مجاہدِ قلم ھوں، بیدار کرتا رہونگا۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
- Advertisement -
گزشتہ دنوں کراچی میں تحریک طالبان کی جانب سے پولیس آفس میں دہشتگردی کا واقع پیش آیا۔ تحریک طالبان کے دہشتگرد پولیس آفس میں حملہ آور ھوئے چند ایک محافظ جوان شہید و زخمی بھی ھوئے۔ بہادری اور جرٱت مندی کا مظاہرہ کرتے ھوئے پولیس اور رینجرز کے کمانڈوز نے بروقت کاروائی کرکے تمام کے تمام دہشتگرد واصل جہنم کردیئے۔ اس بابت میں نے اسی وقت کالم لکھ کر روزنامچہ کو شیئر کردیا اس سے قبل کچھ ایام قبل اپنے کالم میں پولیس چیف سمیت وزیراعلیٰ سندھ کو یاد دلایا کہ کراچی کو کس طرح بے رحم مجرموں کے حوالہ کردیا ھے اور جب صحافی دوست اس بابت آگاہ کرتے رھے تو آپ سب کا ایک ہی جواب ملتا تھا سب ٹھیک ھے اگر سب ٹھیک تھا تو اس دن بھی جب تحریک طالبان کے دہشتگرد حملہ آور تھے کراچی کے بیشمار علاقوں میں رہزنوں، ڈکیتوں اور لوٹ مار کرنے والے کے ہاتھوں عوام لٹتے رھے یہ سلسلہ آپ اور آپ کی پولیس سے نہیں رک سکتا کیونکہ سندھ حکومت سمیت سندھ پولیس کرپشن، بدعنوانی اور لاقانونیت میں بہت دور جاچکی ھے۔ اب صرف اور صرف پاک افواج مکمل ساز و سامان کیساتھ بے رحم جرائم پیشہ افراد منشیات فروش، اسمگلرز، لینڈ مافیاز اور ڈکیتوں کے خلاف ہر زاویہ اور طریق سے آپریشن کرکے کراچی کو غلیظ و غلاظت سے پاک کردیا جائے گر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستان اور ریاست پاکستان کو تباہ و برباد کرنے میں یہ بدترین عناصر کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ میری اس تحریر کو میرے استاد اور دوست انتہائی سینئر جرنلسٹ بے باک و نڈر ایماندار و دیانتدار سچے و کھرے صحافی جناب صغیر قریشی صاحب نے اپنی قیمتی صحافتی آراء و مشورہ سے نوازا اور مجھ جیسے ناتواں طفل مکتب کی حوصلہ افزائی بھی کی جس پر میں ادنیٰ حقیر و فقیر انسان اور معمولی صحافی بہت بہت شکریہ ادا کرتا ھوں کہ آپ جناب سنیئر صحافی صغیر قریشی صاحب میری تحریروں کو بغور پڑھتے ھیں اور توجہ بھی دیتے ہیں۔ حالیہ کالم کراچی دہشتگردوں کے شکنجے میں پڑھ کر مجھے اپنی آراء سے نوازا وہ لکھتے ھیں کہ جاوید صدیقی صاحب، سلام تحسین و ستائش نیاز مندانہ قبول فرمائیے۔ ملک و ملت کے بہترین مفاد، امن عامہ کی بہتری بالخصوص اپنے صوبہ سندھ میں روز افزوں بڑھتی ہوئی جرائم پیشہ افراد کی یلغاروں کے ملکی خواہ شہر کراچی کی معیشت پر بھیانک نتائج کی نشاندھی میں آپکی جرئت مندانہ و مخلصانہ تحریری گزارشات انتہائی اہم اور چشم کُشا اہمیت رکھتی ھیں مگر افسوس کہ موروثیت زدہ حاکمین اور نسل در نسل، سود در سود کے وسائل و ذرائع کی پر وردہ، نقار خانے پر قابض یہ نام نہاد اشرافیہ آپ کے درد مندانہ مشوروں اور التجاؤں پر توجہ دینا آپنا وقت ضائع کرنا سمجھتے ہیں اور یوں حق کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز، صدا بہ صحرا ھو جاتی ہے اور یہ ہی روش اس ملک میں ابتدا سے جاری و ساری ہے اس کی بنیادی وجہ صرف اور صرف یہ ھے کہ اس پر راج۔ اشرافیہ کا ھے اور اشرافیہ اور ان کے خاندان یا تو پروٹوکول کے ستر گنا سے زیادہ حصار میں محفوظ و مامون رہتے ہیں یا بیرون ملک، امن و امان سے رہتے ہیں۔ بھوک، افلاس، فاقہ زدگی، اور دہشتگردی کا شکار بیچارے غریب عوام اور چھوٹے درجے کے اہلکار ھوتے ھیں جن کی حیثیت اشرافیہ کے نزدیک دو ٹکے کے غلاموں سے زیادہ نہیں۔ اب آپ ہی بتائیں کہ اس قسم کے دہشتگردی کے واقعات سے جو کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری و ساری ھیں نقصان کس کا ھورہا ھے؟ اور چین کی بنسری کون بجا رہا ھے؟ ملک و ملت کی تباہی و بربادی کا باعث کون ھے؟ ھم کچھ نہیں بولیں گے۔ ھم بولیں گے تو بولو گے کہ بولتا ھے؟
پاکستان زندہ باد، پاک فوج پائندہ باد، جمہور وطن تابندہ باد، مثبت و تعمیری صحافت شاد باد منزل مراد آمین ثم آمین یارب العالمین۔ اسکے بعد سینئر صحافی صغیر قریشی صاحب پھر لکھتے ھیں کہ تمام آرمی، نیوی، ائر فورس کے افسران، ججز، بیوروکریسی، وزیروں، مشیروں کی سرکای گاڑیاں ختم کرکے بیچ دی جائیں۔ اپنی ذاتی گاڑیوں، ذاتی پٹرول پر دفتر آمد و رفت شروع کریں، گھر کے گیس بجلی، ٹیلیفوں کے بلوں کی ادائیگی اپنی تنخواہوں سے ادا کریں، جس طرح ایک عام ملازم پیشہ افراد و عوام کرتی ہے، ایک ماہ میں کھربوں روپے کی بچت ہوجائے گی، ایک سال میں سارے کا سارا بیرونی و اندرونی قرضہ ادا ہوجائگا، دوستو اسے ٹرینڈ بناؤ اور شئیر کرتے جاؤ،
آواز اٹھاو باہر نکلو، پورے پاکستان کو جام کرو، ایک مینہ میں تمام بنیادی اشیاء کی قیمتیں پچاس سال پرانی حالت پر آجائیں گی، اللہ پر توکل کرو اور ابتدا کرو، کم از کم اس میسیج کو اتنا عام کرو کہ ہر پاکستانی کا ضمیرجاگ جائے، مزید آپ لکھتے ھیں کہ وطن پاک کے بہترین مفاد میں اس تجویز پر بلا تاخیر عمل کرنا ناگزیر ہوچکا ہے اور اب یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ وطن عزیز کی بربادی اور قوم کی زبوں حالی کی کلیتا، ایک ھزار فیصد زمہ دار اس مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام حاکمین، اکابرین، بیرو کریسی اور پوری اشرافیہ ھے جسکی ناقص، منافقانہ، خالصتاً مفاد پرستانہ کارکردگی کے باعث ھم اقوام عالم میں نشان عبرت بنادئیے گئے ہیں۔ اب یہ حرام خوری ختم ھونی چاہیئے، تمام فضول تعیشات اور تکلفات ختم ھونے چاھئیں، قومی معیشت پر بوجھ کا خاتمی ھونا چاھئے، وطن کی بقا و بہبود ھر حال میں مقدم ھے یاد رھے!! بیشتر اشرافیہ ملک سے فرار ھورہی ھے؟ کسی کو ملک سے باہر نکل جانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیئے۔ ای سی ایل کنٹرول میں تمام مجرمان اور انکی سہولت کے زمہداروں کے نام ڈالے جائیں۔ افوج پاکستان کے تمام ذمہداروں سے درخواست ہے کہ ھم، آپکے ھم وطن عوام اسلامی جمہوریہ پاکستان، ملتمس ھیں کہ وطن پاک کی بقاء و بہبود اور سلامتی کے اپنا ملی و آئینی کردار ادا کریں۔۔ انشاء اللہ آپ مثبت و تعمیری کردار ادا کرسکتے ھیں۔۔ سینئر صحافی صغیر قریشی صاحب مزید لکھتے ھوئے کہتے ھیں کہ جو کچھ ھوا افسوسناک اور کسی صورت قابل برداشت نہیں، نہ صرف پاک فوج بلکہ ملک کی تمام فورسز بشمول ھماری پولیس اور دیگر ایجنسیاں، قابل قدر و افتخار ملک و ملت ھیں، اجتماعی طور خرابیاں ھر جگہ ھیں، من حیث القوم ھم سب کہیں نہ کہیں ذمہدار ضرور ھیں؟ اگر کچھ لوگ یا متعصب و نا اہل قسم کے افسران ماورائے عقل و دانش عصبیت زدہ لسانیت کا پرچار کرتے ہیں تو اپنی ذات میں انفرادی طور پر خطا کار ھوتے ھیں، لہٰذا ھم اجتماعی طور پر اس دہشتگردی کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں اور شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے ھیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ، شہدا کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اس معرکے میں زخمی ھونے والوں کو صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے، آمین ثم آمین یارب العالمین وسلام۔۔۔سینئر صحافی صغیر قریشی صاحب مجھ ناچیز سے مخاطب ھوکر لکھتے ھیں کہ میرے محترم ارجنٹائن ھی نہیں بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں شہری اپنی زندگی کے فیصلے نہ صرف خود کرتے ہیں بلکہ اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال بر ملا اور براہ راست کرتے ہیں کیوں کہ وہ جانتے ھیں کہ صارف وہ ھیں!! اشیائے خوردونوش یا اشیائے ضرورت کے خریدار وہ ھیں !! انہیں بنانے والے یا بیچنے والے نہیں؟ صارف عوام ھے حکومت یا کارخانہ دار و دکاندار نہیں؟ دودھ، دھی، انڈے، مرغی، مچھلی، گوشت، سبزیاں حتیٰ کہ آلو، ٹماٹر، پیاز یا کچھ بھی ھو؟ خریدار آپ ھیں!! آپ خریدیں گے تو چیز فروخت ھوگی؟ آپ نہیں خریدیں گے تو پڑی رہے گی!! خراب بھی ہوسکتی ہے، بعض اشیاء سڑ بھی جاتی ھیں۔ لہٰذا مہنگائی کا علاج ھمارے اپنے بس میں ھے۔ ھمیں اپنی قوت خرید کی اہمیت کا ادراک ھونا چاھئے؟ ھم بلیک میل ھونے کی بجائے اپنے اجتماعی عمل سے زندگی کے ھر شعبہ میں منافع خوروں، بلیک میلروں اور تاجروں کو سبق سکھائیں آئیں من حیث القوم اپنی طاقت کو پہچانیں۔۔۔۔معزز قارئین!! مجھ سمیت ھمارے بیشتر صحافی، عمائدین شہر، سماجی و مذہبی مفکرین اور عملی ماہرین و دانشور سب اپنی اپنی جگہ اس قوم اور ریاست پاکستان کے محافظوں و امینوں اور دردمند و احساس رکھنے والوں کو متواتر بیدار کرنے کی کوشش میں سرگرداں رھیں اور پاکستان کو بیرونی آقاؤں کے غلاموں کے شکنجے سے باہر نکالنے کیلئے بھرپور کوششیں جاری رکھیں کیونکہ یہ ملک بڑی قربانیوں اور جدوجہد کے ساتھ ساتھ اللہ واحد لاشریک اور محمد مصطفیٰ رسول خدا خاتم الانبیاء و ختم الرسل نور مجسم ﷺ کی رضا سے معروض وجود میں آیا ھے۔ عالم اسلام میں پاکستان واحد ملک ھے جو ایٹمی طاقت کا حامل ھونے کے سبب اسلام کا قلعہ تصور کیا جاتا ھے۔ عالم اسلام پاکستان کیساتھ کھڑا ھے اور ہمیشہ کھڑا رہنا چاہتا ھے مگر بے بس و مجبور ھیکہ جب تک یہ کرپٹ ترین، راشی ترین، بددیانت، بے ایمان اور عیاش و بے حس تمام کے تمام سوائے چند ایک کے سیاستدان، اشرفیہ، حکمران، بیوروکریٹس، مذہبی رہنما اور جسٹس کیخلاف جب تک احتساب اور سزاؤں کا عمل یقینی طور پر نہ کیا گیا تو ایک جانب ملک تو دوسری جانب عوام برباد و تہس نہس ھوجائیگی۔ اس وقت صورتحال یہ ھے کہ حکمران تاجر اور میڈیا مالکان امیر سے امیرترین ھورھا ھے اور عوام غریب سے غریب ترین ھورھے ھیں۔ امیر عیش و عیاشی میں زندگی بسر کررھے ھیں جبکہ غریب غرباء بھیک مانگ کر وقت گزار رھے ھیں اصل میں اور حقیقت میں سب سے زیادہ متاثر مڈل کلاس درمیانے طبقہ کے لوگ ھیں جو اپنی سفید پوشی اور عزتِ نفس کے سبب نہ جی پارھے ھیں اور نہ ہی موت۔ ھمارے شہر کے امیر و کبیر اور بیرونی ملک سے مالی مدد کرنے والے بھی تقسیم کار کو درست نہیں کرسکے اور ناحقوں کو نادانی اور لاعلمی کے سبب نوازتے رھتے ھیں جس سے مستحقین اور حقدار اپنے حق سے محروم ھوتے چلے آرھے ھیں۔ اب بھی وقت ھے کہ ھم اس وطن کے امینوں محافظوں قلم کا تقدس رکھنے والوں معاشرے و معاشی و اقتصادی ترقی دینے والوں تم سب پر گہری اور نہایت اہم ترین ذمہداری عائد ھوتی ھے کہ ملک و قوم کی بقاء و سلامتی کیلئے یکجا ھوکر متحد بن کر امن قائم کرکے غداروں اور انکے سہولتکاروں کے خلاف سخت ترین قدم بڑھانا ناگزیر ھوچکا ھے وہ ہاتھ کاٹ دو جو ملک و قوم کو جلادے وہ پیر کاٹ دو جو ملک و قوم کو مفلوج کردے وہ گردن اڑا دو جو قومی خذانہ لوٹ لے اب فیصلہ ھماری ریاستوں کے امینوں اور محافظوں کے سپرد ھے کیونکہ عدالتیں تجارت زدہ ھوچکی ھیں ممکن نہیں کسی میں ایمان اسلام اور پاکستان سے محبت باقی رہ گئی ھو یہ دالتوں کے ججز و جسٹس دولت کے بھوکے اور غلیظ جانور بن چکے ھیں۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین یا رب اللعالمین۔۔۔۔۔۔!!