MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

فوجی فلاحی اداروں کے خلاف پروپیگنڈے کی اصلیت

2 255

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا

گزشتہ کچھ ایام سے سوشل میڈیا پہ ایک پوسٹ گردش کر رہی ہے جس میں بے شمار خود ساختہ اعدادوشمار کے ذریعے عسکری فلاحی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لئے مبالغہ آمیز اور قیاس آرائیوں پہ مشتمل ایک نام نہاد تجزیہ پیش کیا گیا، جس میں دھڑلے سے افواجِ پاکستان کو ٹارگٹ کرنے کے لیے بے بنیاد الزامات کا سہارہ لیا گیا-
آئیے کچھ حقائق کی مدد سے جائزہ لیں کہ جن اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ ہو رہا ہے ان اداروں کی در حقیقت کارکردگی کیا ہے:
1) فوجی فاؤنڈیشن اور آرمی ویلفئیر ٹرسٹ
یہ شہداء اور دوران سروس وفات پانے والے افراد کے لواحقین کی فلاح و بہبود کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جنگ کے دوران زخمی یا معذور ہو جانے والے اور ریٹائرڈ ملازمین کو باعزت روزگار فراہم کر رہا ہے جس کا تخمینہ 10 ارب روپے سالانہ ہے-
لہٰذا اس بات کو سراہا جانا اشد ضروری ہے کیونکہ اگر فوجی فاؤنڈیشن اس فلاح و بہبود کے لیے یہ کام نہ کر رہی ہوتی تو حکومتی بجٹ پر سالانہ 10 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑتا۔
علاوہ ازیں، فوجی فاؤنڈیشن 74 طبی سہولیات چلاتی ہے جو کہ فوجی ارکان اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ پاکستان کی 5 فیصد آبادی تقریبا 90 لاکھ افراد کی صحت کی ضروریات کو بھی پورا کرکے حکومت پاکستان کے بوجھ کو کم کررہا ہے۔
فوجی فاؤنڈیشن اور ای ڈبلیو ٹی فلاحی کاموں کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ذریعہ معاش بھی فراہم کرتا ہے جس سے ایک کثیر تعداد میں سولین افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ ان اداروں میں کام کرنے والے 83 فیصد افراد سولین ہیں ۔

- Advertisement -

یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اپنے وسائل کو فلاحی کاموں میں لگانے کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ اپنی آمدنی پر قانون کے مطابق ریاست پاکستان کو ٹیکس بھی ادا کرتا ہے۔ صرف فلاحی کاموں میں استعمال ہونے والے وسائل اور آمدنی پہ ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے اور تمام کمرشل سرگرمیوں میں فوجی فاؤنڈیشن کے دیگر کمرشل ادارے باقی تمام کارپوریشنز کی طرح ہی مختص کردہ ٹیکس ادا کرتے ہیں – جیسا کہ
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق گزشتہ سال فوجی فاؤنڈیشن نے 150 ارب روپے کے ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرائے-
فوجی فاؤنڈیشن نے گزشتہ پانچ سالوں میں حکومت کو ٹیکس اور لیویز کے طور پر 1 ٹریلین روپے ادا کیے ہیں ۔
اسی طرح آرمی ویلفیئر ٹرسٹ نے گزشتہ سال تقریباً 2.54 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔
2) بحریہ فاؤنڈیشن
یہ ادارہ ( جوجنوری 1982 میں حکومت پاکستان نے انڈومنٹ ایکٹ کے تحت ایک خیراتی ٹرسٹ کے طور پر قائم کیا تھا) اپنے فنڈز خود پیدا کرتا ہے اور اسے کسی بھی قسم کا حکومتی فنڈ یا امداد حاصل نہیں ہے۔ بحریہ فاؤنڈیشن نے 2005 کے زلزلے کے دوران زبردست کام کر کے اپنی کارکردگی کا لوہا منوایا۔ یہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک عوامی فلاحی ادارہ ہے جو نہ صرف شہدا اور جنگ میں زخمی افراد کے لواحقین کی فلاح و بہبود میں کردار ادا کر رہا ہے بلکہ ایک بڑی تعدار میں سویلینز بھی بحریہ سکولوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں
3) شاہین فاؤنڈیشن
یہ پاکستان ایئر فورس کا فلاحی ادارہ ہے، جو چیریٹیبل انڈومنٹ ایکٹ کے تحت 1977 میں قائم کیا گیا- اس کا قیام ریٹائرڈ پی اے ایف اہلکاروں، شہداء اور عام شہریوں کی فلاح وبہبود م کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا تھا۔ شاہین فاؤنڈیشن، تعلیم، صحت، انجینئرنگ، خدمات، پیداوار، تعمیراتی کام، اشتہارات اور ہاؤسنگ وغیرہ کے شعبوں اپنا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ اس کے 3000 سے زائد ملازمین میں سے صرف سات سو سابق پی اے ایف اہلکار ہیں جو کل تعداد کا تقریباً 23 فیصد بنتے ہیں۔
4) نیشنل لاجسٹک سیل
یہ ادارہ جنگ کے دوران مسلح افواج کے لیے ریزرو ٹرانسپورٹیشن کے انتظام کے لیے مادر وطن کی سٹریٹجک ضرورت ہے۔ اس میں 6500 سے زیادہ عام شہری اور سابق فوجی ملازم ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں نیشنل لاجسٹک سیل نے ملک بھر میں محفوظ نقل و حمل اور ضروری اشیاء کی تیز رفتار ترسیل کو کامیابی سے انجام دیا ہے۔ نیشنل لاجسٹک سیل میں حاضر سروس فوجیوں کا تناسب بہت کم ہے جو کہ تقریباً 12 فیصد ہے۔ باقی 88 فیصد ملازمین عام سویلین شہری ہیں۔
5) ایس-سی-او
سپیشل کمیونیکیشن اورگنائزیشن کا بنیادی مقصد شمالی علاقہ جات، آزاد کشمیر کے مشکل حطوں تک معلوماتی نظام اور ٹیکنالوجی کی رسائی ممکن بنانا ہے۔ کسی اور نظام کی غیر موجودگی میں ایس سی او ان مشکل علاقوں میں بھی ترسیلات معلومات کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔

6) فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن
یہ ادارہ 1966 میں اپنے قیام کے بعد سے مختلف شعبوں میں خدمات سر انجام دے رہاہے
اور لائن آف ڈیوٹی میں اب تک 1300 سے زائد قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکا ہے۔
فرنٹئر ورکس آرگنائزیشن مختلف تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل کر رہا ہے جن میں سڑکوں، ریلوے لائنوں اور ہوائی اڈوں کی تعمیر، ڈیموں، نہروں اور بیراجوں کی تعمیر، ٹنلنگ/کان کنی، اور رہائشی اور صنعتی انفراسٹرکچر کی تعمیر شامل ہیں۔
فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن پیشہ ورانہ طور پر ایک قابل اور منظم ادارہ ہے، جو میرٹ پر ٹینڈرز حاصل کرتا ہے اور معیاری تعمیراتی کام خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہا ہے۔اسی سلسلے کی ایک کڑی ریکارڈ وقت میں کرتارپور بارڈر کراسنگ کی کامیاب تعمیر اور افتتاح ہے۔
یہاں ایک مفروضہ یہ بھی پایا جاتا ہے کہ تمام تر پراجیکٹس FWO کو دے دیے جاتے ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق پچھلے پانچ سالوں میں FWO نے 126 پراجیکٹس کا ٹینڈر حاصل کرنے کے لیے بولی میں حصہ لیا جن میں سے صرف 34 ٹینڈر FWO کو ملے جو کل پراجیکٹس کا 26 فیصد ہے باقی 74 فیصد پراجیکٹس دوسری کمرشل کمپنیوں کو ملے۔
علاوہ ازیں، یہ تنظیم آپریشنل علاقوں کے انتہائی ناگزیر حالات اور سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر حساس مقامات پر میگا سول انجینئرنگ پراجیکٹس چلا رہی ہے جہاں سنگینی حالات اور سکیورٹی خدشات کے باعث پرائیویٹ اور سول کنسٹرکشن کمپنیاں کام کرنے سے گریز کرتی ہیں-
ریاست کی طرف سے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو دیے گئے مینڈیٹ کے مطابق، یہ تنظیم پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین کے مطابق بولی کے ذریعے پروجیکٹس حاصل کرتی ہے ان میں سے بہت سے قومی معیشت کی ترقی اور عوامی آسانی کے لیے گراں قدر منصوبے ہیں جن میں مکران کوسٹل ہائی وے کی تعمیر، تمام تر مشکلات اور خطرات کے باوجود، حکومت پاکستان کی طرف سے ذمہ داری ملنے پر، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے صرف 40 دنوں میں اسلام آباد میں متعدی بیماریوں کے علاج کے لیے خصوصی ہسپتال کی تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ سابقہ فاٹا اور بلوچستان میں سڑکوں کا جال، M-8، N-85 اور سکھر بیراج کی بحالی قابلِ ذکر ہیں۔
اس ادارے کا سب سے شاندار کارنامہ قراقرم ہائی وے (KKH) کی تعمیر ہے جو آج چین پاکستان اقتصادی راہداری اور دیامیر بھاشا ڈیم کی کامیابی کے لیے جاری قومی منصوبوں میں ایک سنہرے تاج کی حیثیت رکھتی ہے۔
اگر ان تمام حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جس بنیاد پہ ان اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاری ہے وہ بنیاد ہی جھوٹ اور مبالغہ آرائیوں پہ مشتمل ہے جس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔ در حقیقت یہ ادارے اپنے وسائل و ذرائع پیدا کرنے کے لیے خود مختار ادارے ہیں جن کا بنیادی مقصد شہداء کے لواحقین کی فلاح ، جنگ میں زخمی و معذور افراد، ریٹائرڈ ملازمین اور بڑی تعداد میں عام شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ یہ تمام ادارے ریاست کی جانب سے مختص کردہ تمام ٹیکسز بروقت ادا کر کے ملکی خزانے میں بھی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ لاکھوں لوگوں کے علاج ، تعلیم اور ملازمت کی سہولیات مہیا کر رہے ہیں-

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

2 Comments
  1. […] (مسائل نیوز)شنکانی در کے مقام پر مکینوں نے مکران کوسٹل ہائی وے کو احتجاجاً بند کردیا، ٹریفک کی روانی معطل۔مکینوں کا […]

  2. […] نیوز)ملک میں کنو کی پیداوار میں بتدریج کمی کے باعث چند سالوں میں پاکستان کنو پیدا […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.