عوامی امنگوں کا پوسٹمارٹم
تحریر:محمد شہزاد بھٹی
اب آئیں، بائیں، شائیں کرنے والے ہمارے موجودہ وزیراعظم عمران خان صاحب نے اقتدار میں آنے سے پہلے تو پاکستانی عوام کو خوب سبز باغ دکھائے، آسماں سے چاند تارے توڑ کے لانے دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کے وعدے کئیے۔ کئی برسوں سے اقتدار کی باریاں لینے والوں سے کڑے احتساب کے ممکنہ عمل کی بدولت ریاستِ پاکستان کو کم از کم 300 ارب ڈالر کے قریب رقم مل جانے نوید سنائی تھی۔ یہ رقم بیرونی قرضوں کی یکمشت ادائیگی کے بعد بقیہ رقم پاکستان کے عام شہریوں کو سستی بجلی، گیس، صحت اور تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کے علاوہ دیگر عوامی فلاح کے ترقیاتی منصوبہ جات پر خرچ کی جانی تھی۔ عمران خان صاحب کو اب وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالے ساڑے تین سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر ہمیں دکھائے گئے خوابوں کو عملی صورت ملتی نظر نہیں آ رہی۔ عوام کو ملنے والی صحت و تعلیم کی بہت سی سہولیات ختم کر دی گئیں ہیں۔
- Advertisement -
سستی بجلی اور سستا پیٹرول کی جگہ مہنگا ترین پٹرول اور مہنگی ترین بجلی عوام خریدنے پر مجبور ہیں اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان اکثر مافیا کا ذکر کرتے تھے مگر آج آٹا، چینی، ادویات، ماسک چور عمران خان کی اپنی جماعت اور کابینہ میں موجود ہیں مگر ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی ہی نہیں کی جاتی، وہ مافیا اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ قوم اور ملک کو لوٹنے میں مصروف ہے کیونکہ لگتا تو یوں ہے کہ اس مافیا کی سرپرستی عمران خان خود کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کی کارکردگی ہر شعبے میں صفر ہے پاکستانی تاریخ میں پہلی بار پازٹیو گروتھ ریشو کی بجائے نیگٹیو گروتھ ریشو بڑھ رہی ہے جو انتہائی افسوسناک ہے مگر آج ساڑھے تین سال بعد بھی عمران خان کے فین یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کام ہی نہیں کرنے دیا جا رہا، مافیاز اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ چور، سیاست دان اور ڈاکو لیڈر پھر سے اقتدار میں آنے کیلئے سازشیں کر رہے ہیں۔ اِن کے پرستاروں کی نظر میں عمران خان ساڑے تین سال میں ملک ٹھیک نہیں کر سکتا،
اُس کو کم از کم 5 سال مکمل کرنے دیں تو تب ہی وہ صحیح اور مکمل تبدیلی لا کر نیا پاکستان بنا سکے گا۔ فرض کریں کہ موجودہ حکومت اپنی 5 سالہ مدت مکمل کر بھی لے اور اُس کے خلاف اپوزیشن کی تمام سازشیں، پی ڈی ایم کی تمام سازشیں بھی ناکام رہیں اور عمران خان کے راستے میں کوئی بڑی رکاوٹ بھی نہ آئے تو پانچ سال بعد ہم کہاں کھڑے ہوں گے؟ ہمارا اگلے ڈیڑھ سال کا معاشی، سیاسی اور سماجی وژن کیا ہے؟ ہماری گروتھ ریشو جو آج منفی ہے پانچ سال بعد کہاں ہو گی؟ کون سی نئی موٹرویز بنیں گی؟ کون سے بجلی کے نئے کارخانے لگیں گے؟ پاکستان کا نظامِ تعلیم کہاں کھڑا ہو گا؟ پاکستان کی زراعت میں کتنی بہتری آ چکی ہو گی؟ کتنے بیروزگار افراد نوکریاں حاصل کر چکے ہوں گے؟ کتنے بے گھر افراد گھر حاصل کر چکے ہوں گے؟ کتنے غریب خطِ افلاس سے اوپر آ چکے ہوں گے؟ کتنے مفلس مہنگائی کے عذاب سے بچ سکیں گے؟ ان سوالوں کے جتنے بھی مثبت جواب دینے کی کوشش کی جائے، سچ تو یہ ہے
کہ پانچ سال بعد کی تصویر بھی دھندلی اور غیر واضح ہے ہمارا مستقبل روشن نہیں بلکہ تاریک نظر آ رہا ہے۔ آج پاکستان کی معیشت کو تباہ کر کے اب اس کی مذید تباہی کیلئے سٹیٹ بنک آف پاکستان کو آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ زرعی ملک پاکستان میں آٹے، چینی جیسی بنیادی ضرورت کا حصول عوام کیلئے انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ ہمارے موجودہ وزیراعظم عمران خان صاحب نے اقتدار میں آنے بعد کے پاکستانی عوام سے کئیے گئے تمام وعدوں سے یوٹرن لے چکے ہیں اور تمام وعدے بھلا چکے ہیں۔ موجودہ دور حکومت میں کسی ایک سیکٹر میں بھی ترقی نہیں ہوئی اور ان سے وابستہ عوامی امیدوں کا جس بے دردی سے پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے اسے پاکستانی قوم کسی صورت نہیں بھلا پائے گی اور انہیں ہمیشہ پاکستانی تاریخ میں ایک ناکام ترین وزیراعظم کے طور پر یاد رکھے گی۔