MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

وطن واپسی پر قومی ہاکی ٹیم کے کپتان اور کھلاڑی پھٹ پڑے، پرفارمنس پر اعتراضات کا کرارا جواب

0 10

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

لاہور (مسائل نیوز) ٹور پر بدانتظامی، غیر معیاری کھانا، رہائش اور ناروا سلوک پر آسٹریلیا سے وطن واپسی پر قومی ہاکی ٹیم کے کپتان اور کھلاڑی پھٹ پڑے۔

کپتان ہاکی ٹیم عماد بٹ نے کہا کہ 7 سال بعد پرو ہاکی لیگ کے لیے کوالیفائی کرنا بڑی کامیابی ہے، تاہم آسٹریلیا پہنچنے پر سڈنی ایئرپورٹ پر ہم 13 گھنٹے لاوارث پڑے رہے، ہوبارٹ سے آنے والی تمام خبریں درست ہیں، ہمیں منع کیا گیا کہ بات انڈیا پہنچ جائے گی، میں نے اور پلیئرز نے ویڈیو بھی بنا کر شیئر کی۔

کپتان ہاکی ٹیم نے کہا وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل سے مطالبہ کرتا ہوں کہ معاملے کا نوٹس لیں، پاکستان اسپورٹس بورڈ سے بات کی تو بتایا گیا کہ ہاکی فیڈریشن کو فنڈز دے دیے ہیں۔

عماد بٹ نے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ نے کھلاڑیوں سے زیادتی کی ہے، اس کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتے، 5 روز بعد ورلڈ کپ کوالیفائی راؤنڈ ہے اور ٹیم مینجمنٹ نے ایک ایک کھلاڑی سے پوچھا کہ ہمارے ساتھ ہو یا عماد بٹ کے، ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے اس ٹیم مینجمنٹ کے ساتھ مل کر کام نہیں کر سکتے، اگر یہ مینجمنٹ رہی تو ہمارے ہاتھ کھڑے ہیں۔

کپتان نے اس بات پر بھی شک کا اظہار کیا کہ معلوم نہیں ذمہ دار ہاکی فیڈریشن ہے یا پاکستان اسپورٹس بورڈ، جب دونوں ڈیپارٹمنٹ سے بات ہوتی ہے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالی جاتی ہے۔ عماد بٹ نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان ہاکی فیڈریشن کے کوڈ آف کنڈٹ کو نہیں مانتا، کھلاڑیوں پر پابندی لگانے کی بات کی جا رہی ہے، ان کو شرم آنی چاہیے۔‘‘

کپتان نے واضح طور پر کہا کہ ’’میں ٹیم کی پرفارمنس سے مطمئن ہوں، جن حالات میں اس نے پرفارم کیا بڑی بات ہے، ہمارے کھلاڑی ناشتہ خود بناتے رہے، برتن خود دھوتے رہے، جب کھلاڑی کو ریسٹ نہیں ملے گا وہ کیسے پرفارم کرے گا۔‘‘

- Advertisement -

عماد بٹ نے کہا کہ پاکستان ہاکی کو بہتر کرنے کے لیے پڑھے لکھے اور میرٹ پر بندے لانے چاہئیں، کچھ تلخ کلامی ضرور ہوئی تھی لیکن مینجمنٹ کو گالیاں دینے والی بات درست نہیں ہے، میرا کام ہے کھلاڑیوں کو میدان میں لے کر چلنا، گراؤنڈ سے باہر کے معاملات دیکھنا ٹیم مینجمنٹ کا کام ہے، سارے کھلاڑی میرے ساتھ ہیں، مینجمنٹ نے ہم سے جھوٹ بولا۔

انھوں نے کہا ڈی جی پی ایس بی نے 115 ڈالر ڈیلی الاؤنس کا اعلان کیا تھا لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کھلاڑی اپنے ڈیلی الاؤنس سے 3 وقت کا کھانا کھا سکیں۔

کھلاڑی محمد خان
محمد خان نے کہا پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ہم سے جو وعدے کیے وہ پورے نہیں ہوئے، آسٹریلیا میں جب ہوٹل پہنچے تو پتا چلا کہ ہماری بکنگ ہی نہیں ہے، آسٹریلیا میں ہم ایک دو دن سڑکوں پر رہے۔

انھوں نے بتایا آج بھی کھلاڑیوں کے 2023 کے ڈیلی الاؤنس باقی ہیں، پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کھلاڑیوں کے 30 لاکھ سے زائد کے واجبات دینے ہیں، جب میں ان فٹ ہوا تو سیکریٹری ہاکی فیڈریشن نے کہا پاکستان واپس آنا چاہتا ہوں، پاکستان واپس آنے کے بعد ہاکی فیڈریشن کی طرف سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

کھلاڑی رانا وحید
رانا وحید نے کہا ہم نے ہمیشہ اپنے ملک کو ترجیح دی ہے، واجبات کی عدم ادائیگی کے باوجود ہم آسٹریلیا کھیلنے کے لیے گئے، ساری ٹیم یک جا ہے اگر معاملات بہتر ہوں تو ٹیم پرفارم کر سکتی ہے، موجودہ مینجمنٹ کے ساتھ مل کر ہم کام نہیں کر سکتے۔

ڈائریکٹر پاکستان اسپورٹس بورڈ لاہور کا اعتراف
پاکستان ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کی لاہور ایئرپورٹ آمد کے موقع پر ڈائریکٹر پاکستان اسپورٹس بورڈ لاہور نورش صباح نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کو آسٹریلیا میں ناقص انتظامات ملے، کھلاڑیوں کو اچھی اکاموڈیشن نہ ملے تو وہ کیسے اچھا پرفارم کریں گے۔

نورش صباح نے کہا پلیئرز کو اچھی خوراک اور انتظامات ملیں تو کھلاڑی اچھا پرفارم کریں گے، میں پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کا استقبال کرنے آئی ہوں، پی ایس بی کھلاڑیوں کے ساتھ ہے، وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ انھوں نے کہا ہاکی فیڈریشن کو حکومت کی جانب سے فنڈز جاری کیے گئے تھے، ٹیم کی ناقص پرفارمنس پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کا آڈٹ کرایا جائے گا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.