MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

امن کا دوست, پاکستان

0 236

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا
دنیا بھر میں 21 ستمبر کو امن کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی  امن کے عالمی دن کو اخوت اور یگانیت کے فروغ کے لئے مقرر کیا ہے. پاکستان وہ ملک ہے جس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ناقابل فراموش کامیابیاں حاصل کی ہیں
پاکستان امریکی امن مشنز میں سب سے زیادہ فعال کردار ادا کرنے والا ملک ہے۔
1960 کے بعد سے، ہمارے 200,000 سے زیادہ مرد اور خواتین نے دنیا کے تقریباً تمام براعظموں میں اقوام متحدہ کے 46 مشنوں میں عزت اور بہادری کے ساتھ خدمات انجام دی جا چکی ہیں, پاکستان کو چھ دہائیوں پر محیط اقوام متحدہ کی امن فوج میں اپنی
دیرینہ اور مسلسل شراکت پر فخر ہے, پاک فوج نے بین الاقوامی امن مشنز کو اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کے ذریعے مادر وطن کو دنیا بھر ممتاز کیا ہے اور یہ ثابت کیا کہ پاکستان کا پیغام امن و محبت ہے, اس کارخیر میں پاک فوج کے 169 بہادروں نے لازوال قربانیاں دی ہیں, مرد آہن کے ساتھ ہماری صنف آہن بھی پاکستانی امن دستوں میں بہترین کردار ادا کر رہی   بین الاقوامی امن مشنز میں حصہ لینے کے لیے پاکستان کی حوصلہ افزائی بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے وژن سے ہوتی ہے، جنھوں نے اعلان کیا کہ، “ہم قومی اور بین الاقوامی معاملات میں ایمانداری اور منصفانہ اصول پر یقین رکھتے ہیں اور بھرپور تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اقوام متحدہ کے سبابق جنرل سیکریٹری
بان کی مون کے مطابق اقوام متحدہ کے امن مشن میں سو سے زیادہ ممالک کی فوج اور پولیس کا تعاون ہوتا ہے, جس میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے۔ اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل بان کی مون، اور مرحوم کوفی عنان، دونوں نے دنیا بھر میں جنگ زدہ علاقوں میں قیام امن کے لیے پاک فوج کے کردار کی تعریف کی۔ہے, سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا، “پاکستان نے ہماری پوری تاریخ میں اقوام متحدہ کے مقاصد کی حمایت کی ہے۔ ان ہزاروں پاکستانی فوجیوں کا شکریہ جنہوں نے اقوام متحدہ کے پرچم تلے خدمات انجام دی ہیں، ساتھ ہی پاکستانی سکالرز، ماہرین اقتصادیات، اور بین الاقوامی سول سرونٹس کا بھو شکریہ جنہوں نے ترقی اور امن کے لیے ہمارے کام کو آگے بڑھایا، پاکستان صحیح معنوں میں اپنے آپ کو اس کام میں ایک لیڈر کہہ سکتا ہے۔
پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لئے بھی بہت اہم امور سر انجام دئیے ہیں,   پاکستان کا ماننا ہے کہ جنگ افغانستان کی صورتحال کا حل نہیں ہے اور بات چیت ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ پاکستان نے امریکہ کو مذاکراتی عمل پر لانے میں کامیاب کردار ادا کیا, جس کا امریکہ نے بھرپور اعتراف کیا ۔
دوسری جانب ایشائی خطے کا دوسرا ملک بھارت ہے
جو رقبے اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان سے چار گنا بڑا ملک ہے, وہاں پر مسلمانوں کی کثیر تعداد بھی آباد ہے,  بھارت میں ذات برداری, نسلی تعصب کا رواج عام ہے,
بھارت میں جب سے فاشسٹ نظریات کی حامی بھارتیہ جنتاپارٹی نریندرامودی کی سر پرستی میں بر سرِ اقتدر آئی ہے تب سے بھارت میں عالمی انسانی قوانین کی کھلے عام دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔مودی حکومت کا مقصد صرف اور صرف ہندو نیشنلزم اور ہندو بالادستی کو فرغ دینا ہے جس کیلئے مودی سرکار بھارت میں بسنے والی اقلیتوں سے امتیازی سلوک روا رکھتے ہوئے ایسی پر تعصب پالیسیاں اپنا رہی ہے جس سے اقلیتیں خوف کا شکار ہیں۔ آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) جس کا مقصد ہی بھارت سے اقلیتوں کا خاتمہ اور ہندوتوا کو فروغ دینا ہے اس وقت مودی سرکا ر کی سرپرستی میں کام کر رہی ہے۔ ہندوتوا ہندو قوم پرستی میں انتہا پسندی کی حد تک چلے جانے کا اصطلاحی نام ہے۔ یعنی یہ ہندو قومیت کی بالادستی کا متشدد نظریہ ہے۔ ونائیک دمودر سورکر نے 1923ء میں اس اصطلاح کا پرچار کیا تھا۔ قوم پرست ہندو رضاکار تنظیموں راشٹریہ سیوک سنگھ، وشو ہندو پریشد اور ہندو سینا نے اس نظریے کو بام عروج پر پہنچا دیا۔ آر ایس ایس کمپیوٹر کی کوئی اصطلاح نہیں بلکہ ایک قوم پرست ہندو تنظیم ہے، جس کا پورا نام راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ہے۔ اس کا قیام 25 ستمبر 1925 کو انڈیا کے شہر ناگپور میں ڈاکٹر کیشو بلی رام ہیڈگوار کی کوششوں سے عمل میں آیا تھا۔ اگر آپ اس کی ویب سائٹ پر جائیں تو وہاں آپ کو ہیڈگوار کا قول نظر آئے گا جس میں انھوں نے ہندوؤں کو انڈیا کی ’سانس‘ قرار دیا ہے اور کہا کہ ’اگر انڈیا کو بچانا ہے تو ہندو تہذیب کو جلا بخشنا ہوگی۔‘ ہیڈگوار نے 1927 ء میں مسلمانوں کے خلاف 100 سویم سیوکوں کو تیار کیا تھا اور لکشمی پوجا کے دن مسجد کے سامنے سے ڈھول باجے کے ساتھ جلوس لے جانے کی کوشش کی تھی اور جب مسلمانوں نے انھیں روکا تو آر ایس ایس کے کارکن تیار تھے اور انھوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ اگرچہ اس تنظیم سے منسلک افراد کا دعویٰ ہے کہ اس کا قیام انڈیا کو انگریزوں سے آزادی دلانے کیلئے عمل میں آیا تھا لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ اس نے عملی طور پر انگریزوں کے خلاف کوئی کام نہیں کیا بلکہ اس کے عسکری میلان کا سارا زور مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف نکلا۔یہ تنظیم اپنے قیام سے لیکر اب تک انڈیا کو ’ہندو راشٹر‘بنانے کے مشن پر لگی ہوئی ہے۔ وہ ہندوازم کو مذہب نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ایک طریقہ کہتی ہے۔ آر ایس ایس کے ہندو قوم پرست نظریے کی بنیاد بنکم چندر چیٹرجی کی تصانیف اور لالہ لاجپت رائے، وی ڈی ساورکر اور بال گنگا دھر تلک جیسے ہندو مہاسبھا کے رہنماؤں کی تصانیف میں نظر آتی ہے۔ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو تقسیم ہند (1947) کے بعد بھارتی قیادت نے اقلیتوں کا اعتماد جیتنے کیلئے وقتی طورنعرہ بلند کیا کہ ہندوستان ایک سیکولر ریاست ہو گی جس میں ہندو، مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو یکساں حقوق حاصل ہوں گے لیکن ایسا عملی طور پر ہندستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا اور اقلیتوں کو ہمیشہ انتہاء پسند ہندؤں کی طرف سے ظلم و جبر اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ ہندو بالادستی قبول کرلیں۔ بھارت میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی کا نہ ملنا، حقِ رائے دہی کا نہ ملنا،انصاف کا نہ ملنا، بنیادی حقوق (صحت،تعلیم، رہن سہن) سے محرومی،غربت،بے روزگاری،تشدد، دہشت گردی و انتہاء پسندی جیسے مسائل کا سامنا ہے جس کے خاتمے کیلئے بھارتی حکومت سنجیدہ نہیں بلکہ نسلی تعصب کی بنا پر اقلیتوں کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ مودی سرکار کی متعصبانہ پالیسیوں کے باعث بھارت کے تمام ادارے بھی اقلیتوں کے خلاف متعصب ہو گئے ہیں۔ پولیس اقلیتوں کو تحفظ دینے کی بجائے انتہاء پسند ہندؤں کا ساتھ دیتی ہے،اقلیتوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی ایف آئی آر تک درج نہیں ہوتی،عدلیہ کی آزادی بھی سلب ہو چکی ہے۔ عدلیہ کو جرأت نہیں کہ ہندو انتہاء پسندوں کے ظلم وستم کے خلاف دائر مقدمات کا آزادی سے فیصلہ کر سکیں۔ دنیا یہ حقیقت جانتی ہے کہ جس نظام نے اقلیتوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا وہ فاشسٹ نظام تھا جس کی بنیاد ہٹلر اور میسولینی نے رکھی اور جرمنی و اٹلی میں اقلیتوں سے غیر انسانی سلوک کی ایسی اندوہناک داستانیں رقم کی کہ دنیا آج تک اس کے منفی اثرات محسوس کر رہی ہے بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ بھارت اسی نظام کی بگڑی ہوئی ایک شکل ہے۔ یہ محض مفروضہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ یوایس سی آئی آر ایف (یو نائیٹڈ سٹیٹ کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی ) نے واضح طور پرلکھا کہ 2014ء میں نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد راشٹریہ سویم سیوک سنگھ جیسے گروہوں کی طرف سے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کو ’’پرتشدد حملوں‘‘، جبری تبدیلیوں اور ’’گھر واپسی‘‘ جیسی مہمات کا نشانہ بنایا گیا۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ (2018) کے مطابق’’ 2017ء میں حکمران جماعت بی جے پی مذہبی اقلیتوں اور پسماندہ طبقوں پر تشدد اور ہونے والے حملوں کی تحقیقات کرنے میں ناکام رہی جبکہ بی جے پی کے بہت سے سینئر رہنماؤں نے عوامی سطح پر ہندو بالادستی اور انتہائی قوم پرستی کو فروغ دیا جس سے تشدد کے واقعات میں مزید اضافہ ہوا۔‘‘ نریندر مودی کے قریبی ساتھی راجیشور سنگھ نے ایک عوامی پرو گرام میں ہندو بالادستی کی بات کرتے ہوئے نسلی تعصب کی شر مناک مثال قائم کی اور کہا ’’ہمارا ہدف بھارت کو ہندو راشٹرا (ہندو ملک) بنانا ہے۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کو یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں۔اس لئے یا تو وہ ہند مذہب قبول کر لیں یا پھر انہیں یہاں سے بھاگنے پر مجبور کیا جائے گا۔‘‘ ۔
ہندوستان جس طرح مقبوضہ کشمیر میں غیر انسانی سلوک کر رہا ہے وہ بھی سب پر عیاں ہے,گذشتہ 75 سالوں سے بھارتی جارحیت کا ستم سہتے کشمیری اپنی آزادی کے لئے آج بھی پر امید ہیں
یہ ہے پاکستان اور ہندوستان کا وہ سرسری جائزہ جس کے مطالعے سے یہ جاننا مشکل نہیں ہے کہ وہ امن دوست ہے اور کون امن کو تہہ تیغ کر رہا ہے

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.