اسلام آباد(مسائل نیوز)الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے حویلیاں جلسے میں دیے گئے متنازع اور اشتعال انگیز بیان کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں اور امیدوار شہرناز عمر ایوب کو طلب کرلیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے جلسے کے دوران ضلعی انتظامیہ، پولیس اور الیکشن ڈیوٹی پر مامور عملے کو دھمکیاں دیں اور عوام کو اکسانے کی کوشش کی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق جلسے میں ایک مفرور ملزم بھی موجود تھا، جس کی اہلیہ ضمنی انتخاب این اے 18 ہری پور میں حصہ لے رہی ہیں۔
کمیشن نے کہا ہے کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے اس غیر ذمہ دارانہ اقدام نے حلقے میں پُرامن ضمنی انتخاب کو سنگین طور پر متاثر کیا۔ الیکشنز ایکٹ 2017 اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر دونوں کو ہفتے کے روز پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے الیکشن کمشنر خیبر پختونخوا کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر چیف سیکریٹری اور آئی جی سے ملاقات کرکے سیکیورٹی انتظامات مضبوط بنائیں اور رپورٹ کمیشن کو پیش کریں۔ مزید یہ کہ وزارتِ داخلہ کو خط بھیجا جائے گا تاکہ وفاقی اداروں کی مدد سے حلقے میں فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائے۔
حکم نامے کے مطابق پریزائیڈنگ افسران کی پولنگ اسٹیشنز تک اور بعد ازاں آر او دفتر تک محفوظ نقل و حرکت کو ترجیح دی جائے گی۔ کمیشن نے واضح کیا کہ ضمنی انتخابات میں کسی بھی فرد، شخصیت یا حکومتی عہدیدار کی جانب سے انتخابی عمل میں مداخلت یا خلل برداشت نہیں کی جائے گی اور سخت کارروائی کی جائے گی۔
الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کو بھی ہدایت کی ہے کہ اگر وفاقی یا صوبائی حکومت کا کوئی عہدیدار ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کرے یا انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کرے تو آئین اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
Get real time updates directly on you device, subscribe now.