غفلت کی بھی حد ہے
وارث دیناری
2022کے تباہ کن سیلاب کو دوماہ سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے لیکن اس کی تباہ کاریاں ابھی تک جارہی ہیں اس کے اثرات کوختم ہونے میں تو کئی سال درکارہیں۔ لیکن اگر حکمت عملی سے کام لیا جاتا تو اس کی تباہ کاریوں میں کمی لائی جاسکتی تھی ایسا نہیں کیا گیا۔اور یہ سلسلہ سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں ابھی تک جارہی ہیں ان کو ختم تو نہیں کسی حدتک کم کیا جاسکتا ہے لیکن ایسا نہیں کیا جارہا ہے میرے صوبے کے تین اضلاح صحبت پور،جعفرآباد،اوستہ محمد کے عوام کو اس وقت بھی شدید ترین مشکلات پریشانیوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے لیکن صاحب اقتدار با اختیار ادارے اصل اور اہم ایشو کی طرف توجہ دینے کی بجائے بس عارضی بحالی کے اقدامات کرنے پرلگے ہوئے ہیں۔بس یہ لوگ فنڈز دینے لینے اور بانٹنے پر لگے ہوئے نظر آرہے رہیں اس وقت ہماری یہ حالات ہے بچے سکول جانے کی بجائے گاڑیوں کے پیچھے بھاگنے میں لگے ہوئے نظر آئیں گئے خواتین بینظیراحساس پروگرام کے پیچھے جبکہ مرد حضرات امدادی سامان کے پیچھے اور حکمران عالمی امدادی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔یہ بھیک،یہ خیرات،یہ امداد آخر کب تک چلتا رہے گا۔اصل اور اہم ایشو زکی جانب ہم کیوں توجہ نہیں کرتے ہیں۔ہماری نا اہلی اور نالائقی کی بدولت بارشوں اور سیلاب سے جو تباہی آئی اور جو نا قابل تلافی جانی مالی نقصان ہوا ہے اس کا اذلہ کسی صورت میں ممکن تو نہیں ہے لیکن اب تو اس سانحہ کی تباکاریوں کو کنٹرول کرکے مزید نقصان سے تو بچاجاسکتا ہے لیکن اس کی طرف دیہان کیوں نہیں دی جارہی ہے۔علاقے میں لاکھوں ایکڑتیار خریف کی فصل بارشوں اور سیلاب کی نظر ہوگئی ہے،۔تو لوگوں نے حوصلہ نہیں ہارا۔اور یہ سوچ کر ہمت باندہی کہ اب ربیع کی فصلیں کاشت کرکے اپنے نقصانات کا اذلہ کریں گئے لیکن تین ماہ ہونے کو آئے ہیں ابھی تک میرے ان اضلاع سے برساتی پانی نہیں نکلاجاسکا ہے اب حالت یہ ہے کہ بارساتی پانی کو نکالنے کیلئے برساتی روٹ استعمال کرکے سیم نالوں کے ذریعے ہی پانی نکالاجاتا لیکن نہیں اب یہ برساتی پانی ہمارے آبپاشی اور آبنوشی والے نہروں واٹرکورسوں کے ذریعے بہایا جارہا ہے۔اس وقت سکھر بیراج سے نکلنے والے تمام کینالوں میں ضرورت کے مطابق ان میں پانی فراہم کی جارہی جو آب پاشی اور آب نوشی کیلئے استعمال کی جارہی ہے سوائے کھیر تھر (این ڈبلیو سی)کینال کے اس کو مکمل طور پر بند کرکے اس میں برساتی زہریلا پانی تین ماہ سے چھوڑ دیا گیا ہے جس سے ایک طرف تو ہماری زمین تباہ ہوگئی ہیں تو دوسری جانب مسلسل تین ماہ سے اس ذہریلے پانی جس میں طرف آپ کو جانوروں کے آلائشیں نظر آئیں گئے یہی سبز رنگ کا پانی جانوروں کے ساتھ انسان بھی استعمال کرنے پر مجبور بنے ہوئے ہیں۔اس زہریلے پانی ہی کے اثرات کا اندازہ آپ اس بات سے بخوبی لگا سکتے ہو کہ متاثرہ علاقوں میں لوگ ملیریا سے دو دو تین بلکہ چار بار بھی متاثر ہوئے ہیں مرض ہیں جو ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لیتے ہیں کیونکہ تمام کرامات اس پانی ہی کی بدولت ہے جانور بیمار ان کا دودھ مضراور گوشت صحت بنا ہوا ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ برساتی پانی کی نکاسی کے لئے فوری اور ہنگامی طورپر اقدامات کئے جائیں نہروں کی بجائے برساتی روٹ کا استعمال کرکے سیم نالوں کے ذریعے ممکن بنایا جائے نیز گھیر تھر کینال میں دریا سے پانی چھوڑا جائے۔جب سکھر بیراج کے چھ کینالوں میں پانی ضرورت کے حساب سے چھوڑا جارہا ہے تو ہمارا کیا قصور ہے کہ ہمیں صاف شفاف صحت بخش پانی سے محروم کرکے مضر صحت پانی استعمال کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔اگر یہی زہریلا پانی یونہی چلتا رہا تو آنے والے چند دنوں میں لوگوں میں مختلف بیماریاں وبائی شکل اختیار کر لیں گئی پھر اس کو روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا ساتھ ہی بلوچستان فوڈز کنٹرول اتھارٹی سے بھی دست بستہ اپیل کی جاتی ہے خدا کیلئے صرف خانی پوری نہیں بلکہ لوگوں کی قیمتی جانوں سے کھیلنے والے ہر قسم کے ان درندوں کو قابوں کرنے کیلئے سخت ایکشن کی ضرورت ہے صرف ایک دن کیلئے آکر چھاپے مارنے سے کام نہیں چلے گا شکایات سیل قائم کرکے ہفتہ دس دن کیلئے روزانہ کی بنیادوں پر ہوٹلوں ملک شاپوں بیکرز دیگر شاپس کی چیکنگ کرتے رہیں تب جاکر لوگوں کو کچھ ریلیف ملے گئی کیونکہ اس وقت میرے علاقے کے باشندے جانی مالی ہر لحاظ سے بہت ہی زیادہ متاثر ہیں