معاشی ماہرین نے ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ بتا دی
اسلام آباد (مسائل نیوز) انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ پاکستان میں امریکی ڈالر نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے، انٹر بینک میں ڈالر 5 روپے 80 پیسے مہنگا ہوکر 221 روپے کا ہو گیا. اوپن مارکیٹ میں ڈالر 6 روپے مہنگا ہوکر 222 روپے کا ہو گیا ہے۔معاشی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ملک میں جاری غیر یقینی سیاسی صورتحال کی وجہ سے ڈالر بڑھ رہا ہے۔
ڈالر ایک روپے بڑھنے سے 100 ارب روپے قرض بڑھ جاتا ہے۔ضمنی الیکشن کے بعد سیاسی بےیقینی میں اضافہ ہوا ہے۔حکومت کی وہ صورتحال نہیں تھی جو چار روز قبل تھی۔ڈالر کی قدر میں اضافے کی بڑی وجہ بیرونی ادائیگیاں بھی ہیں۔فچ کی رپورٹ آنے سے بھی معاشی صورتحال پر فرق پڑا ہے۔
پاکستان میں مہنگائی 21 فیصد بڑھ گئی ہے۔چیئرمین فاریکس ایسوسی ایشن ملک بوستان نے کہا کہ ملک میں سیاسی حالات کو جواز بنا کر بینک ڈالر کی قیمت میں سٹہ بازی کررہے ہیں جس کا اسٹیٹ بینک کو نوٹس لینا چاہیے انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں غیر ضروری طور پر ڈالر کی قیمت کو بڑھنے سے روکنا چاہیے، بینکس کی اجاراہ داری کے خاتمے کے لیے فوری طور پر ڈالر کی فاروڈ بکنگ پر پابندی عائد کی جائے تاکہ مارکیٹ میں پینک والی صورتحال کو روکا جا سکے یاد رہے کہ صرف کل سے اب تک ڈالر کی قدر میں چھ روپے سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے. دوسری جانب عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فِچ ریٹنگز نے پاکستان کے آﺅٹ لک کو مستحکم سے منفی کر دیا ہے فچ کے مطابق منفی ریٹنگ سال 2022 کے اوائل سے پاکستان کی بگڑتی لیکویڈیٹی اور بیرونی فنڈنگ صورتحال کی عکاسی کرتی ہے، آئی ایم معاہدے پر عملدرآمد، جون 2023 کے بعد فنڈنگ کے حصول پر خدشات ہیں، مالی سال 2023 میں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ، 10 ارب ڈالرز رہنے کے اندازے ہیں، زرمبادلہ ذخائر پر کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کے باعث دباﺅ ہے ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ مالی سال 22 میں 17 ارب ڈالرز رہا۔
[…] نیوز)ملک میں آخری کاروباری روز کے آغاز میں ڈالر کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ ، ملکی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ […]