بلوچستان میں ڈیجیٹل بھرتیاں موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہیں،وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی،پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون کی کاوشیں قابل ستائش ہیں،امید ہے بلوچستان پبلک سروس کمیشن میں بھی جدید تقاضوں کے مطابق بھرتیاں کی جائیں گی اور تین ماہ سے زیادہ کا وقت نہیں لیا جائیگا
کوئٹہ (مسائل نیوز)بلوچستان میں ڈیجیٹل بھرتیاں موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہیں،وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی،پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون کی کاوشیں قابل ستائش ہیں،امید ہے بلوچستان پبلک سروس کمیشن میں بھی جدید تقاضوں کے مطابق بھرتیاں کی جائیں گی اور تین ماہ سے زیادہ کا وقت نہیں لیا جائیگا
محکمہ خزانہ بلوچستان نے اس سمت میں عملی بنیاد رکھ دی ہے، اب ضروری ہے کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن بھی قبائلی اور فرسودہ نظامِ بھرتیوں سے نکل کر جدید ڈیجیٹل سسٹم کو اپنائے تاکہ بھرتیوں کا عمل نہ صرف تیز ہو بلکہ شفاف بھی ہو اور عوام میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو۔
فیڈرل پبلک سروس کمیشن اور پنجاب پبلک سروس کمیشن عالمی معیار کے مطابق ڈیجیٹل طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں، جبکہ بلوچستان میں آج بھی فیس گرین چالان، 17 گریڈ کے دستخط، خزانہ سے اسٹیمپ اور دیگر غیر ضروری روایات کے باعث امیدواروں کو مشکلات کا سامنا ہے اور عمل سالوں تک لٹکا رہتا ہے
- Advertisement -
ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کو پابند کیا جائے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے اندر اندر بھرتیوں کا عمل مکمل کرے تاکہ نوجوانوں کا وقت ضائع نہ ہو اور میرٹ پر فیصلے ہوں
ان ڈیجیٹل اصلاحات میں وزیراعلیٰ بلوچستان اور ان کی ٹیم بالخصوص عمران زرکونکی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں
اب جبکہ وہ پرنسپل سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، امید ہے کہ وہ مزید بہتری کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں گے۔یہ اقدام واقعی قابلِ ستائش ہے،اگلی دفعہ سسٹم کا سست ہونا یا انٹرنیٹ سمیت کسی بھی مسئلے کو پیش نہیں آنا چاہئیے اگر ہو بھی جاتا ہے تو اسکا دوری تدارک کیا جانا چاہئیے تاکہ عام عوام میں کسی قسم کا ابہام نہ ہو