سانحہ گل پلازہ میں اموات کی تعداد 31 تک پہنچ گئی، 3 سوختہ لاشوں کی شناخت ڈی این اے سے ہوگئی
کراچی(مسائل نیوز)ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ کے سبب عمارت کا 40 فیصد حصہ منہدم ہوگیا، دم گھٹنے اور جھلس کر جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 31 ہوگئی، 3 سوختہ لاشوں کی ڈی این اے کے ذریعے شناخت ہوگئی، ملبہ ہٹانے اور لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ لاپتا افراد کی فہرست 82 تک پہنچ گئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق آتشزدگی کے بعد گل پلازہ سے لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے جن کی تعداد 28 تک پہنچ گئی، 85 افراد لاپتا ہیں۔
ایدھی حکام کے مطابق 21 ناقابل شناخت میتوں میں سے مزید تین کی شناخت ہوگئی ہے۔ جن میں ایک میت لڑکی 15 سالہ مریم جبکہ دو مردوں 33 سالہ شہروز اور 26 سالہ رضوان کی ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق سی پی ایل سی نے ڈی این اے کے ذریعے شناخت کی جس کے بعد لواحقین میتیں لینے سرد خانے پہنچ گئے ہیں۔ اس سے قبل دن میں 7 افراد کی لاشوں کو شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کیا گیا تھا جس کے بعد سرد خانے میں 21 ناقابل شناخت لاشیں موجود تھیں اور ان میں سے مزید تین کی شناخت ہوگئی۔
ڈاکٹر سمیہ طارق کے مطابق جاں بحق تمام افراد کا پوسٹ مارٹم بھی مکمل کر لیا گیا، گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے ایک خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کرلیا گیا۔
پولیس سرجن نے بتایا کہ 33 سالہ مصباح دختر عرفان کی فیملی کے دیگر4 افراد بھی لاپتا ہیں۔
ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو کا کہنا تھا کہ بلڈنگ کا 40 فیصد حصہ گر چکا ہے، ایس بی سی اے کے ماہرین نے معائنے کے بعد بتایا ہے کہ دیگر حصے بھی انتہائی کمزور ہے۔ تاجروں سے گزارش ہے کہ ہم سے تعاون کریں اور ریڈ زون سے دور رہیں۔
ڈی سی کا کہنا تھا کہ آج عمارت کے اندر داخل ہوکر سرچنگ کی جائے گی، لاپتا افراد کی فہرست میں 83 نام شامل ہیں جبکہ بعض نام دو بار شامل کر لیے گئے اس لیے 75 افراد کے لاپتا ہونے کی تصدیق ہے، 39 افراد کی لوکیشن گل پلازہ آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس بی سی اے کی ڈی مولش ٹیم ہمارے ساتھ موجود ہے، جو وقتاً فوقتاً ہمیں بتا رہی ہے کہ ہمیں کس طرح آپریشن کرنا ہے۔
ڈی سی نے بتایا کہ صبح تیسری اور چوتھی منزل پر ریسکیو اہلکاروں کو بھیجا گیا، تفصیلی سروے کیا ہے لیکن ہمیں کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہے کہ عمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی، وہاں راستہ بنا کر ٹیمیں بھیجیں گے، اللہ کرے ہمیں راستہ مل جائے۔
انہوں نے کہا کہ چھت پر موجود گاڑیاں اتار کر مالکان کے حوالے کر دی گئی ہیں، کچھ موٹر سائیکلیں موجود ہیں انہیں بھی اتروا لیا جائے گا۔
جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کے فوری بعد 15 سے 20 منٹ میں ہم نے تین جگہوں سے داخل ہونے کی کوشش کی لیکن آگ میں اتنی شدت تھی کہ کوئی قریب نہیں جا پا رہا تھا۔ ایم اے جناح روڈ سے ریسکیو اہلکاروں نے داخل ہونے کی کوشش کی اور وہاں سے کچھ لوگوں کو ریسکیو بھی کیا جبکہ اس دوران ہمارے ریسکیو اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
ڈی سی نے کہا کہ جہاں جہاں سے ہم داخل ہونے کی کوشش کر سکتے تھے وہاں سے داخل ہونے کی کوشش کی گئی، جہاں سے ریسکیو کر سکتے تھے وہاں سے پھنسے ہوئے لوگوں کو ریسکیو کیا۔
انہوں نے کہا کہ آگ کی شدت بہت زیادہ اور تیز تھی، اسی وجہ سے یہ مسئلہ درپیش آیا۔ آگ کی شدت کے باعث ریسکیو اہلکار گل پلازہ میں داخل نہیں ہو پا رہا تھا، ہم نے 32 مرتبہ عمارت میں جانے کی کوشش کی ہے۔
ڈی سی کا کہنا تھا کہ ہم نے4 پوائنٹ کی نشاندہی کرکے وہاں ہولز بھی بنائے، بندے بھی بھیجے اور کچھ حد تک اندر بھی گئے لیکن آگ کی شدت کی وجہ سے بندے زیادہ اندر نہیں جا سکے۔
ریسکیو اہلکار 40 گھنٹوں بعد عمارت میں داخل
گزشتہ روز ریسکیو اہلکار 40 گھنٹوں بعد گل پلازہ کی عمارت میں داخل ہوئے اور لاپتا افراد کی تلاش میں آپریشن شروع کیا، پہلی منزل پر لاشوں کی تلاشی کا کام مکمل ہوگیا اور اب دوسری منزل پر زندہ یا مردہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی جس پر فائر بریگیڈ کی گاڑی نے پھر سے پانی برسانا شروع کر دیا، جسے تھوڑی دیر بعد کنٹرول کر لیا گیا۔
گل پلازہ میں اندھیرا ہونے کے باعث ریسکیو اہلکار ٹارچ کے ذریعے عمارت میں موجود شہریوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ ریسکیو عملے کے افراد کو عمارت کے اندر انسانی اعضا مل رہے ہیں جبکہ لاشیں نکالنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
میئر کراچی مرتضی وہاب کا جائے حادثہ کا دورہ
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب ریسکیو آپریشن کی نگرانی کے لیے خود رات گئے گل پلازہ پہنچ گئے۔ اس موقع پر انہوں نے ہدایت کی کہ ہر صورت میں ریسکیو آپریشن مکمل کیا جائے اور متاثرین کی تلاش کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔
میئر کراچی نے کہا کہ جب تک تمام لاپتہ افراد کا سراغ نہیں مل جاتا اور ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہوتا، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تمام محکمے الرٹ رہیں گے۔
ریسکیو اور کلیئرنس آپریشن کے تحت عمارت کی چھت سے گاڑیاں اتارنے کا عمل شروع
ایکسپریس نیوز کے مطابق میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر مزید ہیوی مشینری موقع پر پہنچا دی گئی، جبکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے عملے نے کرینز کے ذریعے مرحلہ وار گاڑیوں کو نیچے اتارنا شروع کر دیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق اب تک گل پلازہ کی چھت سے مجموعی طور پر 32 گاڑیاں محفوظ طریقے سے نیچے اتار لیے گئے ہیں۔
اتاری جانے والی گاڑیوں میں 16 کاریں، 4 سوزوکی، 12 موٹر سائیکل اور 1 رکشہ شامل ہے۔
اتاری جانے والی گاڑیاں محفوظ حالت میں ان کے مالکان کے حوالے کر دی گئیں، جنہوں نے گاڑیاں خود چلا کر محفوظ مقام پر منتقل کیں۔
13 لاشوں کی شناخت ہوچکی، 75 افراد لاپتا ہوئے ہیں، کمشنر کراچی
کمشنر کراچی حسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ سانحہ گل پلازہ میں 26 افراد کی لاشیں ملی ہیں جن میں 13 لاشوں کی شناخت ہوچکی ہے، کچھ لاشوں کا ڈی این اے کروائیں گے جس کے بعد باقی لاشوں کی شناخت سامنے آئے گی تاحال 75 افراد لاپتا ہونے کی رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آگ کی شدت بہت زیادہ تھی، میں نے اپنی زندگی میں ایسی آگ نہیں دیکھی، انکوائری کمیٹی نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ہم شواہد اکٹھے کر رہے ہیں، دو چار دن میں مزید شواہد سامنے آئیں گے۔
کمشنر کا کہنا تھا کہ ابھی ہمارا فوکس ریسکیو آپریشن پر ہے، انکوائری میں جو سامنے آئے گا سب کو بتائیں گے، ہم کسی کو ذمے دار نہیں ٹھہرا رہے لیکن اگر کوئی کرمنل حرکت کے شواہد ملے تو سخت کارروائی ہوگی۔
- Advertisement -
بلڈنگ کو گرانے یا نہ گرانے کا فیصلہ ایس بی سی اے کی ٹیم کریگی، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید بنی کھوسہ نے ایکسپریس کو بتایا کہ گل پلازہ عمارت کے مخدوش ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم کرے گی، یہ ٹیم ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد کرے گی اس کے بعد عمارت کے انفرا اسٹرکچر کے حوالے سے فیصلہ ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ ریسیکو آپریشن کو مکمل ہونے میں وقت لگے گا، عمارت کے گرنے والے حصے کا ملبہ اٹھانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے، 70 سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کے حوالے سے ان کے اہل خانہ نے ضلعی انتظامیہ سے رجوع کیا ہے، ہماری کوشش ہے کہ لاپتا افراد کو جلد ازجلد تلاش مل جائیں، نقصانات کے جائزے کا کام سندھ حکومت کی ہدایات کی روشنی میں ریسیکو آپریشن کے بعد شروع کیا جائے گا۔
ایک دکاندار ایکسیویٹر اور ڈرلنگ مشین لے آیا، انتظامیہ نے روک دیا
ایک دکاندار نے اپنی دکان تک پہنچنے کے لیے ایک ایکسیویٹر اور ڈرلنگ مشین استعمال کیا تاہم انتظامیہ نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مشین کو ہٹادیا۔ دکاندار رحمت اللہ نے بتایا کہ مشین لانے کا مقصد صرف دکان تک پہنچنے کا راستہ بنانا تھا، دکان میں ان کے دو بھتیجے، کوئٹہ سے آنے والا مہمان اور ملازمین موجود تھے۔
ادھر انتظامیہ کا موقف تھا کہ مشین کے ذریعے ڈرل کرنے سے عمارت کے ڈھانچے کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اس لیے مشین کو کام کرنے سے فوری طور پر روکا گیا اور جائے وقوعہ سے ہٹادیا گیا۔
نوجوان اندھیرے میں دیواریں ٹٹولتا ہوا باہر آنے میں کامیاب
ایک نوجوان شدید دھویں کے باوجود دیواریں ٹٹولتا ہوا عمارت سے باہر آنے میں کامیاب تو ہوگیا مگر پھر بے ہوش ہوگیا اور اس کی آنکھ اسپتال میں کھلی۔
ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے نوجوان سروائیور خالد نے بتایا کہ وہ لمحات زندگی اور موت کے درمیان ایک کشمکش کی مانند تھے جہاں ہر طرف صرف دھواں اور لوگوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ آگ لگی، دھواں پھیلا اور پھر بجلی گئی، کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔
اس نے بتایا کہ دم گھٹنے کی وجہ سے لوگ نڈھال ہو رہے تھے اور باہر نکلنے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔
خالد نے بتایا کہ اس وقت دکان میں اس کے دو بھائی نعمت اور عبداللہ، کوئٹہ سے آنے والا کزن یوسف، تین ملازمین اور کچھ خریدار بھی موجود تھے، وہ اپنے ایک بھائی زبیر کے ساتھ باہر نکلا اور دیواریں ٹٹولتا ہوا باہر کی جانب بڑھا، اس وقت سانس لینے میں بہت مشکل ہورہی تھی مگر کسی نہ کسی طرح عمارت سے باہر آنے میں کامیاب تو ہوگیا مگر پھر اسے ہوش نہیں رہا، بعد میں اس کی آنکھ اسپتال میں کھلی۔
اس نے بتایا کہ گل پلازہ میں ان کی میز نائن فلور پر 144 نمبر کی دکان تھی۔ خالد نے بتایا کہ وہ گل پلازہ کے باہر اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ موجود ہے اور اندر رہ جانے والے بھائیوں کا منتظر ہے۔
بیک وقت تین جگہ آپریشن جاری، حتمی ہلاکتوں کی تعداد فی الحال نہیں بتاسکتے، 1122
ریسکیو 1122 کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ کے مطابق حادثے کے مقام پر 5 مختلف نشاندہی شدہ مقامات پر بیک وقت 3 سرچ آپریشنز جاری ہیں، ایک خصوصی ٹیم مسلسل فائر فائٹنگ اور کولنگ کے عمل میں مصروف ہے تاکہ آپریشن کے دوران محفوظ ماحول برقرار رکھا جا سکے، ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
چیف آپریٹنگ آفیسر کے مطابق عمارت کا اسٹرکچر شدید حد تک متاثر ہوچکا ہے اور کسی بھی گرنے کا خدشہ ہے، آپریشن مرحلہ وار، محدود اور انتہائی مہارت کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے، متعدد لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں تاہم لاشوں کی حتمی تعداد فی الحال بیان نہیں کی جا سکتی، بعض لاشیں مختلف مقامات سے حصوں کی صورت میں ملی ہیں، جب تک تکنیکی اور فرانزک تصدیق کے ذریعے یہ تعین نہیں ہو جاتا کہ یہ اعضا ایک ہی فرد کے ہیں یا مختلف افراد کے، اس وقت تک درست تعداد کی تصدیق مشکل ہے۔
اسی طرح چیف فائر آفیسر کا کہنا ہے کہ ملبہ کلیئر کرنے میں 15 سے 17 دن لگ سکتے ہیں، عمارت کا موجودہ حصہ خطرناک ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، آپریشن کے دوران لاشیں نکلنے کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ ناقابل شناخت لاشوں کو امانتاً ایدھی سرد خانے میں رکھوا دیا گیا ہے۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد نے میڈیا سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گل پلازہ میں مرکزی آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے، اور اس وقت کولنگ کا عمل چل رہا ہے۔
اس سے قبل آج صبح بروز پیر کے مطابق گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر 36 گھنٹے گزرنے کے باوجود تاحال مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا تھا، عقبی حصے کی طرف سیکنڈ فلور اور گراؤنڈ فلور میں اب بھی آگ لگی ہوئی ہے۔
گل پلازہ کی عقبی سائیڈ پر فائر بریگیڈ کی تمام گاڑیوں نے کام بند کر دیا، کیونکہ آگ بجھانے کے عمل کے دوران عمارت سے آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔
فائر بریگیڈ کے مطابق عمارت مکمل طور پر خستہ حال ہو چکی ہے اور اس کے گرنے کا خدشہ ہے اسی لیے فائر فائٹنگ روک دی گئی ہے، صرف ملبے کو ہٹایا جا رہا ہے۔
کراچی ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں ہفتے کی رات سوا دس بجے آگ بھڑک اٹھی جو بڑھتی ہی چلی گئی، فائربریگیڈ کی گاڑیاں بڑی تعداد میں پہنچیں مگر آگ بڑھتی ہی رہی، آتشزدگی سے عمارت کے دو حصے گر گئے۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں نے بتایا تھا کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر 80 فیصد قابو پا لیا گیا ہے اور کئی مقامات پر اگ کے شعلے تھم گئے، فائر اینڈ ریسکیو رضاکاروں کو اندر بھیجنا شروع کر دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے حوالے سے بتایا کہ پولیس نے 59 افراد کی مسنگ پر مختلف لوگوں سے رابطہ کیا اور تمام افراد کے ان کی فیملیز سے موبائل نمبر حاصل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب تک 26 افراد کی لوکیشن گل پلازہ کے پاس ملی، مزید افراد کی لوکیشن کی اسکرونٹی کررہے ہیں اور پولیس موبائل نمبرز پر مزید کام کر رہی ہے۔
اسپتالوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دھوئیں سے حالت غیر ہونے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا، دو فائر فائٹرز ارشاد اور بلال زخمی ہوئے جو پی این ایس شفا میں زیر علاج ہیں، مجوعی طور پر تیس افراد زخمی ہوئے جن میں سے 13 برنس سیںٹر، پندرہ اس کے ٹراما سینٹر میں اور دو جناح اسپتال لائے گئے۔
ریسکیو حکام کی جانب سے جاں بحق اور زخمی افراد کی فہرست جاری
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کاشف ولد یونس (40 سال)، فراز ولد ابرار (55 سال)، محمد عامر ولد نامعلوم (30 سال)، فرقان ولد شوکت علی (25 سال) سمیت 5 دیگر افراد شامل ہیں جن کی لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔
زخمی اور متاثرہ افراد میں حسیب ولد وسیم (25 سال)، وسیم ولد سلیم (20 سال)، دانیال ولد سراج (20 سال)، صادق ولد نامعلوم (35 سال)، حمزہ ولد محمد علی (22 سال)، رحیم ولد گل محمد (25 سال)، فہد ولد محمد ایوب (20 سال)، جواد ولد جاوید (18 سال)، ایان ولد نامعلوم (25 سال)، عبداللہ ولد ظہیر (20 سال)، عثمان ولد اصغر علی (20 سال)، فہد ولد حنیف (47 سال)، زین ولد عبداللہ (23 سال)، نادر ولد نامعلوم (50 سال) اور دیگر شامل ہیں۔
لاپتا افراد کے ناموں کی فہرست سامنے آگئی
قبل ازیں ڈپٹی کمشنر کو لوگوں نے شکایات درج کرائی تھیں کہ 56 افراد لاپتا ہیں جبکہ صدر گل پلازا تاجر ایسوسی ایشن کے مطابق 80 سے 100 افراد عمارت میں موجود ہوسکتے ہیں تاہم ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ 59 افراد لاپتا ہیں جن کی تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں۔