صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی جمہوریت کے منافی ہے،حافظ حمد اللہ
کوئٹہ(ویب ڈیسک)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ہونے والی قانون سازیوں کو مسترد کردی اور کہاہے کہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا)صدارتی آرڈیننس ایک کالاقانون ہے،صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی جمہوریت کے منافی آمریت کی علامت ہے، دستوری ترامیم آرڈیننس کے ذریعے تبدیل کرناقبول نہیںاسمبلی اجلاس طلب کرکے اچانک منسوخ کردینے سے حکومت ہمیشہ واردات کرنا چاہتی ہے۔
گزشتہ روز صدارتی آرڈیننس پر ردعمل دیتے ہوئے پی ڈی ایم ترجمان مولاناحافظ حمداللہ نے کہاکہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا)صدارتی آرڈیننس ایک کالاقانون ہے۔انہوں نے کہا کہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی جمہوریت کے منافی آمریت کی علامت ہے، دستوری ترامیم آرڈیننس کے ذریعے تبدیل کرناقبول نہیں۔قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا فرض ہے لیکن موجودہ حکومت نے ساڑھے تین سال میں 63 آرڈیننس جاری کئے ہیں،
- Advertisement -
پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بجائے صدارتی آرڈیننسز کا سہارا لیا جارہا ہے،دستوری ترامیم آرڈیننس کے ذریعے تبدیل کرنا قابل قبول نہیں ہے،اسمبلی اجلاس طلب کرکے اچانک منسوخ کردینے سے حکومت ہمیشہ واردات کرنا چاہتی ہےپیکا صدارتی آرڈیننس ایک کالا قانون ہے،الیکشن کمیشن کوڈ آف کنڈکٹ میں تبدیلی آرڈیننس ہو پی ڈی ایم مسترد کرتی ہے۔