندھ کو زیادہ متاثر کیا مگر 2022 کے سیلاب نے پورے ملک کو لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔
پاکستان کا معدنی وسائل سے سرشار صوبہ بلوچستان جہاں سے گیس، کوئلہ ، بجلی زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔ صوبہ بلوچستان پاکستان کی ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ آج یہ صوبہ سب سے زیادہ متاثر ہے ۔
پاکستان کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے ، صنعت کاری ، انڈسٹریز سب کا سب نظام درہم برہم ہو چکا ہے ، ہزاروں سکول تباہ ہو چکے ہیں ، تعلیمی نظام رک گیا ہے ، پاکستان کے 72 اضلاع میں بیس لاکھ ایکڑ پر محیط فصلوں کو نقصان پہنچا ہے ۔ خاص کر بلوچستان کی مرکزی شاہراہ جو کہ سندھ سے ملتی ہے وہ اور ریلوے ٹریک جو اندرونی صوبائی علاقوں سے ملتی ہے وہ سیلاب کی وجہ سے ٹوٹ چکی ہیں ، بلوچستان میں کئ دنوں سے سے بجلی گیس اب تک بحال نہیں ہوسکے ، یہاں کے لوگوں کی زندگی بہ مشکل سے بسر ہو رہی ہے۔ اندرونی صوبائی علاقوں میں کاروباری پہیہ رکا ہوا ہے ۔
ہم نے 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب سے کیا سیکھا ؟ اور اب تک کوئی عبرت حاصل نہیں کی . اگر ہمارے حکمران آج تک کسی بھی آفت یا مصیبت کے لیے تیار رہتے تو کوئی بھی والدین بچے مال و اسباب یا گھر سے ہاتھ دھو نہیں بیٹھتے ، ماضی کے ان حکمرانوں کی کوتاہیوں کی بدولت آج ہم ان حالات و آزمائش میں مبتلا ہیں ۔ اب 2022 کے سیلاب سے کیا سیکھیں گے؟ اور آنے والی نسلوں کے لیے کیسا پاکستان بنانا ہے ؟ ۔ آج ہمارے ہر طبقے کے شخص کو چاہیے کہ چاہے وہ کاروباری ہو ، چاہے وہ سیاست دان ہو یا بیوروکریٹ وغیرہ انھیں چاہیے کہ ان مصیبت و آفات سے نمٹنے کے لیے پلاننگ بنانی ہوگی ۔ ملک میں جتنے بھی ڈیمز ہیں ان پر کام کرنا چاہیے ، ہمارے دماغ میں تو سب سے پہلا سوال یہی آتا ہے آج تک ہمارے ملک میں کالا باغ ڈیم یا بڑا ڈیم کیوں نہیں بنا ؟ بقول محمود شام کے ” کہ پہاڑی علاقوں میں چھوٹے چھوٹے چیک ڈیم تعمیر کیوں نہیں کیے گئے ؟ چھوٹے شہروں اور دیہات کی حفاظت کے لیے بند کیوں نہیں ؟ گلیشیرز پگھلنے کی صورت میں کوئ حکمت عملی کیوں نہیں دی گئی ؟ زرعی زمینوں کے بارے میں سروے کیا گیا تو زیادہ بارشوں اور سیلاب میں کھڑی فصلیں تباہ ہونے سے کیسے بچ سکتی ہیں ؟ شاہراہ ، سڑکیں عام بارشوں میں ٹوٹتی ہیں تو سیلابی صورتحال کا اندازہ کرکے زیادہ پختہ سڑکیں کیوں نہیں بنائی گئی ؟ ”
آج جس بے بسی اور بے حسی سے ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہیں دیکھ کر آنکھوں سے آنسوں اور دل غمزدہ ہوجاتی ہے ، حکومت اور اپوزیشن سے جتنی امید کی جاسکتی تھی لیکن وہ ناامید ہی رہی ۔ مگر این جی اوز ، فلاحی ادارے ہر ممکن تعاون مدد کر رہے ہیں اور پاک فوج بھی قدم قدم پر متاثرین کی ہر ممکن تعاون کر رہے ہیں ۔
میں وفاقی حکومت ، صوبائی حکومت کو ایک بار پھر سے توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ بلوچستان میں خاص توجہ دے ، یہاں کہ ہر باسی کو آپکی مدد کی ضرورت ہے اور خصوصاً بلوچستان کے ڈویژن نصیر آباد جو کہ بلوچستان کا گرین بیلٹ ہے یہ آج سب سے زیادہ متاثر ہے انکو آج کھانے پینے اور رہنے کی سہولت دی جائے ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے نتائج کا علان ہوگیا […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.