حکومتی لوگوں کی دلچپسی صرف این آر او ٹو میں ہے،عمران خان
لاہور(مسائل نیوز) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومتی لوگوں کی دلچسپی صرف این آر او ٹو میں ہے،یہ معیشت کی زبوں حالی کے باوجود انتخابات کے انعقاد سے گھبرا رہے ہیں۔ عمران خان نے ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ سیاسی استحکام کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے کا واحد راستہ انتخابات ہیں،یہ حکومت دہشت گردی کو کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ اقتدار میں آکر جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے۔عمران خان نے کہا کہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے ساتھ جھگڑا میری ذات کا نہیں ہے،یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اقتدار میں آکر انکے خلاف کارروائی کریں گے۔
عمران خان نے سی پی این ای کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی تحلیل کے بعد نوے روز میں انتخاب نیوٹرلز کا اصل امتحان ہے۔
- Advertisement -
انہوں نے میری حکومت گرائی ، ادارے کو اپنا جائزہ خود لینا چاہئیے،اسمبلیاں ہر صورت تحلیل ہوں گی،اگر دوبارہ اقتدار میں آئے تو ان کا احتساب کریں گے جو خود کو احتساب سے بالاتر سمجھتے ہیں،کائنات کا بدترین شخص الیکشن کمشنر ہے۔ عمران خان نے کہا کہ قومی اسمبلی سے استعفوں کی منظوری کے لیے ارکان سپیکر کے پاس پیش ہوں گے۔ہمیں کہا جا رہا ہے کہ حکومت چھوڑی تو بڑا ظلم ہوگا اس کے باوجود ہم نے تحلیل کا فیصلہ کیا۔
ہم ایوانوں سے نکلیں گے تو 66 فیصد سیٹوں پر الیکشن ہوگا۔عمران خان نے کہا اگر الیکشن نہ کروائے تو پاکستان سیدھا سیدھا ڈیفالٹ کر جائے گا۔اگر ملک ڈیفالٹ ہو گیا تو ملک بہت پیچھے چلا جائے گا۔66 فیصد پاکستان میں الیکشن ہو گئے تو انہیں بھی عقل آ جائے گی۔عمران خان نے مزید کہا کہ جس وقت لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ہٹایا گیا تو پتہ چل گیا کہ حکومت گرانے کا پلان بن چکا ہے،میں نے جنرل (ر) باجوہ کو کہا تھا کہ اگر حکومت گرانے کا پلان کامیاب ہوا تو کوئی معیشت نہیں سنبھال سکے گا۔