MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

لیاری گینگ وار کی بالی وڈ میں انٹری! سنجے دت چوہدری اسلم اور اکشے کھنہ رحمان ڈکیت کے روپ میں نظر آئیں گے؟

0 128

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ممبئی(مسائل نیوز)بالی وڈ اسٹار رنویر سنگھ، ارجن رامپال اور اکشے کھنہ کی نئی فلم دھریندھر کا ٹریلر حال ہی میں ریلیز ہوا جو سوشل میڈیا پر خوب سرخیوں میں ہے لیکن ناظرین کا خیال ہے کہ فلم کا سب سے بڑا چیلنج سنسر بورڈ ہو سکتا ہے جو اس کی کامیابی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ فینز نے سوشل میڈیا پر سنسر بورڈ سے اپیل کی ہے کہ وہ فلم کے ساتھ مزاق نہ کرے۔

ٹریلر کی پذیرائی

فلم کے 4 منٹ کے ٹریلر نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی۔ ناظرین نے اسے ہائی اوکٹین ایکشن ڈرامہ قرار دیا اور رنویر سنگھ کی اداکاری کو سراہا۔ ارجن رامپال اور اکشے کھنہ کے وِلن کرداروں نے بھی خوب داد حاصل کی۔ فینز کا کہنا ہے کہ ارجن رامپال کا نیا روپ ان کے پرانے کرداروں سے بھی بہتر ہے جبکہ اکشے کھنہ کی دہشت انگیز اداکاری نے سب کو متاثر کیا۔

دنیا بھر میں بننے والی تمام فلموں کے ریویو اور ان کی ریٹنگ سے متعلق معتبر پلیٹ فارم آئی ایم ڈی بی کے مطابق فلم دُھریندھر ایکشن فلم ہے جو بھارتی حب الوطنی کے پس منظر میں انڈر ورلڈ کے سخت جرائم پیشہ ماحول اور حقیقی واقعات سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔

فلم سازوں نے اگرچہ باضابطہ طور پر یہ اعلان نہیں کیا کہ کہانی براہِ راست کراچی پولیس افسر چوہدری اسلم کی زندگی پر مبنی ہے مگر سنجے دت کے کردار اور فلم کے ٹریلر کی ٹون سے یہ تعلق نمایاں ہوتا ہے۔

چوہدری اسلم اپنی بہادری کراچی میں دہشت گردی اور گینگ وار کے خلاف کارروائیوں اور اپنے بے خوف لہجے کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ فلم میں سنجے دت کا کردار بھی اسی سخت مزاج، غیر روایتی پولیس افسر کی طرز پر بنایا گیا ہے جو نظام کی کمزوریوں کو جانتے ہوئے اپنے انداز میں جنگ لڑتا ہے۔

اس فلم میں کراچی کے مشہورِ زمانہ رحمان ڈکیت اور ایس پی چوہدری اسلم کے کردار دکھائے گئے لیکن بالی وڈ کی ماضی کی فلموں کی طرح اس فلم کا ٹریلر بھی بہ ظاہر پاکستان مخالف ہی لگتا ہے۔

سنسر بورڈ کا خوف

- Advertisement -

ناظرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ سنسر بورڈ فلم کے بولڈ سنیریوز اور تیز رفتار ایکشن کو کٹ کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ ایک صارف نے لکھاکہ دھریندھر کا ٹریلر بہت زبردست ہے لیکن سنسر بورڈ اسے خراب نہ کر دے جبکہ دوسرے صارف نے کہاکہ یہ فلم ہندی سنیما کے لیے نیا معیار رکھ سکتی ہے مگر سنسر بورڈ اس کی روح کو ختم نہ کر دے۔ کئی لوگوں نے سنسر بورڈ سے گزارش کی کہ وہ فلم کو اپنی اصل شکل میں رہنے دے۔

ڈائریکٹر اور اداکاروں کی رائے

فلم کے ڈائریکٹر ادیتیہ دھر نے ٹریلر ریلیز کے موقع پر کہا کہ یہ فلم انڈین پٹریاٹزم اور انڈرورلڈ کی کہانی کو ملاتی ہے جو ناظرین کے لیے ایک نیا تجربہ ہوگا۔ رنویر سنگھ نے ارجن رامپال کی محنت کی تعریف کی اور کہا کہ ان کا کردار فلم کا اہم حصہ ہے۔

لیاری گینگ وار: حقیقی تاریخ کا جائزہ

لیاری کراچی کا ایک تاریخی اور گنجان علاقہ ہے جسے پاکستان کا وائلڈ ویسٹ بھی کہا جاتا ہے، 2000 کی دہائی سے گینگ وارز کا شکار رہا ہے۔ یہ جنگز سیاست، جرائم، منشیات اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ پر مبنی تھیں جو مبینہ طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کی مقامی سیاسی رہنماؤں اور دیگر سیاسی جماعتوں جیسے ایم کیو ایم کے درمیان تنازعات سے جنم لی۔ گینگز نے علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ہزاروں لوگوں کی جانیں لیں اور پولیس انکاؤنٹرز نے اسے مزید شدت دی۔

اہم واقعات اور شخصیات؛

رحمان ڈکیت (عبدالرحمن بلوچ): فلم میں اکشے کھنا کا کردار اسی سے متاثر ہے۔ وہ پیپلز امن کمیٹی کا سربراہ تھا جو مبینہ طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت میں قائم ہوئی۔ 2013 میں پولیس انکاؤنٹر میں مارا گیا جسے اس کی بیوہ نے قتل عام قرار دیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے اس پر تحقیقات کا حکم دیا لیکن یہ متنازع رہا۔

 

چوہدری اسلم خان: سنجے دت کا کردار اسی سے لیا گیا۔وہ کراچی پولیس کے انکاؤنٹر اسپیشلسٹ تھے جو طالبان اور گینگز کے خلاف مشہور تھے۔ انہوں نے کئی آپریشنز کیے لیکن 2014 میں بم دھماکے میں مارے گئے۔ ان پر الزام لگا کہ وہ جعلی انکاؤنٹرز کرتے تھے۔

جاسوسی کا زاویہ: فلم میں بھارتی انٹیلی جنس (RAW) کی انفلتریشن دکھائی گئی ہے جو کچھ رپورٹس کے مطابق گینگ وارز کو پاکستان کی اندرونی کمزوریوں کو استعمال کرنے کے لیے فنڈنگ یا مداخلت سے جوڑتی ہے البتہ یہ حصہ فکشنل لگتا ہے کیونکہ حقیقی طور پر یہ مقامی جرائم کی جنگ تھی۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.