پنجاب کے ضمنی انتخابات
تحریر: کنول زہرا
جولائی کے شروع ہونے سے قبل ہی 17 جولائی کا شور تھا, سترہ جولائی کے ضمنی انتخابات, جسے میدان جنگ ڈی کلئیر کیا جارہا تھا وہ تحریک انصاف نے اپنے نام کر لیا ہے, جس میں پی ایم ایم ایل این کی سیاسی میچورٹی قابل تعریف ہے, جبکہ پی پی 7 کی نیشت پر تحریک انصاف کا وہی رونا نظر آیا ہے جو ان کا وطیرہ ہے, خیر جناب تحریک انصاف کی اخلاقی اقدار پستی کوئی نئی بات تو نہیں ہے, ان کے جلسوں میں خواتین کے ساتھ بدتمیزی اتنی عام سی بات ہے کہ اسے شاید برا بھی نہیں سمجھا جاتا ہے, جب ہی عمران خان کی جانب سے اس کی روک تھام کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں کی جاتی ہے, پی تی آئی کی اخلاقی پستی کا مکمل عکاس سوشل میڈیا فارم بھی ہے جہاں لوگوں کی پگڑیاں اچھالنا بھی کوئی بڑی بات نہیں ہے, مطلب ذرا سی تنقید پر ذاتی حملے کرنا پی ٹی ائی کی غیر اخلاقی تربیت کی وہ پکی دلیل ہے, جس میں تبدیلی نا ممکن ہے, پی ٹی آئی کے اہم شخصیات جیسا کہ فیصل واڈا, شہباز گل, فیاض الحسن چوہان اور فواد چوہدری کا انداز بیان ہی دیکھ لیں, جس میں تہذیب و تمدن کا وہ قتل عام نظر آتا ہے کہ الامان الحفیظ, معیاری الفاظ کی ادائیگی سے تو پی ٹی ائی چیئرمین عمران خان بھی عاری نظر آتے ہیں, عوام اور فوج کے درمیان خلیج بنانے میں عمران خان نے دشمن ملک سے زیادہ فعال کردار ادا کیا ہے, پی ٹی آئی کے عہدے داروں نے اہم شخصیات کے نام لیکر دفاعی ادارے کو رسوا کرنے کی شرمناک کوششیں کیں, چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے مسٹر ایکس اور مسٹر وائی جسے فضول ناموں نے ان کی زہنیت کی عکاسی کی ہے, اب جبکہ پی ٹی آئی پنجاب کے ضمنی انتخابات جیت گئی ہے, تو کیا انہیں اپنے بیانات پر کوئی شرم و حیا آئی ہے, اخلاقی طور پر پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو اپنے بیانات, عوام کے دلوں میں فوج کی نفرت پیدا کرنے کی کوشش پر اور فضول نام لیکر اپنی بونگی تقاریر پر شرمندہ ہوکر سرعام معافی مانگنی چاہیں, پی ٹی ائی کے سپورٹر, وہاٹس ایپ گروپش کے صحافیوں اور یوٹیوبرز کو اخلافیات کا مظاہرہ کرکے شرمسار ہوکر اس ادارے سے معذرت کرنی چاہیں جو ملک کی سلامتی کا ضامن ہے, دراصل پی ٹی آئی کو بردبار ہونے کی شدت ضرورت ہے, جس قسم کی سیاسی میچورٹی کا مظاہرہ نون لیگ نے دیکھایا اس قسم کی قوت برداشت تحریک انصاف کو بھی دیکھانی ہوگی, کل تک عمران خان اپنے تقریروں میں اپنے ہی منتخب کردہ,چیئرمین الیکشن کمیشن کی شکل نہیں دیکھنا چاہ رہے تھے اب وہ کس منہ سے ان کا سامنا کرین گے? بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ جیت گئے تو انصاف ہوا ہار گئے تو دھاندلی کی ہوئی ہے, زرا سوچیں, اگر فارن فنڈنگ کیس عمران خان کے خلاف آ جاتا ہے تو کیا عمران خان اور ان کی جماعت میں اتنی اخلاقی برداشت ہے کہ مسکرا کر فیصلے کا خیر مقدم کریں, کیا آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی مسلم لیگ نون جیسی اخلاقیات کا مظاہرہ کرسکتی ہے? کیا عمران خان اپنی تقاریر میں بررباری لاسکتے ہیں?
کیا عمران خان اپنے اندر کے امپورٹڈ لوگوں سے جان چھوڑا سکتے ہیں?
کیا عمران خان فوج کے وقار کو مجروح کرکے جیت پر واقعی خوش ہیں?
فرض کریں عام انتخابات ہوجاتے ہیں اور عمران خان وزیراعظم بن جاتے ہیں تو کیا ان میں یہ اہلیت ہے کہ وہ نیوٹرلز کے بنا چل سکیں جبکہ ان کی حکومت بھی اسی وجہ سے گئی تھی کیونکہ پنڈی نے اسلام آباد سے دوری اختیار کی تھی اور شہباز شریف کے وقت میں بھی پنڈی اور اسلام آباد میں فاصلہ ہے تب ہی کار سرکار چل نہیں پا رہا ہے, تو کیا عمران خان چلاسکتے ہیں?
جی ہاں جو آپ کے دل نے کہا وہ ہی جواب ہے, نہیں نہیں نہیں کیونکہ عمران خان کو الزامات عائد کرنے کی عادت ہے, ان کی سیاست ہی دوسرے کے نام رکھنے, مذاق اڑانے اور اپنی ناکامی کا کسی دوسرے پر الزام کے حد تک محدود ہے مگر اب ان کی سب سے بڑی مخالف سیاسی جماعت مچورٹی کا مظاہرہ کر رہی ہے, وہ جیت بھی گئے ہیں, کیا وہ اپنی طرز سیاست میں کوئی تبدیلی لائیں گے جبکہ تبدیلی کے سب سے بڑے دعوے دار بھی وہ ہی ہیں